51

Herd Immunity

بھیڑیں چرانا دنیا کا قدیم ترین پیشہ اور فن ہے‘ انسان اب تک بارہ جانوروں کو سدھا پایا ہے‘ یہ بارہ جانور ہمارے ساتھ رہ رہ کر ہماری عادتوں کو سمجھ گئے ہیں اور ہم انہیں اچھی طرح جان گئے ہیں‘ بھیڑ ان بارہ جانوروں میں سب سے پہلے ہماری زندگی میں آئی لہٰذا دنیا کا ہر انسان جبلتاً بھیڑوں اور بھیڑیں عادتاً انسان کو سمجھتی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور اولیاء کرام کو شروع میں بھیڑیں چرانے کی ذمہ داری سونپی‘ یہ ابتداً گڈریے ہوتے تھے‘ بھیڑیں لے کر شہروں اور دیہات سے نکل جاتے تھے اور وادیوں‘ جنگلوں اور صحراؤں میں پھرتے رہتے تھے۔

بھیڑوں کے بعد گھوڑا دوسرا جانور تھا انسان نے جسے باربرداری کے لیے استعمال کرنا شروع کیا اور یہ
بھی آہستہ آہستہ ہمارے مزاج میں شامل ہوتا چلا گیا‘ گڈریوں کی پرانی روایت ہے یہ بیمار بھیڑ کو دوسری بھیڑوں سے الگ نہیں کرتے‘ یہ اسے صحت مند بھیڑوں کے درمیان چھوڑ دیتے ہیں‘ بیمار بھیڑ کے وائرس شروع میں صحت مند بھیڑوں کو لگتے ہیں اور یہ بھی تھوڑی تھوڑی بیمار ہونے لگتی ہیں یوں ایک بھیڑ کی بیماری پورے ریوڑ کو لگ جاتی ہے اور اس دوران پورے ریوڑ کے اندر قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ قوت مدافعت آگے چل کر تمام بھیڑوں کو صحت یاب کر دیتی ہے جب کہ گڈریے اگر بیمار بھیڑ کو دوسری بھیڑوں سے الگ کر دیں تو نوے فیصد کیسز میں بیمار بھیڑ مر جاتی ہے‘ بھیڑوں کے اس تجربے سے میڈیکل سائنس میں ہرڈ امیونٹی کے نام سے ایک اصطلاح نے جنم لیااور ریوڑ کی قوت مدافعت باقاعدہ ایک میڈیکل ٹرم اور طبی طریقہ بن گئی‘ اس طریقہ کار میں وائرس سے متاثرہ لوگوں کو عام لوگوں کے درمیان چھوڑ دیا جاتا ہے‘ وائرس شروع میں تیزی سے پھیلتا ہے لیکن پھر سب میں قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور یوں لوگ اپنی جسمانی امیونٹی کے ذریعے مرض کو شکست دے دیتے ہیں‘ یہ طریقہ اچھا ہے‘کام یاب ہے‘ انسان ہزاروں سال سے یہ استعمال بھی کر رہا ہے اور اس سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے تاہم اس میں ایک خرابی ہے‘ ریوڑ کی قوت مدافعت ابھرنے سے پہلے کم زور‘ لاغر اور بیمار بھیڑیں انتقال کر جاتی ہیں‘ وبا کے شروع میں دس فیصد بھیڑیں مر جاتی ہیں۔

ہم پاکستان میں اگر کرونا کا ٹرینڈ دیکھیں تو ایک دل چسپ صورت حال سامنے آتی ہے‘ ملک میں پہلا کیس 26فروری کو نکلا تھا‘ ہمارے پاس 26 مارچ تک صرف1200 کیس تھے‘ گویا ایک ماہ میں صرف 1200مریض سامنے آئے لیکن آنے والے دنوں میں مریضوں کی تعداد میں دو گنا‘ چار گنا بلکہ دس گنا اضافہ ہوتا چلا گیا‘ ہم اگر آج اڑھائی ماہ بعد اس جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار کو دیکھیں تو صرف تین دن میں ساڑھے پانچ ہزارمریضوں کا اضافہ ہو گیا جب کہ ہم نے اڑھائی ماہ میں صرف 2لاکھ95 ہزارلوگوں کا ٹیسٹ کیا۔

یہ تعداد ہماری مجموعی آبادی کااعشاریہ ایک فیصد بنتی ہے‘ ہماری آبادی 20 سے 22 کروڑ کے درمیان ہے‘ ہم اگر آج کے اعدادوشمار کو پوری آبادی پر لاگو کریں تو ہمارے ملک کے کم از کم دو کروڑ لوگ کرونا میں مبتلا ہوسکتے ہیں‘ یہ لوگ کون ہیں اور کہاں ہیں؟ ہم نہیں جانتے‘ آپ بھی ان میں شامل ہو سکتے ہیں اور میں بھی تاہم قدرت نے ہم پر ایک کرم کیا‘ ہمارے ملک میں ہلاکتیں زیادہ نہیں ہیں‘ پاکستان میں اب تک صرف 667لوگ کرونا کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئے۔

ہلاکتوں میں کمی کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ لاک ڈاؤن بھی تھا‘ ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے ائیر پلوشن کم تھی‘ لوگ گھروں تک محدود تھے لہٰذا سٹریس بھی کم تھا‘ اخراجات بھی کم تھے‘ مقابلہ بازی کے تیر بھی نہیں چل رہے تھے اور لوگ اپنے ان عزیز رشتے داروں کے ساتھ وقت بھی گزار رہے تھے جن کو دیکھنے‘ جن سے ملنے کے لیے یہ برسوں ترستے رہتے تھے لہٰذا لوگ خوش بھی تھے اور مطمئن بھی اور یہ اطمینان اور یہ خوشی لوگوں کے لیے وٹامن ثابت ہو رہی تھی لیکن کیا یہ صورت حال لاک ڈاؤن کے بعد بھی قائم رہے گی؟

میرا خیال ہے نہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ میل جول سے کرونا بھی تیزی سے پھیلے گا اور سٹریس‘ ماحولیاتی آلودگی اور چار ماہ سے معطل مقابلہ بازی بھی ہماری امیونٹی کم کر دے گی اور یوں اموات میں اچانک اضافہ ہو جائے گا‘ اللہ کرے میں غلط ثابت ہوجاؤں لیکن آج سے ملک میں کرونا پھیلنے اور اموات کی تعداد میں اضافے کے بہت زیادہ امکانات ہیں بالخصوص بزرگوں اور بیماروں کے انتقال کے امکانات میں تیزی آ جائے گی‘ یہ درست ہے حکومت ”ہرڈ امیونٹی“ کے لیے لاک ڈاؤن میں کمی کر رہی ہے۔

یہ سمجھ رہی ہے ماضی کی بے شمار بیماریوں اور وباؤں کی طرح یہ وبا بھی ریوڑ کی قوت مدافعت کا سامنا نہیں کر سکے گی‘ یہ ممکن ہے لیکن ریوڑ امیونٹی سے پہلے وبا کاگراف اوپر آئے گا یہ بھی حقیقت ہے اور یہ گراف کس کس کی جان لے لے ہم نہیں جانتے‘ ہمیں بہرحال آج سے بری خبروں کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ہم اب اس طرف آتے ہیں کیا حکومت کے پاس لاک ڈاؤن کے خاتمے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن تھا؟ میرا خیال ہے آج کے حالات میں نہیں تھا۔

ایک ایسا ملک جس کے نو کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں‘ جس کی پوری معیشت رو پیٹ کر امریکا کی کسی درمیانی کارپوریشن کے سالانہ منافع سے بھی کم ہو ہم ایسے ملک کو مزید کتنا عرصہ بند رکھ سکتے تھے؟ ہمیں ملک بہرحال کھولنا ہے اور دنیا کیوں کہ مئی میں کھل رہی ہے چناں چہ ہمیں بھی دنیا کے ساتھ ساتھ چلنا ہے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ہم نے دس مارچ سے لے کر دس مئی تک دو مہینے ضائع کر دیے ہیں‘ ہم اگر مارچ اور اپریل میں دو مہینوں میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیتے۔

کرفیو بھی لگانا پڑتا تو ہم لگا دیتے‘ ہم مریضوں کو صحت مند لوگوں سے الگ کرتے‘ بیماروں کا علاج کرتے اور صحت مند لوگوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کی تلقین کرتے تو ہم اب امریکا‘ سپین‘ اٹلی اور برطانیہ کی طرح بہتری کی طرف سفر کر رہے ہوتے‘ چین کی مثال بھی ہمارے سامنے تھی‘ چین ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہا تھا آپ لاک ڈاؤن کو سخت کر دیں‘ آپ کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں مگر ہم نے اس وارننگ کو سیریس نہ لیا لہٰذا ہم نے ملک بھی بند رکھا اور بیماری کے کیچڑ میں بھی دھنستے چلے گئے۔

آپ چین کو دیکھ لیں‘ چین نے دو ماہ مکمل لاک ڈاؤن کے بعد ملک پوری دنیا کے لیے کھول دیا‘ یہ اب تیزی سے نارمل زندگی کی طرف دوڑ رہا ہے جب کہ ہم نے دو کشتیوں میں سوار ہو کر اپنی مت مار لی‘ ہمیں اگر چینی ماڈل پسند نہیں آیا تھا تو پھر ہم سویڈن کے راستے پر چل پڑتے‘ سویڈن دنیا کا واحد ملک تھا جس نے لوگوں کو معاشرتی فاصلے کا درس دیا اور پھر ملک بند کرنے سے انکار کر دیا‘ پوری دنیا میں صرف سویڈن کھلا رہا‘ مریضوں کی تعداد ساڑھے چھبیس ہزار ہو گئی‘ 3240لوگ انتقال بھی کر گئے لیکن حکومت نے ملک بند نہیں کیا۔

مارکیٹیں بھی کھلی رہیں‘ سکول بھی‘ پبلک ٹرانسپورٹ بھی‘سینما بھی‘ چرچ بھی‘ ریستوران بھی اور ڈسکوز بھی‘ ہمیں چاہیے تھا ہم چین بن جاتے یا پھر سویڈن‘ ہم آدھے سویڈش اور آدھے چین بن گئے لہٰذا ہم اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے‘ ہم وبا کا شکار بھی ہو گئے اور ہم نے معیشت کا بیڑا بھی غرق کر لیا لہٰذا ہمیں کنفیوژن نے مار دیا‘ آپ ہماری عقل دیکھیے‘ ہمارے ملک میں جب صرف ایک ہزار مریض تھے تو ہم نیم لاک ڈاؤن میں بیٹھے تھے لیکن جوں ہی مریضوں کی تعداد 20 ہزار سے اوپر گئی تو ہم نے ملک کھولنا شروع کر دیا اور کل ہم نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا۔

ہم کہاں کے دانا‘ کہاں کے سمجھ دار ہیں؟ ہم اب ”ریوڑ قوت مدافعت“ کا تجربہ بھی کر رہے ہیں‘ یہ تجربہ کم از کم سال بعد رزلٹ دیتا ہے‘ ہم آج شروع کر رہے ہیں تو اس کے نتائج اگلے سال مئی میں سامنے آئیں گے‘ ہم میں اس وقت کرونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو گی لیکن ہم میں سے کون کون اس وقت تک زندہ رہتا ہے ہم نہیں جانتے!ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ہمارے ”ہیلتھ سسٹم“ میں دو چار ہزار مریض سنبھالنے کی اہلیت بھی نہیں‘ اللہ نہ کرے اگر دس پندرہ ہزار مریض آ گئے تو ہم کیا کریں گے؟ ہم یقینا انہیں اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیں گے اور کرونا اگر اس دوران زیادہ پھیل گیا تو پھر ہم پوری دنیا کے لیے اچھوت بن جائیں گے۔

ملک میں کوئی آئے گا اور نہ یہاں سے کوئی جا سکے گا‘ ہمارے وزیراعظم اور صدر کو بھی دوسرے ملکوں میں لینڈ کرنے کی اجازت نہیں ملے گی‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں‘ کیا ہماری یہ پلاننگ تھی؟ دوسرا ہمارے ملک میں غریب ابھی کرونا سے بچے ہوئے تھے‘ یہ کل سے اس بیماری کے درمیان موجود ہوں گے اور اگر خدانخواستہ یہ بیمار ہو گئے تو پھر غربت کے اوپر بیماری کی چٹان بھی آ گرے گی اور اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ میرا خیال ہے وفاقی حکومت یہ بھی سندھ حکومت پر ڈال دے گی ۔

چناں چہ میری درخواست ہے آپ آج سے پیٹی کس لیں اور بری خبروں کی تیاری کر لیں‘ حکومت بھیڑوں کے لیے ریوڑ کا فارمولا داغ چکی ہے‘ بھیڑوں کے پاس اب مرنے اور ممیانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘ ہم ریوڑ ہیں اور ریوڑوں کے ساتھ عموماً یہی ہوتا ہے‘ چھری یا زیادہ ے زیادہ بلیڈ‘ بھیڑوں نے بہرحال مرہی جانا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں