ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر جیو کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بہت ہی جامع بریفنگ دی او رتمام وہ ایشوز جن پر ابہام تھا ان کو دور کردیا ،فوج کے اندر جو احتساب کا عمل ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا.
فوج کی حد تک یہ بات کلیئر ہے کہ جس نے بھی کوئی غلط کام کیا ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی.
آرمی ایکٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ سویلینز کا کن کن حالات میں ٹرائل ہوسکتا ہے،پاک فوج اپنے رینک میں کوئی بھی ہو اگر وہ ریاست مخالف کارروائیوں میں ملوث ہے تو اس کو وہ بالکل معاف نہیں کرے او راس کو بھی سزا دی جائے گی۔
خصوصی نشریات میں بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید خان،بریگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین،ماہر امور قومی سلامتی سید محمد علی اور یڈووکیٹ راجہ خالدنے اظہار خیال کیا۔
بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید خان نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بہت ہی جامع بریفنگ دی او رتمام وہ ایشوز جن پر ابہام تھا ان کو دور کردیا ہے ۔
ان کی پریس کانفرنس نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کمٹنٹ کو بھی واضح کردیا ہے کہ وہ تمام لوگ بھلے ماسٹر مائنڈ تھے یا بلوائی تھی شرپسند تھی ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔
اس سے بھی اہم جو فوج کا احتساب کا نظام ہے اس حوالے سے خبریں بھی آرہی تھی اور میں نے تو خود 35 سال فوج میں رہ کر دیکھا ہے اس میں کوئی شک والی بات نہیں ہے کہ اس کے تحت انہوں نے حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل اور کتنے اور افسر جن کو کوسروس سے برخاست کیا ہے ڈسمس کیا گیا ہے اس کے علاوہ او ردیگر بڑے افسران جن کے خلاف کارروائی ابھی جاری ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انہوں نے کوتاہی کرنے والوں کو نہیں چھوڑا ہے ۔
اسکے علاوہ جو ریٹائر سینئر افسران ہیں فور اسٹار جنرلز ہیں تھری اسٹار جنرلز ہیں ان کی فیملی کے لوگ ان کے رشتے بھی اگر 9 مئی والے واقعہ میں ملوث ہیں تو ان کو بھی نہیں چھوڑا گیا ہے اور یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بلا تفریق یہ احتساب کا معاملات چل رہا ہے ۔