180

اک ڈاؤن کے بعد ایک اورلاک ڈاؤن۔۔۔۔وقت کی اہم ضرورت

لاک ڈاؤن کے بعد ایک اورلاک ڈاؤن۔۔۔۔وقت کی اہم ضرورت
(ثمینہ ملک)
کرونا کا اصل نام کرونا کویڈ ۹۱۰۲ ہے لیکن اس وباء کا نام ہمارے لیے نیانہیں ہے۔یہ وائرس سب سے پہلے چائنہ میں ۳۰۰۲ء میں نمودارہوا۔سائنسدانوں نے اس وقت اسے سارس (sever acute respiratory syndrome coronavirus sarc-cov) کا نام دیا۔اس وباء کے ارتقاء کی کہانی بھی کچھ عجیب ہے۔اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ انسان خود ہے۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ زمانہ قدیم ہی سے انسان حرام وحلال کی تمیز نہیں رکھتاتھا۔انسان ہروہ چیز کھاتاتھا جوجسم اور روح کا رشتہ برقراررکھنے میں مددگارثابت ہوتی۔ کیڑے مکوڑے‘سانپ بچھو‘چھپکلیاں‘گھوڑے‘گدھے‘بلی کتے سب اس کی خوراک کا حصہ تھے‘حتٰی کہ سور جیسے ناپاک جانور تک کا گوشت آج بھی بہت سے مغربی ممالک میں بڑی رغبت سے کھایاجاتاہے۔سوران چند گندے ترین جانوروں میں سے ایک ہے جوانسانی فضلہ کھاتاہے۔سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پرہوتاہے۔خنزیر کے گوشت اور چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کے گوشت کے مقابلے میں تیس گنازیادہ ہوتے ہیں۔یہ جانوراس قدرزہریلاہوتاہے کہ اژدھے کے ڈسنے سے بھی نہیں مرتا۔عام گوشت کے مقابلے میں سورکے گوشت کے گلنے سڑنے کی رفتار تیس گنازیادہ ہوتی ہے‘یعنی عام گوشت کی نسبت اس کے گوشت میں جلدی کیڑے پڑجاتے ہیں۔اس کا گوشت کھانے والے میں بھی یہی خرابی پیداہوجاتی ہے۔سورکا گوشت کھانے سے جنسی اشتہا انگیزی تیزی سے بڑھتی ہے انسان حلال حرام کی تمیزکیے بغیر اپنے اس جذبے کی تسکین چاہتاہے۔
مشرق بعید کے لوگ آج بھی بندرکو شکنجے میں جکڑکر اس کے سرکو تیز دھارتلوارسے کاٹ کر اس کا مغز حاصل کرتے ہیں اورکچاہی کھاجاتے ہیں۔انسان کا حلال حرام کی تمیز کیے بغیر کھانا پینا بھی حیوانیات کے اجسام میں بستے وائرس اور جراثیم انسانی جسم میں منتقل کرنے کا سبب بن رہاہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے تاکہ وہ ہمیں بتاسکیں کہ ہمارے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ہمیں ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے جامع اصول دیے گئے تاکہ جس مقصد کے لیے ہمیں دنیامیں بھیجاگیا ہمیں جومقام اورمرتبہ دیاگیااس کوپہچانیں لیکن ہم اپنے مقام کوبھول گئے‘ہم اللہ کے احکامات سے انحراف کرنے لگے اور قدرت کے قوانین کے بجائے خود کے قوانین مرتب کرنے شروع کردیئے۔اللہ نے عورت کو گھرکی عزت اورمرد کے لیے غیرت کا باعث بنایا۔اسے اپنے آپ کوڈھانپنے کاحکم دیا گیا لیکن اس کی سرشت میں چھپی خودسری نے اسے اپنے مقام ومرتبے نیچے گرادیا۔عورت نے خودسری کی انتہاکردی اور فضا میں ایک نعرہ بلند ہوا”میراجسم میری مرضی“۔اس نعرہ مستانہ کوروکنے کی بجائے مرد جواس کی حفاظت کے لیے معمورکیے گئے انہوں نے بھی اپنی تسکین کی خاطر اس کا ساتھ دیا۔الغرض آج دنیاکے کونے کونے میں اللہ کے احکامات سے انحراف کے نعرے گونجنے لگے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بنی نوع انسان نے سرکشی اختیارکی‘تب تب قہر خداوندنازل ہوا۔آج ہم سب بھی اللہ کے قہرکا شکارہورہے ہیں۔یہ کرونا نہیں‘ہم پر اللہ کا عذاب ہے۔ہم نے اپنے اعمال سے اپنے رب کو ناراض کردیا ہے۔لیکن اللہ کا فرمان ہے کہ توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔یہ کرونا نہیں‘اللہ کی طرف سے ہمارے لیے ایک وارننگ ہے‘اپنے اعمال کو سدھارنے کی۔یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے اپنی اس وارننگ کا آغاز ایک ایسی قوم سے کیا جواخلاقی تباہی وبربادی کی انتہا تک جا پہنچی تھی۔
اللہ کا یہ قہر سب سے پہلے چائنہ پر ۳۰۰۲ء میں نازل ہوا۔سائنسدانوں نے اس وقت اسے سارس (sever acute respiratory syndrome coronavirus sarc-cov) کا نام دیا۔اس قہرخداوندی کی زدمیں آکر اس وقت بہت سے لوگ لقمہ اجل بنے اور اس تباہی کو کروناوائرس کانام دیاگیاجس نے اس وقت چائنہ میں بہت تباہی مچائی۔دوبارہ یہ وائرس ۲۱۰۲ ء میں سعودی عرب میں ابھرا۔یہ ایک ایسا وائرس ہے جو انسان کو انسان سے اس تیزی سے لگ جاتا ہے کہ انسان کب اس سے متاثر ہوا‘اسے خبر بھی نہیں ہوتی اور۴۱ دن کے اندراندر وہ لقمہ اجل بن جا تاہے۔اس وائرس کا بنی نوع انسان پر تیسرا حملہ ۹۱۰۲ء کے آخر میں چائنہ کے شہر ووہان پر ہوا اورپھر آہستہ آہستہ اس وباء نے پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس بیماری کا شکارہوکرمرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک جاپہنچی ہے‘جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ دنیا کے ہر کونے میں ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ سائنسدان اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود اس چھوٹے سے‘مگر خوفناک وائرس کا مقابلہ نہیں کرسکے۔ابھی تک کوئی ایسی ویکسین ایجاد نہیں ہوسکی جو اس کی روک تھام میں معاون ہوسکے۔ابھی اس سے مزید کتنی زندگیاں لقمہ اجل بنیں گی کچھ کہانہیں جاسکتا۔اس وائرس نے ہر ایک کو خوف اور دہشت میں مبتلا کردیا ہے۔انسان‘انسان سے خوفزدہ ہے۔سگے رشتے ایک دوسرے سے دوری اختیارکیے بیٹھے ہیں۔ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں کہ اگر ہم ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو ہم مرجائیں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ ایک انتہائی مہلک بیماری ہے جس نے بنی نوع انسان کی دنیا ہی تلپٹ کرکے رکھ دی ہے لیکن دنیا اس کاصرف تاریک پہلو دیکھ رہی ہے‘درحقیقت اس بیماری کا خوف اس قدر شدید ہے کہ اس کے روشن پہلو کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جارہا‘مگرہم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس وباء کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہوئے اس کے مثبت پہلوؤں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس جہاں ایک عالمی وبا ء کی صورت میں منظر عام پرآیا ہے‘ وہیں یہ وائرس کرہ ارض پر انسانیت کا سب سے بڑا محسن بھی ثابت ہواہے ۔دیکھاجائے تو اس وباء کی وجہ سے کرہ ارض کا آلودگی کا گراف (pullution level)پچاس فیصد نیچے آگیا ہے۔اب کوئی شخص چاند پر کھڑاہوکر زمین کی طرف دیکھے تو وہ دوربین کے بغیر سات براعظموں کو الگ الگ دیکھ سکتاہے۔وہ زمین کی حرکت بھی نوٹ کرسکتاہے اور سوتے جاگتے شہروں کا اندازہ بھی کرسکتاہے۔یہ وباء اور گلوبل لاک ڈاؤن زمین کو انیسویں صدی میں لے گیا ہے۔فضا دُھل گئی ہے او ر ہواؤں میں سبزے کی مہک واپس آچکی ہے‘اور یہ کوئی چھوٹامعجزہ نہیں۔دنیامیں پچھلے ایک ماہ میں اموات کی شرح میں ستر فیصد کمی واقع ہوگئی ہے۔
دنیامیں اموات کی دس بڑی وجوہات ہیں۔۱۔دل کے امراض ۲۔ کینسر ۳۔حادثات۴۔سانس کی بیماریاں ۵۔دورے۶۔الزائمز۷۔شوگر ۸ا۔انفلوئنزا‘۹۔گردوں کے امراض ۰۱۔خودکشی
ایک عام اندازے کے مطابق ۹۱۰۲ ء میں ان وجوہات سے سات کروڑ باون لاکھ لوگ مرگئے۔ان میں سے آدھے بزرگ تھے۔مجموعی طورپر کرہ ارض پر روزانہ ڈیڑھ لاکھ لوگ مرتے ہیں لیکن جیسے ہی یہ وباء آئی‘شرح اموات میں کمی آگئی۔اموات میں کمی کی اب تک کی تین بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔پہلی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔خودکشی اور حادثات کے علاوہ اموات کی آٹھ بڑی وجوہات کے پیچھے ماحولیاتی آلودگی تھی۔گاڑیاں‘فیکٹریوں کا دھواں‘ساڑھے سات ارب لوگوں کی روزمرہ نقل و حرکت اور جنگلوں کی کمی نے فضامیں آلودگی پھیلارکھی تھی۔یہ آلودگی سانس کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتی تھی اور ہم بیمارہوتے چلے جاتے تھے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہوامیں دوقسم کی آلودگی پائی جاتی ہے۔ایک زمینی آلودگی اور دوسری فضائی آلودگی۔بادلوں سے نیچے کی آلودگی بارش سے کم ہوجاتی ہے جبکہ بادلوں سے اوپر کی آلودگی کی واحد وجہ ہوائی جہاز ہیں۔دنیامیں روزانہ تین لاکھ ہوائی جہاز اڑتے ہیں‘جوفضامیں آلودگی کاباعث بنتے ہیں۔فضائی ٹریفک سے پھیلنے والی یہ آلودگی بارش سے بھی ختم نہیں ہوتی۔اس فضائی آلودگی نے زمین کی پوری فضاتباہ وبربادکردی تھی۔حالیہ وباکی وجہ سے جہاں کاروبار زندگی تھما وہیں ائیر ٹریفک بھی بندہوگئی او رزمینی ٹریفک بھی۔فیکٹریوں کادھواں اور انسانی نقل و حرکت میں کمی بھی فضائی آلودگی میں کمی کاباعث بنی‘جس کے باعث ہماری جسمانی شکست وریخت میں کم ہوگئی۔دوسری وجہ ہماری خوراک ہے۔ہم سب جانوروں کی طرح کھاتے ہیں۔چائے‘کافی‘ برگرز‘شوارمے‘کیک‘پزے‘گوشت‘دالیں‘ان سب کا ٖضرورت سے زیادہ استعمال ہمیں بیمارکرتاہے۔جس کی وجہ سے اموات کی شرح میں بے انتہااضافہ ہوجاتاہے۔اموات کی بڑھتی ہوئی شرح کی تیسری وجہ چوہادوڑ(Rat Race)ہے۔جس طرح چوہوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ کس طرف کو دوڑناہے‘ہم بھی انہی کی طرح بس سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔کبھی خوراک کے لالچ میں تو کبھی حسد ہمیں دوڑاتا ہے۔ہم انسان بھی چوہے ہیں جو لالچ کی دلدل میں گرتے ہیں‘پھنستے ہیں اور پھر مرتے ہیں‘لیکن ہم ایک دوسرے سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ہم دوسروں سے آگے نکلنے کے حسدمیں پھانسی تک چڑھ جاتے ہیں لیکن سبق حاصل نہیں کرتے۔یہ چوہادوڑ(Rat Race) اور حسد اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ہم دوڑ رہے تھے‘گر رہے تھے‘دوڑ دوڑ کرتھک کر مررہے تھے لیکن پھریہ وباء آئی اور دوڑنے اور دوڑنے والوں کودیکھ کردوڑنے والے دونوں رک گئے۔چوہادوڑ(Rat Race)بند ہوگئی۔سارے چوہے اپنے اپنے گھروں میں‘اپنے اپنے بلوں میں قرنطینہ لینے پرمجبورہوگئے۔یوں حسدکاگراف بھی نیچے آگیا‘اورآلودگی بھی کم ہوگئی۔ہم نے خوارک بھی کم لینی شروع کردی۔ریستواران‘قہوہ خانے‘شراب خانے بندہوگئے اورہم نے گھر کی بنی چیزوں پراکتفاکرناشروع کردیا۔جس سے ہماری صحت بھی بہترہوگئی۔اب ہم سب گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک کا استعمال کرتے ہیں۔یعنی نمود ونمائش بھی ختم۔۔
اس دوران ایک دو اور اچھی باتیں بھی ہوئیں۔ہمارے دماغو ں پردفتری کاموں کادباؤ تھا‘لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بھی ختم ہوگیا۔سماجی نفسانفسی انسا ن کو چیرٹی اور فلاح سے دورلے گئی تھی۔انسان‘انسان کے درد سے ناواقف ہوگیا تھا‘اوریہ حقیقت ہے کہ انسان جب کسی دوسرے کی مدد کرتاہے تو اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوجاتاہے۔انسان اندرسے مضبوط ہوجاتاہے۔اس وباء نے ہمیں انسانیت سے قریب کردیا۔چنانچہ دنیامیں شر ح اموات کم ہوگئیں۔اس وباء کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حواکی بیٹی پردے میں آگئی۔اللہ نے اپنی ہرتخلیق کو پردے میں پیداکیاہے اور عورت تو اس کائنات کی سب سے قیمتی اور خوبصورت تخلیق ہے۔اللہ نے اپنی اس تخلیق ”عورت“کو سات پردوں میں چھپاکررکھنے کاحکم دیاہے تو پھر ہم یاآپ کون ہوتے ہیں اس حکم سے انحراف کرنے والے۔ ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں‘ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتاکہ ہم اپنی ذات‘اپنے جسم کواپناکہیں۔ہمیں اللہ نے پیداکیاہے اور ایک روز ہمیں اللہ کی رضا سے اپنے پروردگارکے پاس واپس جاناہے تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں ’میراجسم میری مرضی‘۔میراجسم میری مرضی کہنے والی نہ صرف عورتیں پردے میں ڈال دی گئیں بلکہ ان کا ساتھ دینے والے مرد حصرات بھی ”باپردہ کردیئے گئے‘اوریہ اس وباء کا بنی نوع انسان پر بہت بڑا احسان ہے۔دنیایقینا اس وباء کے خطرے سے باہرنکل آئے گی۔ہم انسان لاکھوں سال سے ہرقسم کی وباء کامقابلہ کرتے آرہے ہیں۔دنیامیں ایک ایساوقت بھی آیا تھا جب کرہ ارض پر صرف دوہزارلوگ باقی رہ گئے تھے‘لیکن ہم انسان دوہزارسے ساڑھے سات ارب ہوگئے۔ہم اس وباء کوبھی شکست دے دیں گے لیکن اس وباء کے بعد اقوام متحدہ کو پوری دنیاسے ایک گلوبل لاک ڈاؤن چارٹرسائن کروانا چاہیے۔اس چارٹر کے مطابق پوری دنیا ہرتین ماہ بعد ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کردے۔دنیاکے تمام ائیرپورٹس‘ریلوے‘اسکول‘بندرگاہیں‘ دفتر‘فیکٹریاں‘پارکس‘اور ریسٹورنٹس بندکردیے جائیں۔انسان جہاں جہاں ہو‘وہیں روک دیاجائے۔نہ صرف ریڈیو‘ٹیلی ویژن بلکہ فون‘انٹرنیٹ‘ اور اخبارات بھی بندکردیے جائیں۔یہ سہ ماہی لاک ڈاون اس کرہ ارض کو ایک بارپھر تیارکردے گا اوریہ زمین ایک مرتبہ پھررہنے کے قابل جگہ بن جائے گی‘ورنہ اگلا کرونا سپرکرونا ثابت ہوگااوریہ دنیاکی آبادی کوایک بارپھر ساڑھے سات ارب سے دوہزارپر لے جائے گا اور انسان ایک مرتبہ پھر پتھر کے دورسے زندگی شروع کرنے پرمجبورہوجائے گالہٰذا زمین پر زندگی بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کے بعد ایک اور لاک ڈاؤن لازم کردیاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں