194

قدیم سے جدید کا سفر-طاہرہ سلطان

 قدیم سے جدید کا سفر
(طاہرہ سلطان)

اس روئے زمین کے اوپر روشنی کی رفتار کا مقابلہ کرتے  تیزی سے جو مخلوق  تنزلی کا شکار ہوئی ہے وہ کوئی اور نہیں  حضرت انساں یعنی اشرف المخلوقات ہے۔ اس مخلوق کا آغاز باوا آدم سے ہوا اور ابھی تک سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس کے دوران اس مخلوق نے بہت سے سفر طے کیے مگر سب سے دلچسپ سفر جو رہا ہے وہ قدیم سے جدید تک کا سفر ہے اس سفر کے دوران اس نے بہت نقصان اٹھایا ہم اپنے طور پر اس سفر کا تجزیہ کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے زیادہ سے زیادہ نقصان ہی اٹھایا ہے ۔ قدیم سے جدید سفر کا تجزیہ کریں اور اس پر روشنی ڈال ہیں ہم دیکھیں گے ہمارے ورثاء نے ہمارے لیے کیا چھوڑا اور ہم نے  کیسے اسکو  استعمال کرکے آج کے اس صنعتی دور میں کھڑے ہوئے ۔اگر سارا نہیں تو صرف اور صرف پچھلی ایک صدی یعنی بیسویں صدی کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہماری جدیدیت کا سفر یا ہماری جدیدیت کتنی جاذبیت رکھتی ہے اور اپنا کلچر اپنے نیا گان کہن کے وقار کو بلند کیا ہے ہے ہماری سمجھ میں آجائے گا ۔اگر ٹیکنالوجی کی مثال لے لیں آج سے کچھ سال پہلے تین اپریل 1973 کو مارٹن کوپر  امریکن شہری نے اس دنیا کے باشندوں کے ہاتھوں میں موبائل ڈیوائس تھما دی ۔صرف اور صرف اس نے انسانی فائدے کے لئے بنائی تھی مگر ہم نے اس ڈیوائس نے نے بہت سی نئی چیزیں جو کہ یورپین کنٹریز اور چائنا نے کی ہیں بنا لیں۔ ڈیوائس کے اندر کیمرے کا استعمال سیکھا فا اس کے علاوہ اس میں ایپ کے متعلق بھی جانکاری حاصل کرتے رہتے ہیں مگر ہم نے اس کو بطور ڈیوائس یا  ٹیکنالوجی سپورٹر یوز نہیں کیا یا فی الحال ہم اس ڈیوائس کو  فائدے کے لئے استعمال نہیں کر پا رہے   ہم نے اس ڈیوائس کے اندر قدیم سے جدید کا سفر طے کیا وہ  یہ ہے کہ گوگل 1998 سےیوٹیوب2005 سے ہوتا ہوا فیس بک 2004 وٹس ایپ 2009   ٹک ٹاک 2017 تک کا سفر مکمل کیا اس سفرمیں ہم نے نہ جانے کتنے لوگ کھو دیے ہیں جو اس قوم کے لئے بہترین سرمایہ ثابت ہوسکتے تھے ہم نے اس ڈیوائس کو کو میلوں دور بیٹھے اجنبی شخص کو وقت دینے میں ضائع کردیا ہم اس ڈیوائس کے اوپر اس کو پکڑے ہوئے دن رات انگلیوں کے پوروں کو 120 کی سپیڈ سے دن رات ٹائپ کرنا میں وقت لگا دیا اگر ہم سوچیں کہ ہم اس ڈیوائس کو کیسے بہتر استعمال کرسکتے تھے تو وہ یہ ہے کہ ہم اس کو اسلام پھیلانے میں  تعلیمات کو دنیا تک پہنچانے میں استعمال کرسکتے تھے مگر ہماری نوجوان نسل اس کے غلط استعمال میں دھت دن رات رہتی ہے اور اپنا قیمتی وقت اس میں ضائع کرنے میں مصروف عمل دکھائی دیتی ہے ہے اس نے ہمیں بہت کچھ دیا لیکن وہ سارا باقی ممالک نے دیا ہے۔ ہماری نسل نے اس کو صرف استعمال 70to 80 پرسنٹ نیگیٹو میں استعمال کیا۔  جس ملک کے باشندے نے  یہ ڈیوائس بنائی اسی صدی کے اندر اسی قوم کی عورتیں کیا کر رہی تھیں ان میں سے ایک کا ذکر یہ ہے جس کا نام تھا Barbara McClintockتھا امریکن جینیاتی ماہر تھی  جس نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ کےمکئ کے پودے کے مشاہدے میں گزار دی ۔ا 1930 کے اندر اس نے ،staining techniqueکو ڈویلپ کیا اور مکئی کی  کروموسومز کو بیان کیا جس کی بدولت آج ہم جینوم پڑھنے کے قابل ھوئے ھیں حالانکہ یہ پودا ہمیں آج بھی عام لگتا ہے لیکن ایک عورت نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ اس کا مشاہدہ کرنے میں گزار کر  اس کا علم ہم تک پہنچایا اصل  جدیدیت کیا ہے کہ جس چیز کا آپ کو نہیں پتہ ہے آپ اس کو مشاہدہ کرکے  اس کے اندر جو چیزیں  انسانی فائدہ کے لئے ہیں استعمال کریں اور ہم آج 21 ویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو کو کون سا مضمون پڑہانا ہے کہاں پڑھانا ہے ہم نے بیٹی کو کالج بھیجنا ہے یا نہیں ہم نے موبائل ڈیوائس کمپیوٹر لیپ ٹاپ گوگل کرنا ہر چیز سیکھی مگر ہم نے قدیم سے جدیدیت کا سفر جو اصل سفر ہے وہ نہیں سیکھ بار ہم نے صرف اور صرف مغرب کی تقلید کرنا سیکھی۔   مغرب نے علم حاصل کرنے کے لئے قلم کو پکڑ نا تک ہمارے اسلاف سے سیکھا
°تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
 ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فروا ہو
ہمارے اسلاف کی تاریخ  وہ ہے جس کو پڑھ کر آج کا انسان انگشت بدنداں  ہو جائے۔ ہمیں جدیدیت کے سفر میں گندم نما جو فروش کا پتہ ہونا چاہئے چاہئے کہ کس جدیدیت کو جو دنیا ہمیں دکھا رہی ہے ہمیں اپنانا ہے یا نہیں ۔جدیدیت کی ضرورت  علم کے اندر ہے جو ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے اندر سلیبس  آج سے بیس تیس  پرانا چل رہا ہے سائنس کے اندر اتنی روزبروز اتنی ایجادات اور دریافت ہو رہی ہیں مگر ہم آج سے بیس تیس سال پرانی کتاب پڑھنے پر مجبور ہے ہمیں اور ہمارے آج کے دور کا علم حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔پاکستان کے اندر تعلیم میں جدیدیت کا یہ حال ہے کہ اس وقت پاکستان میں 22.8 ملین بچے جن کی عمریں پانچ سے 16 کے درمیان ہے سکولوں سے باہر ہیں ۔ یہ اپنی عمر کے گروپ کے بچوں میں تقریبا 40 پرسنٹ ہے۔ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جس کے  بچے سکول سے باہر  ہیں۔ مغربی ممالک سا ئنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ابھی تک ہم اپنے بچوں کی بڑی تعداد کو سکول بھی نہیں بھیج سکے۔ ہمارے ملک میں بہت سی اسکول ہیں جو صرف اور ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔یونیسکو کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی52٪ بنگلہ دیش کی کی73٪ سری لنکا کی 92٪ہے۔ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم نے اپنے آنے والی نسل کو کونسی زبان پڑھانی ہے حالانکہ ہماری قومی زبان اردو ہے یونیسکو کے مطابق دنیا میں تیسری بڑی زبان بولی جانے والی اردو اس کے بولنے والے اس کے سمجھنے والے اس کو لکھنے والے جاننے والے دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں ہیں لیکن ہم نے بذات خود اس کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا۔ کیا ہم اپنے بچوں کو آکسفورڈ سلیبس یا مغربی زبان میں پڑ ھنا چاہتے ہیں  چاہے کوئی بھی زبان ہو مگر سب سے پہلے ہمیں ترجیح اپنی قومی زبان کو دینا ہو گی ہے۔کیونکہ ہر انسان ان ہر علم جتنی آسانی سے اپنی زبان میں سیکھ سکتا ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں سکتا  اسی لئے قرآن پاک کو اللہ تعالی نے عربی زبان میں اتارا کیونکہ اہل عرب کی زبان عربی تھی اور وہ عربی کے اندر اسلامی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے تھے حالانکہ کہ دنیا میں اس وقت بھی بہت سی زبانیں موجود تھی قرآن پاک کو عربی زبان میں اتار,ا یہ بھی ایک عقلی بات تھی۔ اگر ہم بھی اردو زبان کو چھوڑ کر کسی اور زبان کے اندر اپنے بچوں کو اپنی گفتگو کو اسی انداز میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو اس میں سراسر ہمارا نقصان ہوگا۔ اگر ہم قدیم سے جدید کا سفر اپنی زبان کے اندر دیکھیے یعنی اردو کے اندر تو حیرانی ہوگی کہ اس زبان کے اندر جتنی جدیدیت آئی ہے اتنی شاید کسی زبان میں آئی ہو۔

بقول بابائے اردو مولوی عبدالحق
” جس اصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی ہے۔ پتے نکلتے ،شاخیں پھیلتی ،پھل پھول لگتے ہیں اور ایک دن وہی ننھا سا پودا ایک تناور درخت ہوجاتا ہےاسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی ہے بڑھتی اور پھیلتی پھولتی ہے”
ہماری زبان اردو جس کا آغاز تب ہوا جب مسلمان فاتحین ہندوستان میں قدم رکھا یعنی 712 میں جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا تھا تھا اس کے بعد سندھ کے اوپر طویل عرصہ تک اموی اور  عباسی سلطنت کا قبضہ رہا لیکن محمد بن قاسم اور اس کے لشکر نے حملہ کیا تو اس میں سے کچھ سپاہی ایسے تھے جو عربی جانتے تھے ترکی جانتے تھے ۔ تو ان زبانوں کی وجہ سے سندھ میں مقامی زبان پر بہت اثر ہوا اور جس کا اثر آج تک موجود ہے جو ہمارے سامنے اردو کی زبان  شکل میں ہے ۔سندھ کی قومی زبان ،ترکی، فارسی اور عربی   کے اختلاط جب شروع ہوا تو ہمارے سامنے ایک مخلوط زبان سامنے آئی جس کا نام اردو رکھ لیا گیا یا کچھ اسکو اردو معلی , ریختہ, دکنی، گجراتی،  ہندوستانی کہتے تھے اور اب اس وقت اس کو اردو کہا جاتا ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک مرکب زبان ہے اس نے بہت سی زبانوں کے الفاظ چرائے ہیں ۔ہمارے پاس پرتگالی زبان ہے کچھ الفاظ ہیں جیسے کہ راکٹ ،چابی، صابن ،صوفہ، مقناطیس وغیرہ۔ اس کے علاوہ ترکی کی زبان کے بھی کچھ الفاظ موجود ہے جس میں اتالیق، ازبک،  باجی ،بندہ، بیرم، بیگم ،توپ ،تلاش وغیرہ ۔
بقول انشاءاللہ خان انشاء
“اور ہر وہ لفظ جو اردو میں آگیا ,اردو کا ہے”
  یعنی  آج بھی  کسی بھی زبان کا لفظ جو اردو کے اندر آ جائے وہ اردو کا ہی سمجھا جاتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ڈیڑھ ارب لوگ اردو جانتے ہیں اور بولتے ہیں۔ جب ہماری اپنی قومی زبان اتنا قدیم سے جدیدیت کا سفر طے کر چکی ہے تو ہم اسے اپنی کامیابی کا ماخذ کیوں نہیں جانتے؟ ہم اس کو اتنی اہمیت کیوں نہیں دیتے جتنی یہ حقدار ہے۔قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا
” اردو زبان ہے جسے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے پرورش کیا ہے, اسے پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سمجھا جاتا ہے. یہ وہ زبان ہے جو دوسری صوبائی اور علاقائی زبانوں سے کہیں زیادہ اسلامی ثقافت اور اسلامی روایات کے بہترین سرمایہ پر مشتمل ہے اور دوسرے اسلامی ملکوں کی زبانوں سے قریب ترین ہے. یہ بات بھی اردو کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ بہت اہم ہے کہ بھارت نے اردو کو دیس نکالا دے دیاہے حتی کہ اردو رسم الخط کو بھی ممنوع قرار دیا ہے، البتہ پاکستان کی سرکاری زبان جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام وتفہیم کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ اردو ہے۔ اردو کے سوا اور کوئی زبان نہیں”
ااگ ہم بحثیت قوم اپنا قدیم سے جدیدیت کا سفر بہترین طے کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہوگا کہ ہم دوسروں کی زبانوں کو اپنے معاشرے اپنے کلچر اپنی ثقافت کا حصہ بنانے کی بجائے اگر اپنی زبان پر زیادہ توجہ دیں  تو ہمارے مستقبل تابناک ہو سکتا ہے۔

علامہ اقبال نے کہا ہے

کپاکستان کے اندر تعلیم میں جدیدیت کا یہ حال ہے کہ اس وقت پاکستان میں 22.8 ملین بچے جن کی عمریں پانچ سے 16 کے درمیان ہے سکولوں سے باہر ہیں ۔ یہ اپنی عمر کے گروپ کے بچوں میں تقریبا 40 پرسنٹ ہے۔ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جس کے  بچے سکول سے باہر  ہیں۔ مغربی ممالک سا ئنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ابھی تک ہم اپنے بچوں کی بڑی تعداد کو سکول بھی نہیں بھیج سکے۔ ہمارے ملک میں بہت سی اسکول ہیں جو صرف اور ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔یونیسکو کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی52٪ بنگلہ دیش کی کی73٪ سری لنکا کی 92٪ہے۔ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم نے اپنے آنے والی نسل کو کونسی زبان پڑھانی ہے حالانکہ ہماری قومی زبان اردو ہے یونیسکو کے مطابق دنیا میں تیسری بڑی زبان بولی جانے والی اردو اس کے بولنے والے اس کے سمجھنے والے اس کو لکھنے والے جاننے والے دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں ہیں لیکن ہم نے بذات خود اس کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا۔ کیا ہم اپنے بچوں کو آکسفورڈ سلیبس یا مغربی زبان میں پڑ ھنا چاہتے ہیں  چاہے کوئی بھی زبان ہو مگر سب سے پہلے ہمیں ترجیح اپنی قومی زبان کو دینا ہو گی ہے۔کیونکہ ہر انسان ان ہر علم جتنی آسانی سے اپنی زبان میں سیکھ سکتا ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں سکتا  اسی لئے قرآن پاک کو اللہ تعالی نے عربی زبان میں اتارا کیونکہ اہل عرب کی زبان عربی تھی اور وہ عربی کے اندر اسلامی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے تھے حالانکہ کہ دنیا میں اس وقت بھی بہت سی زبانیں موجود تھی قرآن پاک کو عربی زبان میں اتار,ا یہ بھی ایک عقلی بات تھی۔ اگر ہم بھی اردو زبان کو چھوڑ کر کسی اور زبان کے اندر اپنے بچوں کو اپنی گفتگو کو اسی انداز میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو اس میں سراسر ہمارا نقصان ہوگا۔ اگر ہم قدیم سے جدید کا سفر اپنی زبان کے اندر دیکھیے یعنی اردو کے اندر تو حیرانی ہوگی کہ اس زبان کے اندر جتنی جدیدیت آئی ہے اتنی شاید کسی زبان میں آئی ہو۔

بقول بابائے اردو مولوی عبدالحق
” جس اصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی ہے۔ پتے نکلتے ،شاخیں پھیلتی ،پھل پھول لگتے ہیں اور ایک دن وہی ننھا سا پودا ایک تناور درخت ہوجاتا ہےاسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی ہے بڑھتی اور پھیلتی پھولتی ہے”
ہماری زبان اردو جس کا آغاز تب ہوا جب مسلمان فاتحین ہندوستان میں قدم رکھا یعنی 712 میں جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا تھا تھا اس کے بعد سندھ کے اوپر طویل عرصہ تک اموی اور  عباسی سلطنت کا قبضہ رہا لیکن محمد بن قاسم اور اس کے لشکر نے حملہ کیا تو اس میں سے کچھ سپاہی ایسے تھے جو عربی جانتے تھے ترکی جانتے تھے ۔ تو ان زبانوں کی وجہ سے سندھ میں مقامی زبان پر بہت اثر ہوا اور جس کا اثر آج تک موجود ہے جو ہمارے سامنے اردو کی زبان  شکل میں ہے ۔سندھ کی قومی زبان ،ترکی، فارسی اور عربی   کے اختلاط جب شروع ہوا تو ہمارے سامنے ایک مخلوط زبان سامنے آئی جس کا نام اردو رکھ لیا گیا یا کچھ اسکو اردو معلی , ریختہ, دکنی، گجراتی،  ہندوستانی کہتے تھے اور اب اس وقت اس کو اردو کہا جاتا ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک مرکب زبان ہے اس نے بہت سی زبانوں کے الفاظ چرائے ہیں ۔ہمارے پاس پرتگالی زبان ہے کچھ الفاظ ہیں جیسے کہ راکٹ ،چابی، صابن ،صوفہ، مقناطیس وغیرہ۔ اس کے علاوہ ترکی کی زبان کے بھی کچھ الفاظ موجود ہے جس میں اتالیق، ازبک،  باجی ،بندہ، بیرم، بیگم ،توپ ،تلاش وغیرہ ۔
بقول انشاءاللہ خان انشاء
“اور ہر وہ لفظ جو اردو میں آگیا ,اردو کا ہے”
  یعنی  آج بھی  کسی بھی زبان کا لفظ جو اردو کے اندر آ جائے وہ اردو کا ہی سمجھا جاتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ڈیڑھ ارب لوگ اردو جانتے ہیں اور بولتے ہیں۔ جب ہماری اپنی قومی زبان اتنا قدیم سے جدیدیت کا سفر طے کر چکی ہے تو ہم اسے اپنی کامیابی کا ماخذ کیوں نہیں جانتے؟ ہم اس کو اتنی اہمیت کیوں نہیں دیتے جتنی یہ حقدار ہے۔قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا
” اردو زبان ہے جسے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے پرورش کیا ہے, اسے پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سمجھا جاتا ہے. یہ وہ زبان ہے جو دوسری صوبائی اور علاقائی زبانوں سے کہیں زیادہ اسلامی ثقافت اور اسلامی روایات کے بہترین سرمایہ پر مشتمل ہے اور دوسرے اسلامی ملکوں کی زبانوں سے قریب ترین ہے. یہ بات بھی اردو کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ بہت اہم ہے کہ بھارت نے اردو کو دیس نکالا دے دیاہے حتی کہ اردو رسم الخط کو بھی ممنوع قرار دیا ہے، البتہ پاکستان کی سرکاری زبان جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام وتفہیم کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ اردو ہے۔ اردو کے سوا اور کوئی زبان نہیں”
ااگ ہم بحثیت قوم اپنا قدیم سے جدیدیت کا سفر بہترین طے کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہوگا کہ ہم دوسروں کی زبانوں کو اپنے معاشرے اپنے کلچر اپنی ثقافت کا حصہ بنانے کی بجائے اگر اپنی زبان پر زیادہ توجہ دیں  تو ہمارے مستقبل تابناک ہو سکتا ہے۔

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت 

وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں