لیاقت پور کا مقدمہ

بدلتے وقت کے ساتھ سوشل میڈیا نے لوگوں میں شعور پیدا کر دیا ہے اور انہیں اب راستہ دکھانے والوں کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ خطوط کا دور نہیں رہا۔ ای میل بھی پرانا میڈیم بنتا جا رہا ہے۔ لوگوں کا پہلے خیال تھا کہ ان کی رپورٹ کسی ٹی وی چینل پر چل جائے تو ان کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ پھر پتہ چلا‘ امریکن سائنسدانوں نے ایک نئی ایجاد کی ہے جسے ٹویٹر کہا جاتا ہے۔ اپنا اکائونٹ بنائیں اور اپنا مسئلہ سیدھا کسی وزیر یا وزیراعظم یا بیوروکریٹ کو ٹیگ کر دیں۔ اب تو پولیس اور بیوروکریسی بھی ٹویٹر پر موجود ہیں لہٰذا لوگوں کے مسائل کسی حد تک حکمرانوں کے نوٹس میں آجاتے ہیں۔ اسی لیے پنجاب کی تحصیل لیاقت پور ضلع رحیم یار خان‘ جس کی آبادی تیرہ لاکھ بتائی گئی ہے‘ سے ایک ای میل ملی تو کچھ حیرت ہوئی کہ ان صاحب نے ٹی وی چینلز یا سوشل میڈیا چھوڑ کر مجھے لکھ بھیجا۔ یہ ای میل سعید مہروی صاحب نے بھیجی ہے اور اس میں شجر نقوی صاحب کا وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے نام ایک خط ہے۔ وہ لکھتے ہیں
”اس علاقے کے تیرہ لاکھ انسان باقی پنجاب کی نسبت ہر قسم کی سہولت سے محروم ہیں۔ سب سے بڑی محرومی زندگی کا عدم تحفّظ ہے۔ آئے روز لوگ بے بسی کی موت مرتے رہتے ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ صوبائی حکومت توجہ دیتی ہے نہ وفاقی حکومت غور فرماتی ہے۔ ٹرین کے دو بڑے حادثے اس شہر میں ہوئے۔ سینکڑوں زخمیوں کی زندگی بچ سکتی تھی لیکن ٹی ایچ کیو ہسپتال میں کسی قسم کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے‘ مگر حکمرانوں کو کوئی احساس ہوا نہ غیرت جاگی۔ ان حادثوں کے علاوہ آئے روز روڈ ایکسیڈنٹ کے زخمیوں، ہارٹ اٹیک، گردوں کے مریضوں اور دیگر خطرناک بیماریوں کے شکار لوگوں‘ جنہیں ایمرجنسی علاج کی ضرورت ہوتی ہے‘ کا علاج اس ہسپتال میں نہیں ہو پاتا۔ ایسے مریضوں کو جب رکشوں‘ موٹر سائیکلوں‘ ٹرالیوں یا ایمبولینسوں میں ڈال کر لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر صاحبان کہتے ہیں: انہیں فوراً بہاولپور یا رحیم یار خان لے جاؤ۔ جناب وزیرِ اعظم صاحب و وزیرِ اعلیٰ صاحب‘ذرا سنجیدگی سے غور فرمائیں۔ جس مریض کو ایمرجنسی علاج کی ضرورت ہوتی ہے پہلے تو اسے جائے حادثہ سے مریض کو ہسپتال لانے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے‘ پھر ڈاکٹر اسے بہاولپور یا رحیم یار خان ریفر کر دیں جبکہ دونوں بڑے ہسپتال سو سو کلومیٹر دور ہوں تو مریض کے ورثا پہلے ایمبولینس تلاش کریں جو ہر وقت میسّر بھی نہیں ہوتی اور پھر پیسوں کا بندوبست کریں جبکہ اکثریت عوام مالی طور پہ بہت غریب ہے۔ اندازہ کریں کہ کتنا وقت ضائع ہو جاتا اور کتنا پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ انتظامات کرتے کرتے گھنٹوں وقت ضائع ہو جاتا ہے اور پھر دو سے اڑھائی گھنٹے کے مسافت اور پھر دوسرے ہسپتال ایمرجنسی تک پہنچنے میں بھی آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے‘ جناب عالی آپ بتائیں ایمرجنسی کا مریض تین چار گھنٹے بغیر علاج کے کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ اکثر مریض راستے میں ہی مر جاتے ہیں۔ کچھ مریض بہاولپور یا رحیم یار خان پہنچ بھی جائیں تو ان کی حالت اتنی غیر ہو چکی ہوتی ہے کہ ڈاکٹرز کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور وہ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور ایسی اموات روز کا معمول ہیں۔ کئی نوجوان‘ جو بوڑھے ماں باپ کا سہارا تھے‘ ہماری آنکھوں کے سامنے مرے ہیں۔ اگر تحصیل کے ہسپتال میں ایمرجنسی علاج کی سہولت ہوتی تو وہ یقیناً بچ سکتے تھے۔جناب وزیرِ اعظم و وزیرِ اعلیٰ صاحب‘ اپنی اس غریب و پسماندہ رعایا پر ترس کھائیں۔ انہیں انسان سمجھیں‘ پاکستانی سمجھیں ان کی تکلیف کا ازالہ کریں‘ تحصل ہسپتال کو ضلعی ہسپتال لیول کی سہولیات دیں۔ ڈائلیسز مشینیں بند پڑی ہیں‘ وہ چلوائیں۔ ہر شعبے کا پروفیسر ڈاکٹر مہیّا کریں۔ اس تحصیل کو ضلع بنائیں‘ 13 لاکھ سے زیادہ آبادی ہے اس تحصیل کی جو رقبے کے لحاظ سے پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل ہے۔ ہماری گزارشات پر ہنگامی بنیادوں پر عمل کریں۔ یہ ہمارے حقوق آپ پر واجب ہیں اور آپ کا دعویٰ اس ملک کو ریاستِ مدینہ بنانے کا ہے‘‘۔
یہ ای میل پڑھ کر سوچ رہا ہوں سعید مہروی صاحب نے کیا سوچ کر مجھے ای میل کی یا پھر شجر نقوی صاحب نے اتنے درد دل کے ساتھ تیرہ لاکھ انسانوں کا مقدمہ لڑنے کی اس ملک میں کوشش کی جس ملک کے وزیراعظم صاحب یہ بات تو فخر سے کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ موٹرسائیکلیں بنانے والا ملک بن چکا ہے‘ لیکن ان کو کوئی یہ نہیں بتاتا کہ سب سے زیادہ موٹربائیکس حادثات میں نوجوان بچے بھی پاکستان میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جن باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ حالت سینٹرل پنجاب سے لے کر سرائیکی اور جنوبی پنجاب کے علاقوں تک ہر جگہ عام ہے۔ لیہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بھی یہی صورتحال ہے کہ ہر دوسرا مریض ملتان ریفر کر دیتے ہیں۔ پنجاب کے تقریباً ہر ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال کی یہی حالت ہے۔ وہ صرف سر درد کی گولی دے سکتے ہیں۔ اکثر بڑے ڈاکٹروں نے اپنے کلینکس کھول رکھے ہیں۔ سرکاری ہسپتال‘ جہاں نوکری کرتے ہیں‘ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔
میری ان دو مہربانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ابھی ہمارے پیارے وزیراعظم ایک اور کام کرنے جارہے ہیں۔ پچھلے دنوں کابینہ کے اجلاس میں یہ بات کی گئی کہ جن دیہات کے بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں کی حاضری کم ہے انہیں بند کر دیا جائے۔ اب اندازہ کریں‘ جب حکومت ان بنیادی صحت کے مراکز جہاں دیہات کے لوگ علاج کراتے ہیں اور بڑا پیسہ لگا کر وہاں یہ صحت کے مراکز بنائے گئے ہیں‘ انہیں صرف اس لیے بند کر دیا جائے کہ وہاں ڈاکٹر نہیں جاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ معمولی بیماریوں کیلئے بھی گھر کے قریب بنیادی مرکز صحت کے بدلے شہر جائیں گے۔ حکومت کو یہ احساس نہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرنے جا رہی ہے‘ چاہئے تو یہ کہ ان ڈاکٹروں کو نوکری سے نکالتی جو بنیادی مرکز پر نہیں جاتے اور ان کی جگہ نئے ڈاکٹروں کو بھرتی کرتی اور انہیں اچھا پیکیج دیتی‘ الٹا یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں بند کردو۔
لگتا ہے‘ آج کل جناب وزیراعظم کا سارا فوکس پرائیویٹ ہسپتالوں پر ہے۔ پچھلے دنوں وہ تقریر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: اگر آپ کو سرکاری ہسپتال میں علاج اچھا نہیں ملا تو اب آپ کے پاس صحت کارڈ ہے اور پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کرا لیں۔ مطلب اب سارا کاروبار ان پرائیویٹ ہسپتالوں کا چلے گا۔ شاید اسی لیے کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی تجویز لائی گئی کہ پرائیویٹ ہسپتال کو زیرو ڈیوٹی پر مشینری منگوانے کی اجازت دی جائے۔ یہ مریضوں سے کمرشل ریٹس وصول کرتے ہیں‘ یہ ان کا بزنس ہے لیکن حکومت اب انہیں کروڑوں کی ڈیوٹی معاف کررہی ہے۔ لگتا ہے‘ سرکاری ہسپتال اب ترجیحی لسٹ میں نیچے چلے گئے ہیں۔
جن انسانی مسائل اور تکلیفوں کی طرف سعید مہروی اور شجر نقوی اشارہ کررہے ہیں وہ حکمرانوں کی ترجیحات میں نہیں ہیں۔ انسانوں کا سڑکوں پر مرنا حکمرانوں کے نزدیک کوئی ایسا ایشو نہیں جسے وہ سیریس لیں۔ حکمرانوں کے نزدیک دکھ غم صرف وہی ہیں جو ان کو لاحق ہوتے ہیں۔ صرف حکمران ہی انسان ہیں۔ عام انسان ان کیلئے نعرے لگانے اور ان کے دکھوں پر ماتم کرنے کیلئے پیدا ہوا ہے۔ اپنے مسائل کیلئے میں نے کبھی اس ہجوم‘ جسے قوم کا نام دیا گیا ہے‘ اکٹھے ہوتے یا لانگ مارچ کرتے نہیں دیکھا۔ اب پنجاب کے ہر ضلع‘ تحصیل کی حالت لیاقت پور جیسی ہو چکی ہے۔ نہ پہلے کسی کو انسانی جانوں کی پروا تھی نہ اب ہو گی۔ ایک ہجوم ہے جو بس جئے جا رہا ہے۔ عمران خان، بلاول اور مریم نواز کے نعرے لگائے جا رہا ہے۔
نقارخانے میں اس طوطی کی آواز کس نے سننی ہے کہ لیاقت پور جیسے چھوٹے علاقوں میں کیا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں