حماس اور اسرائیل میں معاہدہ طے, جنگ بندی برقرار

حماس اور اسرائیل کے درمیان دونوں کے قیدیوں اور مغویوں کی رہائی اور یرغمالیوں کی لاشوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے بعدجنگ بندی برقرار رکھی جائے گی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر ثالثوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جنہیں اسرائیل نے گزشتہ ہفتے رہا کیا تھا، اب انہیں اس معاہدے کے تحت جلد آزاد کیا جائے گا جبکہ اسرائیل مزید فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کرے گا۔

اسرائیلی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس 4 اسرائیلی مغویوں کی لاشیں مصر کے ذریعے اسرائیل کے حوالے کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی اور قیدیوں کی رہائی آج یا کل متوقع ہے جبکہ 8 مارچ تک اگر مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔

اس سے قبل اسرائیل نے حماس کو 3 آپشن دیے تھے، جنہیں حماس نے مسترد کرتے ہوئے مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ان آپشنز میں ایک جنگ بندی میں توسیع اور دوسرا حماس کی مکمل تحلیل شامل تھا تاہم حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے غزہ کی حکمرانی چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی۔

حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حماس فلسطینی قومی مزاحمتی تحریک ہے جس کا مقصد قبضے کا خاتمہ، فلسطینی ریاست کا قیام اور حق خودارادیت کا حصول ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس سیاسی، سفارتی اور مسلح مزاحمت جاری رکھے گی، تاہم روزمرہ کے حکومتی امور تعلیم، صحت، پولیس اور سرحدی کنٹرول فلسطینی قیادت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔