خالد چوہدری اور دوسرے رفتگان!

میں صبح اٹھ کر ناشتہ وغیرہ کرکے واٹس ایپ کھولتا ہوں تو دوستوں نے سیاسی، غیر سیاسی، سنجیدہ و غیر سنجیدہ پوسٹس سینڈ کی ہوتی ہیں، ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بیک وقت چار پانچ نہایت مذہبی پوسٹوں کے علاوہ ایک ٹرپل ایکس ویڈیو بھی ارسال کی ہوتی ہے ،یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے میری علیک سلیک تک نہیں ہوتی مگر وہ میرے ساتھ فری ہونے کے لئے غالباً یہ حرکت کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے میں نے واٹس ایپ آن کیا تو مجھے بہت عجیب لگا کہ خالد چوہدری کی کوئی پوسٹ نظر نہ آئی۔ خالد چوہدری بلاناغہ بین الاقوامی شہرت کے حامل کسی مصور کی نہایت اعلیٰ درجے کی پینٹنگ مجھے سینڈ کیا کرتا تھا، میں پریشان تھا کہ گھر بیٹھے بٹھائے مجھے روزانہ اتنا قیمتی تحفہ مل جاتا ہے مگر اب وہ کیوں نہیں بھیجتا مگر وہ کیسے بھیجتا وہ تو فوت ہو چکا تھا جس کی اطلاع مجھے ملی تو مجھے اپنا دل ڈوبتاہوامحسوس ہوا ۔ایسا نہیں کہ خالد میرا قریبی دوست تھا، میری تو پوری زندگی میں اس سے بہ مشکل تین چار ملاقاتیں ہوئی تھیں، اس نے اپنا ریستوران کھولا تو دوسرے دوستوں کےساتھ مجھے بھی وہاں کھانے پر مدعو کیا جو میں نہیں جا سکا۔ اس کے ساتھ میری غائبانہ محبت کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ضیاالحق کے زمانے میں کلمۂ حق بلند کیا تھا اور یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، اسے شاہی قلعہ میں لے جایا گیا جو بے پناہ تشدد کے لئے مشہور تھاجہاں اس دور میںاسے کوڑے مارے گئے ،اس کے علاوہ بھی بہت تشدد کیا گیا۔ خالد اس وقت ایک خوبصورت نوجوان تھا مگر اس نے اپنی جوانی کے یہ دن اپنے پاکستان کو ایک آمر کے چنگل سے نکالنے کےلئے وقف کر دیے۔

میری ایک عادت ہے کہ میرے جو دوست مجھ سے جدا ہو جاتے ہیں، میں اپنے فون سے ان کے نمبر ڈیلیٹ نہیں کرتا اب روزانہ میرے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ وا ٹس ایپ کھولتا ہوںتو خالد چوہدری کا نام سامنے آ جاتا ہے اور میں مسوس ساہوکر رہ جاتا ہوں۔ یہ کیا دنیا ہے کہ پیارے لوگ ایک ایک کرکے رخصت ہوتے چلے جارہے ہیں، میں اپنے سینئرزکی بات نہیں کرتا۔ میرے ہم عصر اور ان کے بعد کی نسل کے لوگ بھی ایک ایک کرکے خدا حافظ کہتے چلے جاتے ہیں۔احمد ندیم قاسمیؔ کی محفل ہوتی تھی وہاں سید کاظم، علی عباس جلال پوری اور دیگر سینئرز کے علاوہ خالد احمد، نجیب احمد، گلزاروفا چوہدری اور مجھ ایسے ’’نائی ‘‘ نوجوان بھی ہوتے تھے جو محفل پر سنجیدگی غالب آنے پر کوئی پھلجھڑی چھوڑ دیتے تھے ۔میری دوستیاں چوں کہ زیادہ تر ادیبوں کے ساتھ ہیں اور ان کی جدائی میری اداسیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک اخترشمار ہوتا تھا جو ملتان سے لاہور آیا اور اپنی پہچان بنا گیا ۔میرا دوست روحی کنجاہی اور قائم نقوی بھی یہ دنیا چھوڑ گئے، میں نے روحی کنجاہی کی زندگی میں اس کے ایک مصرعے ’’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘‘ پر تین کالم لکھے کہ یہ مصرعہ ایسا تھا کہ کسی بھی شعر یا خبر کے آخر میں لگا دیا جائے تو ایک مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو جاتی ہے مثلاً میرا اپنا ایک شعر ہے اس کے آخر میں میں آپ کو روحی کا یہ مصرعہ لگا کر دیتا ہوں ؎

اک صدا دے کے میں لوٹ آیا ہوں

اس نے اندر سے جب یہ کہا کون ہے

’’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘‘ مگر مجال ہے روحی نے اپنے شعر کی اس درگت پر کبھی برا منایا ہو۔

بہرحال دنیا کا یہی نظام روزِ اول سے چلا آ رہا ہے ابد تک جاری رہے گاآج خالد چوہدر ی گیاکل میری بھی باری آ سکتی ہے۔ یہ جو قبرستان ہیں نا یہ محبتوں کے مدفن ہیں ہر قبر کسی نہ کسی کے پیارے کی قبر ہے یہاں محبتیں دفن ہیں ان سے پیار کرنے والے بہت سے لوگ ان کے پہلو میں آبسے ہیں اور پھر ان کے پیارے بھی ان کے پاس آ جائیں گے یہ دنیا ایک ڈرامہ ہے اورہر کوئی اپنا کردار نباہ کر چلا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں