بانس پر چڑھانے کا انجام

پاکستان میں حب الوطنی کا پہلا بڑا نعرہ بھٹو صاحب نے لگایا تھا جب انہوں نے ایک ہزار سال تک بھارت سے جنگ لڑنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ بم بنائیں گے چاہے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔ جب وہ شملہ میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے مذاکرات کرنے گئے تو اندرا نے پوچھا کہ آپ تو ہمارے ساتھ ایک ہزار سال جنگ لڑنا چاہتے ہیں پھر ہم معاہدہ کیوں کریں اور آپ کے قیدی کیوں واپس کریں جو کل کو ہمارے خلاف پھر لڑیں گے؟ اس پر بھٹو صاحب نے بڑا تاریخی جواب دیا تھاکہ آپ خود ایک سیاستدان ہیں‘ ایسی باتیں ہم سیاستدانوں کو کرنا پڑتی ہیں‘ عوام کو ساتھ رکھنے کیلئے۔ اندرا گاندھی نے ان کی اس بات پر ہنس کر معاہدے پر دستخط کر دیے۔ مطلب تھا کہ آپ اپنے لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکاتے رہیں ہم اپنے لوگوں کو بھارت کے خلاف ابھارتے رہیں گے‘ دونوں کا کام چلتا رہے گا۔انہی بھٹو کو کچھ عرصے بعد پھانسی دے دی گئی۔

آج بھٹو کی پھانسی کے43 برس بعد عمران خان نے اسی بھٹو کو اپنا ہیرو مان لیا ہے۔ انہیں بھٹو کے انجام کا علم ہے لہٰذا وہ ساتھ ساتھ یہ وضاحت کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ انہیں بھٹو کی طرح کمزور نہ سمجھا جائے۔ وہ بھٹوتو بننا چاہتے ہیں لیکن بھٹو کا انجام نہیں چاہتے۔ عمران خان کو نہیں پتہ کہ کوئی ہیرو اس وقت تک ہیرو بن کر لوگوں کے دلوں میں نہیں رہتا جب تک اس کا ٹریجک انجام نہ ہو۔ اگر بھٹو صاحب پھانسی نہ لگتے تو شاید اب بھی زندہ ہوتے اور عمران خان ہر جلسے میں ان کا نام لے کر خود کو ان کے ساتھ ملا کر فخر نہ کررہے ہوتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا انجام بھٹو جیسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ سوشل میڈیا کی دنیا ہے۔ انہیں اپنے فالورز پر بھروسا ہے کہ اگر انہیں گرفتار کرکے بھٹو جیسی کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ سب مل کر انہیں جیل سے نکلواکر وزیر اعظم ہاؤس بٹھا آئیں گے۔

عمران خان کو پچھلے اتوار کو لوگوں کے سڑکوں پر نکلنے کی وجہ سے بڑا حوصلہ ملا ہے‘ ورنہ اسلام آباد میں دو دفعہ کالز کے باوجود لوگ ڈی چوک اور ایف نائن پارک میں زیادہ تعداد میں موجود نہ تھے۔ عمران خان کو بڑا جھٹکا اچانک حکومت جانے کا لگا اور انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کے ساتھ اچانک کیا ہوا‘ وہ اب سنبھلنے لگے ہیں۔ ان کا شریف خاندان کے خلاف بنایا گیا بیانیہ اچانک عوام میں بہت مقبول ہونے لگا ہے کہ ملک دوبارہ لٹیروں کے ہاتھ لگ گیا ہے‘ جن کے خلاف وہ عوام کو ساتھ لے کر باہر نکلے تھے۔ انہوں نے اپنے تئیں شریف خاندان کی سیاست کا خاتمہ کر دیا تھا۔ پچھلے سال ستمبر تک وہ بہت پاورفل تھے اور ان کے وزرا سب کو بتاتے پھرتے تھے کہ اب وہ 2028ء تک ملک پر حکمرانی کریں گے۔ ان وزیروں کا غرور اور تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ جو 2028ء تک حکومت پکی کیے بیٹھے تھے وہ دس اپریل کو اچانک اٹھا دیے گئے۔ اب عمران خان کی تقریروں سے لگتا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر اسی ایک ایشو پر فوکس کریں گے کہ انہیں امریکہ نے نکلوایا اور اس سازش میں پاکستانی شامل تھے۔ وہ سب لوگ جنہوں نے ان کی حکومت گرائی وہ اب ان کے نزدیک غدار ہیں۔ عمران خان جس طرح اپنے فالورز کیلئے اشتعال بھری تقریریں کررہے ہیں اس سے یقینا حکومت کیلئے پریشانی ہوگی۔ شہباز شریف کی حکومت ابھی خود ذہنی طور پر تیار نہیں کہ عمران خان کی حکومت چلی گئی ہے اور وہ وزیراعظم ہیں۔ شاید اس بات کا یقین پی ڈی ایم کی ساری جماعتوں کو نہیں آرہا کہ وہ واقعی عمران خان سے چھٹکارا پا چکی ہیں اور شہباز شریف ان کا وزیراعظم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ دن گزرنے کے باوجود ابھی تک شہباز شریف اپنی کابینہ نہیں بنا سکے۔ شہباز شریف یقینا دبائو میں ہیں کہ ان پر کرپشن کے مقدمات ہیں اور وہ ضمانت پر ہیں۔ ان پر منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں اور تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور توقع کی جا رہی تھی کہ اُنہیں اس جرم میں سزا ہو جائے گی۔ اسی طرح حمزہ شہباز پر بھی کافی سنگین الزامات ہیں لیکن وہ بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔ وہ بھی ضمانت پر ہیں۔ اس بات پر بھی کچھ لوگ مشتعل ہیں کہ تاریخ میں پہلی دفعہ باپ بیٹا وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ بن رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شریف خاندان سب کچھ اپنے خاندان میں رکھنا چاہتا ہے۔ اپنے علاوہ وہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتے۔ پہلے بھائی وزیراعظم تو بھائی وزیراعلیٰ تھا۔ اب باپ بیٹے کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ یوں ساڑھے تین سال پہلے جس شریف خاندان کو عمران خان نے اقتدار سے نکال باہر کیا تھا وہ پھر اقتدار میں ہے اور 2028ء تک حکومت کرنے کا جو منصوبہ عمران خان سوچے بیٹھے تھے وہ ٹھس ہوگیا ہے۔ وہ جن سہاروں کی مدد سے یہاں تک پہنچے تھے ان سے اسی طرح لڑ بیٹھے جیسے نواز شریف لڑے تھے اور اس کا فائدہ عمران خان نے اٹھا لیا تھا۔ عمران خان اس زعم میں رہے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں‘ اب انہی کے ساتھ گزارہ کرنا پڑے گا۔ شاید یہ طعنہ برداشت نہ کیا گیا‘ یوں شہباز شریف خان کا متبادل بن گئے۔ اب عمران خان کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ سب کردار یہیں موجود ہیں جو کل تک ان کے ساتھ کھڑے ہو کر نواز شریف کو وزیراعظم ہاؤس سے نکال کر جیل بھیج رہے تھے وہ سب دو بارہ نواز شریف سے مل گئے ہیں اور اب ان کی باری ہے کہ وہ نواز شریف والی صورت حال کا سامنا کریں۔

عمران خان کی جگہ کوئی بھی ہو وہ یقین نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ چند گھنٹوں میں کیا ہوگیا۔ ان کی قسمت نے ان کے ساتھ کیسا مذاق کیا کہ وہ شہباز شریف جن پر پیر کے روز فرد جرم عائد ہونا تھی‘ اسی روز وزارتِ عظمیٰ کا حلف لے رہے تھے۔ یہ وہ شاک ہے جس سے نکلنے میں خان صاحب کو بڑا وقت لگے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ان کا لہجہ تلخ ہوتا جارہا ہے۔ اگرچہ وہ اب تک امریکہ ہی کو اپنی حکومت گرائے جانے کا سبب قرار دے رہے ہیں لیکن اصل بات وہ کسی کو بتانے کو تیار نہیں کہ یہ سب اندرونی مسئلہ تھا۔ عمران خان کے پاس دو آپشن تھے کہ وہ اندرونی عناصر کو ٹارگٹ کریں جنہوں نے ان کی چند باتوں کی وجہ سے انہیں ہٹایا کیونکہ وہ اب ان کے لیے بھی خطرہ بنتے جارہے تھے‘ یا وہ ابھی ان سے نہ الجھیں اور سیدھا امریکہ پر الزام لگائیں کیونکہ یہاں ہر دوسرا بندہ یہی سمجھتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی صرف امریکہ کے اشارے سے ہوتی ہے۔ یوں عمران خان نے اس خط کا بیانیہ لے کر شہباز شریف اور ان کے بڑے حامیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ عوامی جلسوں نے عمران خان کا حوصلہ بڑھا دیا ہے۔ لوگوں میں غصہ بھی بڑھ رہا ہے۔

عمران خان نے جو کہا تھاکہ اقتدار سے نکل کر خطرناک ہو جائیں گے‘ وہ ٹھیک ہی ثابت ہو رہا ہے‘ لیکن سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ وہ جس لائن پر چل پڑے ہیں‘ کہیں دوسروں کے لیے خطرناک بنتے بنتے وہ اپنا اور ملک کا نقصان نہ کر بیٹھیں۔ اس وقت تو ہر کوئی واہ واہ کر رہا ہے لیکن بعض دفعہ یہ واہ واہ بندے کو مروا بھی دیتی ہے۔ یقین نہ آئے تو یوکرین کے کامیڈین صدر کو دیکھ لیں جو امریکا اور یورپ سے واہ واہ لینے کے چکر میں روس کے ہاتھوں سب کچھ تباہ کروا بیٹھے ہیں۔ انہیں بھی بانس پر چڑھا دیا گیا تھا۔ ہزاروں لوگ اب تک مارے گئے ہیں اور اب انہیں نیچے اترنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ سیانے کہتے ہیں کہ بندے کو بانس پر اتنا چڑھنا چاہیے جہاں سے اترنے میں آسانی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں