71

غلطی ہوگئی……سوری!

نوخیزیاں / گل نوخیزاخترغلطی ہوگئی……سوری! ایک الٹرا ماڈرن لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ سے کہا کہ ایسا کرتے ہیں تجرباتی طور پر شادی کر لیتے ہیں اگر ہم نے محسوس کیا کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے تو ہم ہنسی خوشی علیحدہ ہو جائیں گے۔لڑکی نے اطمینان سے پوچھا ”وہ تو ٹھیک ہے لیکن غلطی کو پالے گا کون؟“ ایسی تو نہیں البتہ اس سے ملتی جلتی کئی غلطیاں ہم روز کرتے ہیں۔میں ایک ایسے صاحب کو جانتا ہوں جویسی ایسی غلطیاں کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ موصوف شادی والے دن بھی غلطی سے گھوڑے پر بیٹھنے کی بجائے ڈولی میں جا بیٹھے تھے۔اُن کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کی پہلی غلطی تھی۔ جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ بعد میں انہوں نے نکاح نامے پر دستخط بھی کیے تھے۔دفتروں میں کام کرنے والے ”آفس بوائے“بھی ایسی ایسی ہولناک غلطیاں کرتے ہیں کہ بعض اوقات بندہ مرتے مرتے بچتا ہے‘ میں اپنے آفس سے نکلا تو آفس بوائے سے پوچھا”لفٹ چل رہی ہے؟“ کہنے لگا”جی سر! لیکن اس کی اندر کی لائٹ خراب ہے‘ بالکل اندھیرا ہے“۔ میں نے سوچا کوئی بات نہیں موبائل کی لائٹ آن کرلوں گا۔لفٹ کے پاس پہنچا تو اس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ آفس بوائے نے تیزی سے کہا”سر جلدی کریں کہیں دروازہ بند نہ ہوجائے“۔ میں نے فوراً موبائل کی لائٹ جلائی اور ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ اچانک کوئی خیال آیا۔میں نے ایک پاؤں تھوڑا سا آگے کرکے لفٹ کے فلور کو چیک کیا تو میرے ہوش اڑ گئے‘ نیچے فلور ہی نہیں تھا۔پیچھے سے آفس بوائے کی مزید بے چین آواز آئی”سر رُک کیوں گئے ہیں اندر چلیں ناں“۔ میں نے گھوم کر اس کی طرف دیکھااور بے بسی سے پوچھا”اے تیرہ بخت انسان! کوئی دوسری نوکری مل گئی ہے تو چپ چاپ چلے جاؤ‘ مجھے کیوں پانچ منزلہ عذاب سے دوچار کرنا چاہ رہے ہو“۔ اُس نے اپنی کنپٹی کھجائی”میں سمجھا نہیں سر! کوئی غلطی ہوگئی؟؟؟“ میں نے دانت پیس کر کہا”ذرا لفٹ کے اندر جھانک کر دیکھو“۔اُس نے چونک کرلفٹ کی طرف دیکھا‘ پھر نیچے جھانکا اور دانت نکال کر بولا”ویسے سر! اگر آپ ایسے ہی اندر داخل ہوجاتے تو ایک سیکنڈ میں نیچے پہنچ سکتے تھے“۔میں نے اس کے کندھے تھپتھپائے”بیٹا ڈائریکشن ٹھیک کرلو، نیچے نہیں مزید اوپر پہنچ جاتا‘۔ سب سے پیاری غلطیاں بچے کرتے ہیں‘ آج سے دس بارہ سال پہلے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں شادی کی تقریب تھی۔ میرے ہمسائے خواجہ صاحب بھی اپنے تین سالہ بچے کے ہمراہ شریک تھے۔ شادی کی یہ تقریب ایک بہت بڑے سیاستدان کے بیٹے کی تھی۔ خواجہ صاحب کو ہر جگہ اپنی امارت جھاڑنے کا بہت شوق ہے۔ بات دہی بڑوں کی بھی چل رہی ہو تو اچانک بول اُٹھتے ہیں ’ہم نے پچاس انچ کا ٹی وی لیا ہے‘۔قبلہ دُنیا کے واحد شخص ہیں جنہوں نے اپنے ساڑھے تین مرلے کے گھر کے باہر سو اپانچ مرلے کی نیم پلیٹ لگا رکھی ہے جس پر جلی حروف میں تحریر ہے’دولت خانہ‘۔اسی نیم پلیٹ کی وجہ سے اُن کے ہاں چار دفعہ ڈاکو تشریف لاچکے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر گھر کی کوئی چیز نہیں لوٹتے بلکہ خواجہ صاحب کی پھینٹی لگا کر چلے جاتے ہیں۔واپس فائیو سٹار ہوٹل کی طرف چلتے ہیں، خواجہ صاحب سے غلطی یہ ہوئی کہ اتنی بڑی تقریب میں اپنے تین سالہ بچے کو ساتھ لے گئے۔ میں اُس چھوٹے گوریلے سے واقف ہوں، انتقام پر اتر آئے تودہشت گردوں بھی مات دے جاتا ہے۔ کھانے کا وقت ہوا تو اس نے اچانک بھاں بھاں رونا شروع کردیا۔ خواجہ صاحب نے پہلے تو بڑے پیار سے اسے چپ کراتے رہے۔پھر بھی بات نہ بنی تو اسے زور سے چٹکی کاٹ لی۔ اس ننھے کمانڈر نے چٹکی کا انتقام براہ راست اپنے باپ سے لینے کی بجائے مجھ سے لیا۔میں قریب ہی کھڑا تھا، اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ایک لمحے میں اپنے خونخوار دانت میرے بازو میں گاڑ دیے۔میری ہولناک چیخ سے فائیو سٹار ہوٹل کے درو دیوار تک لرز اُٹھے۔ وہ بدمعاش بجائے چپ کرنے کے مزید اونچا رونے لگا۔سیاستدان صاحب قریب آئے۔ بڑے پیار سے خواجہ صاحب کے بیٹے کو گود میں اٹھا لیا اور پوچھنے لگے ”کیوں بھئی شہزادے رو کیوں رہے ہو؟“خواجہ صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے لمبی چھوڑی”بات یہ ہے جی کہ میں نے کل ہی نئے ماڈل کی گاڑی خریدی ہے، ابھی رجسٹریشن نہیں کروائی اور یہ مجھ سے ضد کر رہا ہے کہ نئی گاڑی کی سیر کروائیں“۔ سیاستدان نے چھوٹے گوریلے کو پچکارا”اوہ تو یہ بات ہے“ پھر پوچھا ”بیٹے کون سی گاڑی پر سیر کرو گے میرے والی یا ابو والی؟“۔اُس نے جھٹ سے کہا”آپ والی!“۔سیاستدان نے حیرت سے پوچھا”کیوں کیا ابو والی گاڑی اچھی نہیں؟“ جواب نفی میں آیا””نہیں اِس کا دندا تبھتا ہے اور ابا اس تی دھنتی بھی نئیں بدانے دیتا (نہیں!اس کا ڈنڈا چبھتا ہے اور ابا اِس کی گھنٹی بھی نہیں بجانے دیتا) اُس نے پورے خلوص کے ساتھ خواجہ صاحب کی مٹی پلید کی اور پھر میری طرف دیکھ کر دانت نکال دیے۔خواجہ صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کھڑے کھڑے قرنطینہ میں چلے جائیں۔میں نے جلدی سے کہا’اصل میں یہ بچہ اپنی چھوٹی سائیکل کو بھی گاڑی ہی کہتا ہے‘۔سیاستدان نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور خواجہ صاحب نے تشکر بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔ جونہی سیاستدان دوسری طرف گیا، خواجہ صاحب آہستہ سے میرے کان میں بولے’گاڑی میں نے بک کروا لی ہے لیکن ڈلیوری نہیں مل رہی‘۔ تو جناب آئیے ہم بھی مشینی زندگی سے ہٹ کر کوئی غلطی کرتے ہیں۔یقین کیجئے ہفتے میں ایک آدھ ایسی غلطی ہمارے مزاج شگفتہ کر دے گی اور زندگی بھر اس غلطی کی یاد ہمارے ذہنوں کو فریش رکھے گی۔ یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہماری بڑی غلطیوں کا صدقہ ثابت ہوں گی۔ہمیں خود پر ہنسنے موقع ملے گا۔ہمیں احساس ہوگا کہ ہم بھی انسان ہیں اور یہ جو ہمارے اندر فتور پیدا ہوچکا ہے کہ ہم بڑے پرفیکٹ ہیں اِسے بھی ٹھڈے مارکر دو ر بھگانے میں بڑی مدد ملے گی۔غلطیاں نہ ہوں تو انسان خود کو طاقتور سمجھنے لگ جاتا ہے۔ لہذا بہت ضرور ی ہے کہ سارا دن دوسروں کی غلطیاں ڈھونڈنے کی بجائے اپنی غلطیاں ڈھونڈیں اور اگر نہ ڈھونڈ پائیں تو جان بوجھ کر کوئی غلطی کردیں تاکہ اپنا آپ ٹیسٹ ہوسکے کہ ابھی تک انسان ہی ہیں یا کسی اور مرتبے پر فائز ہوگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں