ایم آرآئی کی مدد سے گرم مقناطیسی موتیوں سے کینسر کے علاج میں پیشرفت

برکلے، کیلیفورنیا: کینسر کے علاج میں سب سے ضروری یہ ہوتا ہے کہ دوا براہِ راست رسولیوں یا سرطانی خلیات پر ڈالی جائے تب ہی بہترین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے ایم آرآئی کی مدد سے مقناطیسی دانوں کو سرطانی پھوڑوں پر ڈال کر انہیں گرم کرکے کینسرختم کرنے کا انوکھا طریقہ پیش کیا ہے۔

یہ عمل قدرے آسان اور سادہ ہونے کے ساتھ خود مریض کے لیے بھی کم تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو ’منیمل انویزو امیج گائیڈڈ ایبلیشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں میگنیٹک ریزوننس امیجنگ (ایم آرآئی) سے مقناطیسی خواص والے باریک موتیوں کو دھکیل کر رسولی والے مقام تک لے جایا جاتا ہے۔ پھر منزل سے قبل انہیں گرم کرکے کینسر کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایڈوانسڈ سائنس میں شائع رپورٹ کے مطابق اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر مارک لتھجو نے چوہوں پرآزمایا ہے۔ اسے انتہائی درست طریقہ علاج قرار دیا گیا ہے جس میں خردبینی شکل کے مقناطیسی دانے بدن میں داخل کرکے انہیں ایم آرآئی مشین کی بدولت باہر سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس طرح گرم کرنے کے بعد وہ کینسرکے خلیات کو ختم کرتے ہیں مگر تندرست خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان باریک دانوں کو تھرموسیڈز کا نام دیا گیا ہے جن کی زیادہ سے زیادہ موٹائی دو ملی میٹر ہوتی ہے۔

ایک اور سائنسداں، پروفیسر ریبیکا بیکر نے اسے باقاعدہ ایک تھراپی قرار دیا ہے۔ چونکہ ایم آرآئی عکس بندی میں جسم کے اندر کی تفصیلی عکس بندی سامنے آتی ہے اس لیے ماہرین مقناطیسی موتیوں کو آگے جاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے کسی چیرپھاڑ کی ضرورت نہیں رہتی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے دماغ کے کینسر کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے جس کا علاج کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔

چوہوں پر اس کے نہایت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ تاہم اب بھی انسانوں پر آزمائش میں چند سال لگ سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں