ملک کے صرف 68 فیصد بچوں کا اسکولوں میں داخلہ تشویشناک ہے، صدر مملکت

صدر مملکتڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک کے صرف 68 فیصد بچوں کا اسکولوں میں داخلہ تشویشناک ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کے چیئرمین کرنل (ر) ڈاکٹر امیر اللہ مروت کی ملاقات ہوئی جس میں صدر مملکت نے اساتذہ اور صحت کے کارکنوں کی استعداد کار میں اضافے اور تربیت میں این سی ایچ ڈی کے کردار کو سراہا۔

ملاقات میں صدر مملکت نے غربت کے خاتمے کیلئے ادارے کی کوششوں، تحقیقی مطالعات اور ڈیٹا اکٹھا کرنے، اور عالمی وسائل کو متحرک کرنے میں کردار کو سراہا اور این سی ایچ ڈی کو قومی مقصد کے حصول کیلئے کوششوں میں اپنے مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا۔

اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسکولوں میں بچوں کے 100 فیصد داخلے کو یقینی بنانے کیلئے نئے اور اختراعی حل اپنانا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور ملک کی تیز رفتار سماجی و اقتصادی ترقی یقینی بنانے کیلئے احتیاطی صحت کے طریقہ کار کو فروغ دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے صرف 68 فیصد بچوں کا پرائمری سطح پر سکولوں میں داخلہ تشویشناک ہے جبکہ ہمیں اسکولوں میں بچوں کے 100 فیصد اندراج کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں ممکن ہو تعلیم کے ہائبرڈ طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیئے جبکہ تعلیم کیلئے مساجد کو فجر سے ظہر تک بطور اسکول استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ملاقات میں صدر مملکت نے مقامی سطح پر تعلیم کی فراہمی، رسمی اور غیر رسمی تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ نوجوانوں کو قابل قدر ہنر فراہم کرنے کیلئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹولز اپنائے جائیں جبکہ پروفیشنل افراد سے ملک میں ہی مستفید ہونے کیلئے ایک جامع نظام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین سمیت دیگر شعبوں میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کی ذہانت، علم اور مہارت کو بروئے کار لانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتی انسانی وسائل کے برین ڈرین کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں جبکہ پاکستانی تارکین وطن اپنے میزبان ممالک کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آن لائن اور ہائبرڈ پلیٹ فارمز کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی مہارت اور علم سے پاکستان میں فائدہ حاصل کیا جانا چاہیئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ خاندان کے بڑے سائز کو مانع حمل ادویات کی دستیابی، تعلیم اور معاشی حالت بہتر بنا کر مناسب وقت میں کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ فنڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف اور این سی ایچ ڈی کے سینئر ممبران بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں