ڈیلٹا کے برعکس اومیکرون سے لوگوں کے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ انتہائی کم

100 سے زائد ممالک میں کوروناوائرس کی نئی قسم اومیکرون پہنچ چکی ہے اور دنیا بھر سے شدید کیسز سے متعلق معلومات کو یکجا کیا جارہا ہے۔

امپیریئل کالج لندن نے 56،000 اومیکرون کیسز اور 269،000 ڈیلٹا سے متاثر ہوئے افراد کا تقابلی مطالعہ کیا۔ کس گروپ کو ہسپتال میں علاج کرانے کی ضرورت تھی اس حوالے سے اومیکرون والے مریضوں کی شرح ڈیلٹا کے مقابلے میں 15 سے 25 فیصد کم تھی جبکہ ہسپتال میں داخلے کے حوالے سے اومیکرون کیسز کی شرح 40 سے 45 فیصد کم تھی۔

علاوہ ازیں ایڈنبرگ یونیورسٹی نے اسکاٹ لینڈ کے 5.4 ملین شہریوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا اور پایا کہ ڈیلٹا کے مقابلے میں اومیکرون سے متاثر ہوئے ہسپتال میں داخل مریضوں کی تعداد میں 2 تہائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسی طرح جنوبی افریقہ میں بھی کیا گیا اس حوالے سے تجزیہ خوش آئند نتائج کی حمایت کرتا ہے۔ ہسپتال میں داخلے کے چانسز ڈیلٹا کے مقابلے میں 70 سے 80 فیصد کم پائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکڑ فوسی نے بھی کہا تھا کہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون پچھلی قسم ڈیلٹا وائرس کے مقابلے میں کم خطرناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں