امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم اتحادی اور مشیر ایلون مسک نے بدعنوان ججوں کا مواخذہ کرنے اور انہیں عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایلون مسک امریکی صدر کے کچھ ایگزیکٹیو آرڈرز کو روکنے والے ججز سے نالاں نظر آئے۔
ایلون مسک نے کہا کہ امریکا میں جمہوریت نہیں ہے، بدعنوان ججوں کا مواخذہ کیا جانا چاہیے اور انہیں ہٹا دینا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری اخراجات میں کمی اور غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے ایگزیکٹیو آرڈرز کو روکنے کے عدالتی فیصلوں پر ایلون مسک نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ اگر کوئی جج کہیں بھی ہر صدارتی حکم کو ہر جگہ روک سکتا ہے تو ہمارے پاس جمہوریت نہیں ہے، ہمارے پاس عدلیہ میں آمریت ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے سینئر سینیٹر مائیک لی نے بھی ایلون مسک کے مطالبے میں اپنی آواز شامل کر دی اور کہا ہے کہ کرپٹ ججوں کا مواخذہ کیا جانا چاہیے اور انہیں ہٹا دینا چاہیے۔
امریکی سینیٹر کی بات پر ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر جواب دیا کہ یہ واحد راستہ ہے۔