169

شروع اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان، رحم فرمانے والا ہے

پس (اے محمدﷺ) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو۔ جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن۔ (یہ قرآن) پیغام ہے۔ سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے۔(سورة الأحقاف۔آیت نمبر35)

حدیث نبویﷺ

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو قطعی طور سے دعا کرے (یعنی یوں کہے: یا اللہ! بخش دے مجھ کو) اور یوں نہ کہے: ”اگر تو چاہے بخش دے مجھ کو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں“ (تو وہ جو کام کرتا ہے اپنی خوشی اور مرضی ہی سے کرتا ہے۔ پس بندے کو یہ شرط لگانے کی کیا ضرورت ہے اس میں ایک طرح کی بےپروائی نکلتی ہے۔غلام کو چاہیے کہ اپنے آقا سے گڑگڑا کر مانگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں