کیا ورزش اور جسمانی مشقت سے وزن واقعی میں کم ہوتا ہے؟

نیو یارک: ایک امریکی سائنسدان اور مصنف ڈاکٹر رابرٹ جے ڈیوس نے کہا ہے کہ وزن کم کرنے کی امید پر روزانہ ورزش یا جسمانی مشقت کرنے والے لوگ جھوٹی امید کا شکار ہیں۔

اپنی حالیہ کتاب ’’سرپرائزڈ لائیز: ہاؤ متھس اباؤٹ ویٹ لاس آر کیپنگ اس فیٹ‘‘ (حیرت انگیز جھوٹ: وزن میں کمی کی من گھڑت کہانیاں کیسے ہمیں موٹا کررہی ہیں؟) میں انہوں نے اس موضوع پر کئی پہلوؤں سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ وزن اور موٹاپا کم کرنے کےلیے ہمیں درست طور پر کیا کرنا چاہیے۔

اس کتاب میں انہوں نے وزن اور موٹاپے میں کمی سے متعلق درجنوں سائنسی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر 150 پونڈ (68 کلوگرام) وزنی کوئی شخص ہفتے میں 5 دن، روزانہ 30 منٹ تک تیز قدموں سے پیدل چلے تو اس کی صرف 140 کیلوریز جلیں گی۔

اتنی کیلوریز سافٹ ڈرنک کی ایک چھوٹی بوتل میں ہوتی ہیں لہذا اتنی کم مقدار میں کیلوریز جلنے سے اس کے وزن پر معمولی سا فرق بھی نہیں پڑتا۔

اس کے علاوہ، آرام کے دو دنوں میں وہ خوب کھاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا وزن کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتا ہے۔

ورزش سے موٹاپے میں کمی سے متعلق کی گئی تفصیلی تحقیقات کے نتائج بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر رابرٹ نے لکھا ہے کہ صرف معمولی ورزش کی بنیاد پر وزن میں کمی نہیں آتی جبکہ ڈائٹنگ بھی خاطر خواہ نتائج نہیں دیتی۔

البتہ روزانہ 90 منٹ تک تیز قدموں سے پیدل چل کر یا 30 منٹ تک تیز دوڑ کر یومیہ بنیادوں پر 400 سے 500 کیلوریز جلائی جاسکتی ہیں جو وزن میں معمولی کمی کا باعث بنتی ہیں۔

اگر اس کے ساتھ درست انداز میں ڈائٹنگ کا معمول بھی بنا لیا جائے تو چھ مہینے سے سال بھر میں وزن خاصا کم کیا جاسکتا ہے۔

اپنی کتاب میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ زیادہ وزن والے اکثر لوگ کھانے پینے اور آرام کے شوقین ہوتے ہیں لہذا وہ ڈائنٹنگ اور ورزش/ جسمانی مشقت کو اپنے لیے سزا سمجھتے ہیں؛ اور جب انہیں اپنی کوششوں کے جلدی اور بہتر نتائج نہیں ملتے تو وہ مایوسی کا شکار ہو کر انہیں ترک کردیتے ہیں۔

ڈاکٹر رابرٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ ورزش کررہے ہیں لیکن کم کیلوریز والی صحت بخش غذا استعمال نہیں کررہے تو وزن میں کمی کی امید رکھنا فضول ہے۔

تاہم اگر آپ روزانہ اچھی ورزش اور صحت بخش غذا کی صحیح مقدار بھی استعمال کررہے ہیں تو چھ ماہ یا ایک سال بعد آپ اپنے وزن میں چند کلوگرام کمی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں