چوکیدار اور عمران خان نیازی

نیوٹرلز کے بعد اب نیازی صاحب نے چوکیدار چوکیدار کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ وہ لوگوں کو فوج کے خلاف یہ کہہ کر بھڑکا رہے ہیں کہ اگر گھر پر چور قبضہ کرلیں اور چوکیدار تماشہ دیکھتے رہے تو کیا قوم ان سے نہیں پوچھے گی لیکن یہ اسی طرح کی بے بنیاد اور بے وقوفانہ منطق ہے جس طرح کی انہوں نے نیوٹرلز کی نیوٹریلٹی یا امریکی سازش کے بارے میں اپنائی تھی۔

پتہ نہیں عمران نیازی نے گھر میں چوکیدار رکھے نہیں یا پھر انہوں نے اپنے گھر میں چوکیداروں کو مداخلت کا اختیار دیا ہے یا نہیں جو اس طرح کی غیرمنطقی دلیل دیتے اور ان کے فالورز یا سہولت کار اینکرز اس پر سر دھنتے رہتے ہیں۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں چوکیدار کا بنیادی کام یہ ہے کہ گھر کے اندر گھر کے مالک کی مرضی کے بغیر کوئی گھسنے نہ پائے یا پھر باہر سے آکر کوئی گھر کو نقصان نہ پہنچائے۔

گویا چوکیدار کی بنیادی ڈیوٹی گھر کی چار دیواری اور گیٹ سے باہر ہے۔ گھر کے اندر اگر اس کے مکینوں کا آپس میں تنازعہ ہوجائے تو اس میں چوکیدار کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جاتی۔

گھر کا چوکیدار گزشتہ کئی برسوں میں اپنا اصل کام چھوڑ کر گھر کے اندرونی معاملات میں دخیل ہوگیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ عمران خان پہلے سے گھر کا مالک تھا اور اس نے گھر کا چوکیدار لگایا تھا بلکہ اس نے گھر پر ناجائز قبضے کے لئے چوکیدار کی خدمات حاصل کی تھیں۔ چوکیدار کی خوشامد کی تھی ۔ اس کے بوٹ پالش کئے تھے۔

چنانچہ گھر کا چوکیدار گیٹ اور چاردیواری کی بجائے گھر کے اندرونی معاملات میں دخیل ہوگیا۔ اس نے گھر کے ایک مکین (میاں نواز شریف) کو (اقتدار) گھر سے نکالا۔ اس مقصد کے لئے گھر کے دوسرے مکین عدلیہ کو بلیک میل کیا۔ چوکیدار نے عمران خان کی خاطر گھر کی خواتین یعنی مریم نواز اور فریال تالپور جیسی خواتین کو بھی جیلوں میں ڈالا۔

گھر کے ایک اور مکین یعنی چیئرمین نیب کو آڈیو ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرکے ان سے گھر کے ایک اور سابق مالک شاہد خاقان عباسی اور آصف زرداری کو جیل میں ڈلوایا ۔ گھر کے سب سے شریر بچے کے کیسز کو سرد خانے میں ڈال دیا۔ عمران خان کی خاطر چوکیدار نے گھر کے ایک اور اسٹیک ہولڈر (میڈیا) کو تقسیم کیا۔ کچھ کو بدنام کیا۔ کچھ کو غدار قرار دلوایا گیا۔ کچھ کی زبان بندی کرادی۔ پھر چوکیدار نے گھر کے ایک اور اہم مکین چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو عمران خان کے لئے روبوٹ میں تبدیل کیا۔

حالانکہ وہ دونوں عوام کے ووٹ کے چوکیدار تھے، وہ مگر خود چوری میں شریک ہوگئے۔ چوکیدار نے ان سے الیکشن کے وقت آر ٹی ایس سسٹم فیل کروایا۔ پھر پولنگ اسٹیشنوں کے چوکیداروں (پولنگ ایجنٹوں) کو باہر نکالا اور عمران خان کے حق میں ٹھپے لگوائے۔ پھر چوکیدار نے گھر کے مکین عدلیہ اور میڈیا کے ماتھے پر بندوق رکھ کر منع کیا کہ وہ الیکشن کے دوران ہونے والی چوری کا ذکر نہیں کریں گے۔

پھر جب چوکیدار نے دیکھا کہ جبر سے گھر کے مالک بنائے گئے عمران نیازی سے ملک نہیں چل رہا ۔ کسی پڑوسی یا دوست کے ساتھ وہ چل نہیں سکتے تو چوکیدار نے ضامن بن کر ان کے دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ معاملات درست کرائے۔ تاہم، چوکیدار تو مسئلہ حل کرتے مگر عمران خان نیازی بگاڑتے رہے۔ عمران نیازی نے گھر کی معیشت بھی تباہ کرکے رکھ دی۔ چوکیدار انہیں سمجھاتے رہے لیکن وہ باز نہیں آئے۔

انہوں نے گھر کے اپنے ساتھی اور بھائیوں کو بھی ناراض کیا چنانچہ یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر بننے کی صورت میں عملا ان پر عدم اعتماد ہوگیا۔ گھر کا بالجبر بنایا ہوا مالک عمران نیازی ایک بار پھر چوکیدار کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ وہ ان کے گھر کے مکینوں کو درست کرالیں۔ چنانچہ چوکیدار نے کسی کو کنٹینر میں بند کیا، کسی کو باتھ روم میں اور کسی کو سیف ہائوس میں۔

یوں صبح عمران نیازی کے حق میں ان سے جبری ووٹ ڈلوا دیا ۔ عمران خان کو بندوق کے زور پر گھر کا مالک بنانے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے سوا باقی ملک چوکیدار کے خلاف ہوگیا، چوکیدار نے گھر کا ایک حصہ یعنی سندھ زرداری صاحب کے حوالے کیا تھا، اس لئے وہ تو کسی حد تک مصلحت سے کام لیتے رہے لیکن مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، اسفندیارولی، اختر مینگل ، نواز شریف ہوں یا کوئی اور سب کی توپوں کا رخ چوکیدار کی طرف رہا۔

وہ معیشت کی تباہی اور سفارتی رسوائی کے لئے چوکیدار کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ۔ میڈیا میں بھی ان کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ بیرونی دنیا میں بھی چوکیدار پر تنقید ہونے لگی۔ چنانچہ چوکیدار تائب ہوگیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ مزید صرف گھر کی چوکیداری کریں گے اور گھر کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں۔

اب ظاہر ہے کہ عمران خان چوکیدار کی غیرقانونی سپورٹ اور بیساکھیوں کی وجہ سے گھر کے مالک بنے تھے اور جب انہوں نے اپنے آپ کو چوکیداری تک محدود کرلیا تو عمران خان گھر پر ناجائز قبضہ برقرار نہ رکھ سکے۔ اگرچہ گھر کے بیشتر علاقے یعنی پنجاب، پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان پر بدستور چوکیدار کا دلوایا ہوا ان کا ناجائز قبضہ قائم ہے لیکن گھر کا مرکزی حصہ شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کے قبضے میں آگیا۔

تب سے عمران خان کبھی چوکیدار کو للکارتے ہیں، کبھی ان کا منت ترلہ کرتے ہیں ، کبھی ان سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں ، کبھی انہیں بلیک میل کراتے ہیں ، کبھی زلمے خلیل زاد سے سفارشیں کرواتے ہیں اور کبھی عوام کو ان کے خلاف ورغلاتے ہیں۔ ان کا چوکیدار سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ چوکیداری کی بجائے گھر کے اندر گھس کر شہباز شریف وغیرہ کونکال دے اور دوبارہ انہیں گھر کا ناجائز قبضہ دلوا دے، جبکہ چوکیدار ماضی کے اس تجربے کی وجہ سے اپنی اصل ڈیوٹی کرنے پر مصر ہے۔

اب یا تو عمران خان چوکیدار کی تعریف کو نہیں سمجھتے اور یا اقتدار سے محرومی کے بعد اس قدر حواس باختہ ہوگئے ہیں کہ چوکیدار سے ناجائز مطالبہ کررہے ہیں۔ بظاہر تو یہ نعرہ بڑا دلکش ہے کہ چوکیدار نے فلاں چور کو کیوں نہیں روکا اور قوم ان سے پوچھے گی لیکن حقیقت میں یہ مطالبہ آئین سے بغاوت ہے۔ کیونکہ آئین میں چوکیدار کا یہ کردار کہیں نہیں لکھا کہ وہ گھر کے اندر حکومت وقت کی طرف سے طلب کیے بغیر کوئی مداخلت کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں