اسرائیلی فوج کی بمباری میں اپنے والدین کو کھودینے والی بچی جولیا کو فلسطینی بلاگر نے گود لے لیا اور اس کی نئی تصاویر اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کردیں۔
غزہ پر اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری ہے، 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک 11 ہزار 261 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں 4 ہزار 506 بچے اور 3 ہزار 27 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ 27 ہزار 490 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی بمباری میں سیکڑوں لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور متعدد بچے اپنے والدین سے محروم ہوگئے ہیں، ایسی ہی ایک بچی جولیا کی ویڈیو گزشتہ روز سامنے آئی تھی جو اپنے شہید ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے رو رہی تھی، جبکہ لوگ اس موقع پر اسے دلاسہ دینے میں مصروف تھے۔
فلسطینی بلاگر اسماعیل جود نے جولیا کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا تھا اور اب اس نے جولیا کی تازہ تصاویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔
اسماعیل جود نے بچی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا کہ جولیا کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اس ظالم اور بے انصاف دنیا میں پیدا ہوئی ہے، کرہ ارض کا ہر انسان جسے غزہ کے بچوں اور مکینوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں نے چھوا تک نہ ہو وہ اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔
فلسطینی بلاگر نے مزید کہا کہ مگر سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جولیا اکیلی بچی نہیں ہے جس نے اپنے خاندان کو کھویا ہے، غزہ میں ایسے سیکڑوں بچے ہیں جو بمباری اور بربریت کی وجہ سے اپنے خاندانوں سے محروم ہوئے ہیں۔