آٹے سے لے کر پٹواری تک

ان دنوں ساری قوم پہلی بار یکساں قسم کے ”یکڑ بند‘‘ میں پھنسی ہے۔ غریب کو آٹا نہیں مل رہا اور امیر کو ڈالر نے تنگ و پریشان کر رکھا ہے۔ امپورٹر ‘ مینو فیکچرر اور اسی قبیل کے سارے کاروباری اور مل مالکان ڈالر کے حصول کیلئے خوار ہو رہے ہیں۔ کسی کی ایل سی نہیں کھل رہی اور کسی کا جہاز بندرگاہ پر پھنسا کھڑا ہے۔ عالم یہ ہے کہ اگر باہر سے کوئی بینک کے ذریعے پیسے بھجوائے تو اسے ایک ڈالر کے دو سو پچیس روپے ادا کئے جا رہے ہیں اور اگر کوئی بندہ اپنے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ سے آن لائن خریداری کرے تو بینک اس سے ایک ڈالر کے عوض دو سو پچانوے روپے وصول کر رہے ہیں یعنی بینک کے ذریعے باہر سے آنے والے اور آن لائن خریداری پر خرچ کئے گئے ڈالروں کی روپوں میں ادائیگی کے درمیان ستر روپے کا فرق ہے۔ ایسا ملکی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ پہلے یہ فرق پانچ سات روپے سے زیادہ نہیں ہوتا تھا مگر صرف اس فرق کو کیا روئیں‘ برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت بھلا اس سے پہلے ساڑھے پانچ سو روپے‘ پیاز کا بھاؤ اڑھائی سو روپے‘ انڈے تین سو روپے اور بھلا آٹا بھی ایک سو پچاس روپے کلو تک کب پہنچا تھا؟
جہاں تک آٹے اور گندم کا معاملہ ہے تو یہ دونوں اجناس (جو دراصل ایک ہی ہیں) اٹھارہویں ترمیم سے قبل بھی تقریباً صوبائی محکمہ خوراک کے زیر انتظام تھیں۔ صوبوں میں سرکاری خریداری محکمہ خوراک کرتا تھا اور وفاقی سطح پر پاسکو خریدار تھا۔ گندم کی سرکاری خریداری کا معاملہ اب بھی ویسا ہی ہے۔ صوبوں میں فوڈ سکیورٹی کا معاملہ متوازن رکھنے کی غرض سے صوبائی محکمہ خوراک گندم خرید کر سٹور کرتا ہے اور سال بھر فلور ملز کو سرکاری ریٹ پر طے شدہ کوٹے کے مطابق گندم فراہم کرتا ہے جو حکومت کے طے کردہ امدادی ریٹ پر عوام کو فراہم کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ چند چھوٹی چھوٹی خرابیوں اور ”معمول‘‘ کی کرپشن کے ساتھ بخیر و خوبی چل رہا تھا مگر ساکنانِ پاکستان کی روز افزوں بڑھتی ہوئی خواہشِ طلب نے جس طرح ہر معاملے میں کمیشن اور کرپشن کی شرح بڑھا دی ہے‘ ادھر بھی یہی معاملہ آن پڑا اور فلور ملز مالکان و محکمہ فوڈ کے افسران کی حصہ داری میں ضلعی انتظامی افسران اور سیاسی کھڑپینچوں کی شمولیت سے جہاں حصہ داروں کی تعداد دوگنی ہو گئی وہیں ہر فریق کی شرح طلب بھی دوگنی چوگنی ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آٹے کی سرکاری اور اوپن مارکیٹ کی قیمت میں فرق بڑھتے بڑھتے ڈبل سے بھی زیادہ ہو گیا۔ بائیس سو روپے فی چالیس کلو گرام کے ریٹ پر فراہم کی جانے والی سرکاری گندم کے مقابلے میں مارکیٹ میں گندم کا ریٹ پانچ ہزار روپے فی چالیس کلو گرام تک کی تاریخی بلندی تک پہنچ گیا۔ یہ صرف اور صرف نالائقی‘ نااہلی اور کرپشن کے باعث ہوا۔ اس کے علاوہ اس سارے بحران کی اور کوئی وجہ نہیں ہے۔
پاکستان کی گندم کی کل ماہانہ کھپت چوبیس لاکھ ٹن یعنی دو اعشاریہ چار ملین ٹن ہے۔ چاروں صوبوں کے محکمہ فوڈ اور درآمد کردہ گندم کا سٹاک مورخہ دس جنوری 2023ء کو چار اعشاریہ نو ملین ٹن کے لگ بھگ تھا۔ یعنی صرف سرکاری گوداموں میں پاکستان کی کل ضرورت کی دو ماہ کی گندم موجود تھی جبکہ مارچ کے وسط میں سندھ کی گندم کی تازہ فصل مارکیٹ میں آنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ صرف سرکاری ذخائر کی بات ہو رہی ہے اس میں وہ گندم شامل نہیں جو فلور ملز نے پرائیویٹ طریقے سے اوپن مارکیٹ سے خرید کر سٹاک کر رکھی ہے۔ گزشتہ چند سال سے پرائیویٹ انویسٹرز اور سمجھدار سرمایہ کاروں نے اس مد میں بینکوں سے پیسے لے کر گندم خرید کر سٹاک کر رکھی تھی اور انہوں نے اس سال گندم سے جتنا کمایا ہے اتنا تو شاید ہیروئن کے سمگلروں نے بھی نہیں کمایا۔
گزشتہ سال پاکستان میں گندم کی کل پیداوار اٹھائیس ملین ٹن تھی۔ پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے 4.43 ملین ٹن‘ سندھ‘ خیبرپختونخوا‘ بلوچستان اور پاسکو نے تقریباً 3.6 ملین ٹن گندم خریدی۔ یعنی گندم کی خریداری پر مامور پاکستان کے پانچوں سرکاری محکموں نے کل آٹھ ملین ٹن گندم خریدی۔ تقریباً تین ملین ٹن گندم وہ ہوتی ہے جو کاشتکار‘ زمیندار اپنے گھر کی سال بھر کی ضرورت کے مطابق اپنی فصل میں سے اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ ملین ٹن اگلی فصل کیلئے بیج کی مد میں رکھ لی گئی۔ اس طرح کل ملکی پیداوار اٹھائیس ملین ٹن میں سے کل ساڑھے بارہ ملین ٹن ان تین مدات میں نکل گئی اور باقی 15.5 ملین ٹن بچ گئی۔ یہ وہ گندم ہے جو فلور ملز مالکان‘ فیڈ ملز مالکان‘ پرائیویٹ انویسٹرز اور دوسرے صوبوں و افغانستان کو گندم سمگل کرنے والے‘ جن میں اکثریت کے پی کے ارب پتیوں کی ہے‘ خرید لیتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ گزشتہ سال گندم کے ان سمگلرز نے گندم کٹنے سے پہلے کاشتکاروں کو ایڈوانس میں ادائیگی کی اور گندم کٹنے پر اٹھا کر چلتے بنے۔ پنجاب اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور مرکز میں بیٹھی ہوئی طاقتور پختون لابی جس میں سیاسی پہلوان بھی شامل تھے اور بیورو کریسی میں ان کے سرخیل اعظم خان تھے جبکہ دوسری طرف پنجاب کی سربراہی تاریخی نااہل اور کمزور (انتظامی حوالوں سے نہ کہ کمائی کے حوالے سے) جناب سردار عثمان بزدار کے تہمت نما کندھوں پر تھی‘ لہٰذا پنجاب سے کے پی کے اور پھر وہاں سے افغانستان گندم کی سمگلنگ کی راہ میں عملی طور پر رتی برابر رکاوٹ نہیں تھی۔ سب سے زیادہ پیسہ بھی انہی سمگلروں نے بنایا۔
سندھ نے بہت کم خریداری کی کیونکہ کاغذوں میں ان کے گوداموں میں کئی ملین ٹن گندم موجود تھی جبکہ عملی طور پر ان سٹوروں میں پڑی ہوئی لاکھوں بوریوں میں کچرے اور مٹی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ وہ اس ناموجود سٹاک کے معاملے میں کسی خدائی مدد کے منتظر تھے اور نہایت ہی مہربان اور رحیم نے ان کی اس آس اور امید پر بھروسے کی لاج رکھتے ہوئے تاریخی بارشیں برسا دیں اور ان بارشوں میں جہاں عوام کا سب کچھ بہہ گیا وہیں سندھ حکومت کے گوداموں میں پڑی ہوئی ڈھیر ساری کاغذی اور ناموجود گندم بھی بہہ گئی۔
فلور ملز مالکان‘ محکمہ کے افسران‘ ضلعی انتظامیہ اور سیاسی کھڑپینچوں کی ملی بھگت‘ سرکاری گندم سے حاصل کردہ آٹے سے پیداگیری‘ بین الصوبائی بارڈرز پر تعینات محکموں کی چاندی‘ سمگلروں کے موج میلے اور انویسٹروں کی ساری لوٹ مار کو اگر چند لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ نااہلی‘ نالائقی اور کرپشن کی ایک ہوشربا داستان کے علاوہ اور کچھ نہیں جس کا ایک سرا سیاسی زور آوروں کی طرف سے مسلط کردہ ویلڈنگ کے کام سے اپنا کیریئر شروع کرنے والے چیئرمین فوڈ سے شروع ہوتا ہے اور سرکاری آٹے کے تھیلوں کی رشوت سے ہوتا ہوا خیبرپختونخوا کے راستے افغانستان تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ اربوں روپے کے خرچے سے لگائی جانے والی باڑ کا کیا مصرف ہے اور باقاعدہ بارڈر پوائنٹس کی رکھوالی پر کون مامور ہے کہ ملک سے گندم اور یوریا ایسے سمگل ہو رہا ہے جیسے کہ سمگلر اسے مونگ پھلی کے دانوں کی طرح جیب میں ڈال کر لے جا رہے ہوں۔
یہ صرف سرکاری محکموں کی نااہلی اور حکومتی رِٹ کی وفات پا جانے کی کہانی ہے۔ عالم یہ ہے کہ ملتان میں دو عوامی نمائندہ نما کھڑپینچوں کی باہمی کشمکش کے باعث ایک پٹواری اپنا سارا ریکارڈ لے کر ڈیڑھ ماہ سے غائب ہے‘ ضلعی انتظامیہ سیاسی دباؤ کے باعث بے بس ہے اور پورے موضع کے عوام ایک ماہ سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ شنید ہے کہ پنجاب اسمبلی ٹوٹنے پر ہمارے دوست اور صوبائی وزیر (سابق) محمد اختر ملک جتنے دکھی اور غمگین ہیں موضع متی تل کی مخلوقِ خدا اس سے کہیں زیادہ خوش ہے۔ بعض اوقات جو چیز ایک کیلئے زحمت ہو وہ دوسرے کیلئے رحمت بن جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں