سپریم کورٹ آف پاکستان میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر آج چوتھی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ملٹری کسٹڈی میں 102 افراد کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دیں اور استدعا کی کہ ان 102 افراد کے نام اور تفصیلات کی لسٹ پبلک نہ کی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا ہے کہ کسی کے خلاف شواہد نہ ہونے پر کارروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے۔
جسٹس عائشہ نے سوال اٹھایا کہ کون طے کرتا ہے کہ سویلین کے اندرونی تعلقات ہیں لہٰذا ٹرائل فوجی عدالت میں ہو گا؟
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے، جس میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ ہم نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے معاملے پر درخواست دائر کی ہے۔
چیف جسٹس نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی درخواست کو نمبر لگ گیا ہے؟ ہمیں خوشی ہے کہ سپریم کورٹ بار کی جانب سے بھی درخواست آئی، اچھے دلائل کو ویلکم کرتے ہیں، جب درخواست کو نمبر لگے گا تب دیکھ لیں گے۔
اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ میں سویلینز کے ٹرائل شروع ہونے کی وضاحت کر دی اور کہا کہ اس وقت کسی سویلین کا ٹرائل نہیں چل رہا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی ، آئی ایس پی آر نے 102 افراد کے ٹرائل کی بات کی، اٹارنی جنرل اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات متضاد ہیں۔
اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے کہا کہ میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں، عدالت میں وزارتِ دفاع کے نمائندے موجود ہیں وہ بہتر صورتِ حال بتا سکتے ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم اس وقت موجودہ عدالتی نظیروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل کے بیان پر یقین ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میرا مؤقف ہے کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، فوجیوں کے ٹرائل اور عدالت کے اختیارات سے متعلق بات نہیں کروں گا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ججز کی تقرری کا آرٹیکل 175 (3) 1986ء میں آیا، جن عدالتی نظائر کی بات آپ کر رہے ہیں ان کے مقابلے میں اب حالات و واقعات یکسر مختلف ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ایسا کیا ہے جس کا تحفظ آئین فوجی افسران کو نہیں دیتا لیکن باقی شہریوں کو حاصل ہے؟
’’پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتی‘‘
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ فوجی جوانوں اور افسران پر آئین میں درج بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے، میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائل کے خلاف ہوں گے، فوجیوں کے خلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتی، 21 ویں آئینی ترمیم میں اصول طے کیا گیا کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اندرونی تعلق کے بارے میں جنگ اور دفاع کو خطرات جیسے اصول 21 ویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتِ حال بالکل واضح ہے، کیا سویلینز کا افواج سے اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایف بی علی کیس کے مطابق سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہو سکتا ہے، عدالتی نظائر کے مطابق اگر سویلین کے افواج میں اندرونی تعلقات ہوں تب فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، کون طے کرتا ہے کہ سویلین کے اندرونی تعلقات ہیں لہٰذا ٹرائل فوجی عدالت میں ہو گا؟
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل ملزمان کی حوالگی سے متعلق بتائیں کہ کونسا قانون استعمال کیا جا رہا ہے؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ملزمان کی حوالگی سے متعلق 2 ڈی ون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دلچسپ بات ہے کہ ہمارے پاس آفیشل سیکرٹ ایکٹ دستیاب ہی نہیں، ہوا میں باتیں کی جا رہی ہیں، 2 ڈی ون کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں؟ عدالت کی معاونت کریں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سویلین کے فوجی عدالت میں ٹرائل کی اجازت کے صوابدیدی اختیار کا استعمال شفافیت سے ہونا چاہیے۔
’’سویلینز کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل جنگی حالات میں ہو سکتا ہے‘‘
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایف بی علی کیس کے مطابق سویلینز کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل جنگی حالات میں ہو سکتا ہے، جنگی حالات نہ ہوں تو سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سویلین کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی تو کہتا ہے کہ ان افراد پر لاگو ہو گا جو افواج سے نہیں ہیں۔
عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق ان سویلینز پر ہوتا ہے جو افواج کی کارروائی پر اثر انداز ہوں۔
جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ جب آرمی ایکٹ میں درج جرم ریکارڈ پر نہیں تو اے ٹی سی نے حوالگی کی اجازت کیسے دی؟
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل طریقہ کار کی بات کرتا ہے، آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں، یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے، بنیادی حقوق کا تقاضہ ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے، سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا، کسی نے بھی خوشی کے ساتھ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت نہیں دی۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے جرم آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ دکھائیں۔
وکیل نے جواب دیا کہ آفیشل آرمی ایکٹ کے مطابق کسی بھی ممنوع علاقے پر حملہ یا استعمال جس سے دشمن کو فائدہ ہو جرم ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ممنوعہ علاقہ تو وہ ہوتا ہے جہاں جنگی پلانز یا جنگی تنصیبات ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آرمی افسران کا سب سے اہم مورال ہوتا ہے، آرمی افسران کا مورال ڈاؤن کرنے سے ان کا دشمن سے لڑنے کا جذبہ کم ہوتا ہے، آرمی افسران اپنے ہائی مورال کی وجہ سے ہی ملک کی خاطر قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا۔
وقفے کے بعد سماعت
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں کچھ جرائم 2015ء اور پھر 2017ء میں شامل کیے گئے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 12 کے تحت تو بیان کردہ جرائم قابلِ ضمانت ہیں۔
شاعر احمد فراز کے کیس کا حوالہ
وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کے فوج کے خلاف اشعار لکھنے پر کیس چلا تھا، احمد فراز کے قریبی ساتھی سیف الدین سیف نے ان کا کیس لڑا، احمد فراز کیس کے فیصلے میں بھی کہا گیا کہ سویلین پر آرمی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، 9 مئی کے واقعات کی ایف آئی آر انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت کاٹی گئیں، یہ جرائم قابلِ ضمانت ہیں، آرمی ایکٹ میں نہیں آتے، اعتزاز احسن نے اپنی پٹیشن میں حبسِ بے جا کی بھی درخواست دی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کسی پر آرمی ایکٹ کے تحت چارج ہی نہیں تو فوج تحقیقات کیسے کر سکتی ہے؟ جب کوئی آرمی ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتا تو اس کے خلاف کارروائی کیسے ہو سکتی ہے؟ آرمی اتھارٹیز تو اس طرح کچھ بھی کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ جب کسی کے خلاف ثبوت نہیں تو فوج گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک مجسٹریٹ بھی ملزم کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق تو گرفتار افراد کے خلاف کوئی چارج نہیں، چارج کے بغیر کیسے کسی کو فوجی تحویل میں رکھا جا سکتا ہے؟
’’کسی کیخلاف شواہد نہ ہونے پر کارروائی مضحکہ خیز ہے‘‘
چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے خلاف شواہد نہ ہونے پر کارروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرمی رولز کے مطابق پہلے گرفتار کیا جاتا ہے پھر تحقیقات یا کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے وکیل عزیر بھنڈاری سے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ملٹری انصاف صرف فوجیوں کو مدِ نظر رکھ کر ہی ڈیزائن کیا گیا ہے؟ فوجی انصاف عام شہریوں کے لیے نہیں؟
جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ضمانت ہو سکتی ہے؟
وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ جی آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ضمانت ہو سکتی ہے، ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ذکر ہی نہیں، آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم سے تحفظِ پاکستان ایکٹ ضم کر کے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں، 2017ء میں ترمیم کر کے 2 سال کی انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیا گیا۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ سقم قانون میں ہے۔
’’9 مئی واقعات کے ذمے داروں کا اوپن پبلک ٹرائل انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت کیا جائے‘‘
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جن جرائم کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ان میں قانونی بد نیتی ہے، تمام جرائم پبلک ڈومین میں ہیں، 9 مئی کے واقعات کے ذمے داروں کا اوپن پبلک ٹرائل انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت کیا جائے۔
اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 102 افراد فوجی حراست میں ہیں، پہلی بات یہ کہ فوجی حراست میں افراد کو اہلِ خانہ سے فون پر گفتگو کی اجازت ہے، متعلقہ فرد سے والدین رابطہ کر سکتے ہیں اور ہفتے میں ایک ملاقات کرائی جاتی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ حراست میں موجود افراد کو کپڑے اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں؟
ملٹری کسٹڈی میں 102 افراد کی تفصیلات عدالت میں جمع
اٹارنی جنرل نے ملٹری کسٹڈی میں 102 افراد کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دیں۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے مزید استفسار کیا کہ قید افراد کی اہلِ خانہ سے فون کال روزانہ ہو سکے گی؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ فون کال اور ملاقات کے لیے درخواست دینا ہو گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کئی جیلوں کا دورہ کیا جہاں قیدیوں کو کچھ وقت فون پر بات کرنے دی جاتی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ابھی ان افراد پر باقاعدہ چارج نہیں محض الزام کی بنیاد پر گرفتار ہیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں ان 102 افراد کو پڑھنے کے لیے کتابیں مہیا کی جائیں گی، قیدیوں کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کبھی اڈیالہ جیل گئے ہیں؟ اڈیالہ جیل میں کھانے پینے کا پورا ہفتے کا شیڈول ہوتا ہے اس کو دیکھ لیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا یہ جو 102 افراد کی لسٹ آپ نے دی ہے یہ پبلک ہو گی؟
102 افراد کے نام اور تفصیلات پبلک نہ کرنے کی استدعا
اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ درخواست ہے کہ 102 افراد کے نام اور تفصیلات کی لسٹ پبلک نہ کی جائے۔
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ جب لسٹ آپ نے بنا دی ہے تو اسے پبلک کرنے میں کیا قباحت ہے؟
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ یہ کہہ دیں کہ آپ لسٹ پبلک کریں گے لیکن پہلے گرفتار افراد کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر لیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عید کے دن پبلک کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون ملٹری تحویل میں ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ زیرِ حراست قیدیوں کو وہی کھانا فراہم کیا جاتا ہے جو اسٹاف کھاتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ لسٹ پبلک کریں تاکہ شبہات ختم ہوں کہ کون پکڑا گیا کون نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ ہر قیدی اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ کر سکے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بہتر یہ ہو گا اگر آپ پہلے یہ قیدیوں کی لسٹ جاری کر دیں، فوجی حراست میں موجود افراد کی ان کے اہلِ خانہ سے بات کرائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک اچھی تجویز ہے۔
زیرِ حراست افراد کی 24 گھنٹے میں اہلِخانہ سے رابطہ کرانے کی یقین دہانی
اٹارنی جنرل نے کہا کہ 24 گھنٹے میں زیرِ حراست لوگوں کا ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کرا دیا جائے گا، کسی بھی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں بھی انتظام ہے، لسٹ پبلک کرنے سے متعلق ایک گھنٹے میں ججز کو چیمبرز میں آگاہ کر دوں گا، صحافیوں اور وکلاء سے متعلق جو سوال ہوا اس کے متعلق بھی بتانا چاہتا ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کیا حنیف راہی عدالت میں موجود ہیں؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حنیف راہی سے میری ملاقات ہوئی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ لطیف کھوسہ سے بھی پوچھ لیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ 102 افراد کے نام پبلک کرنے سے گریزاں کیوں ہیں؟ آئی سی جے کی رپورٹ میں ملٹری ٹرائل میں سزائے موت کا ذکر بھی تھا۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سزائے موت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب کوئی فارن ایجنٹ ملوث ہو، موجودہ کیسز میں کوئی فارن ایجنٹ ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں، 25 کروڑ پاکستانیوں کا معاملہ ہے، میرے گھر کی جیو فینسنگ نہیں کرائی جا سکی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے 2 باتیں کی ہیں، ایک تو سزائے موت نہیں، دوسرا گرفتار افراد زیرِ تفتیش ہیں، یہ سمری ٹرائل نہیں ہے، وکیل کرنے کی اجازت ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ ہماری درخواست ہے کہ آئندہ سماعت تک ٹرائل نہ شروع کیا جائے۔
اب عید کے بعد ملیں گے: چیف جسٹس
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہم اب عید کے بعد ملیں گے، عید کے بعد پہلے ہفتے میں بتائیں گے کہ کیس کی سماعت کب ہو گی۔
وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ حکم کر دیں کہ اس کیس کے دوران کسی سویلین کا ٹرائل نہ ہو۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملٹری کسٹڈی میں موجود 102 افراد کا ابھی کوئی ٹرائل نہیں ہو رہا، نہیں معلوم کہ اگلے 2 ہفتوں میں تحقیقات کہاں تک پہنچیں گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا بیان ہے کہ وکیل کرنے کے لیے وقت دیا جائے گا، اٹارنی جنرل صاحب! میں آپ پر جرح نہیں کر رہا، گرفتار لوگ شہری ہیں ان کا خیال رکھیں، ہم اس کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں، صحافیوں، وکلاء، خواتین اور بچوں کے بارے میں خاص خیال رکھیں۔
وکیل احمد حسین نے استدعا کی کہ کم از کم اٹارنی جنرل کے بیان کو حکم نامے کا حصہ بنایا جائے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوجی تحویل میں افراد کو وکیل کا حق دیا جائے گا۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ وکیل کا حق تو قوانین کے تحت ملنا ہی ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو مجھے اگلے ہفتے میں آگاہ کریں، ہر ایک کا خیال رکھیں، امید ہے کہ فوری ٹرائل نہیں شروع ہو گا۔
آج کی سماعت ملتوی
سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی فوری حکمِ امتناع کی استدعا بھی منظور نہیں کی اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
گزشتہ سماعتوں کا احوال
سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا جس کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے الگ ہو گئے، 7 رکنی بینچ ٹوٹنے کے بعد 6 رکنی بینچ نے سماعت کا سلسلہ آگے بڑھایا۔
اب تک سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین دلائل مکمل کر چکے ہیں۔
درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ بھی اپنے دلائل مکمل کر چکے۔
سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی اور شہری جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی دلائل مکمل کر چکے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان اور عزیر بھنڈاری آج دلائل دے رہے ہیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے 9 مئی کے واقعات کے بعد فوج کے زیرِ حراست افراد کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔