عامر خان ’لال سنگھ چڈھا‘ کی ریلیز کے بعد ایک مرتبہ پھر مشکل میں پڑگئے

نیو دہلی: بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکٹشنسٹ عامر خان کی متنازعہ فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ریلیز کے بعد ایک مرتبہ پھر مشکل میں پڑ گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلسل تنقید کا نشانہ بننے والی عامر خان کی فلم لال سنگھ چڈھا کے خلاف دہلی میں ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دہلی کے ایک وکیل نے پولیس کمشنر سنجے اروڑہ کو فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ کے پروڈیوسر عامر خان، ڈائریکٹر ادویت چندن، اور فلم ڈسٹری بیوٹر پیراماؤنٹ پکچرز کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔

ایڈووکیٹ ونیت جندال نے الزام لگایا کہ عامر خان کی فلم میں کچھ ناگوار مناظر ہیں جن میں ہندوستانی فوج کی توہین کی گئی اور ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔

ونیت جندال کی جانب سے درج کروائی گئی درخواست میں لکھا گیا ہے کہ ’اس فلم میں فلمسازوں نے دکھایا ہے کہ ایک ذہنی معذور شخص کو کارگل جنگ میں لڑنے کے لیے فوج میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی تھی‘۔

اُنہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ فوج کے بہترین اہلکار، سخت تربیت یافتہ فوجی جوانوں کو کارگل جنگ لڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن فلم بنانے والوں نے جان بوجھ کر مذکورہ صورتحال کو بھارتی فوج کے حوصلے پست کرنے اور بدنام کرنے کے لیے پیش کیا ‘۔

اُنہوں نے فلم کے ایک سین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ فلم مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے ، فلم میں ایک پاکستانی اہلکار نے لال سنگھ چڈھا سے عبادت کرنے کے بارے میں پوچھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور عبادت کرتا ہوں، تم بھی ایسا کیوں نہیں کرتے؟

جس پر ’لال سنگھ چڈھا‘نے جواب دیا کہ ’میری ماں نے کہا کہ یہ سب پوجا پاٹھ ملیریا ہے، اس سے فسادات ہوتے ہیں‘۔

درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’یہ مکالمہ پوری ہندو برادری کے لیے توہین آمیز ہے کیونکہ یہ نا صرف مذہبی جذبات کو بھڑکاتا ہے بلکہ ہندو مذہب کے پیروکاروں میں اشتعال انگیزی کا باعث بھی بنتا ہے‘۔

یاد رہے کہ بائیکاٹ کے بعد عامر خان کی فلم ریلیز سے اب تک صرف 37 کروڑ کا بزنس کر سکی ہے جو اس بڑے بجٹ کی فلم کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں