مکئی کے نینوذرات سے سرطان کے علاج میں پیشرفت

ٹوکیو: اگرچہ بعض اقسام کے نینو ذرات کئی امراض کے علاج میں بہت مؤثر دیکھے گئے ہیں لیکن اب مکئی کے نینوذرات سے کینسر کے علاج کے متاثر کن نتائج سامنے آئے ہیں۔

گزشتہ کئی برس سے بہت ارزاں ہونے کی بنا پر پودوں سے اخذ کردہ نینوذرات پر تحقیق ہورہی ہے جنہیں پلانٹ نینوپارٹیکلز یا ’این پی‘ کہا جاتا ہے۔ پھر ان میں فطری طور پر امراض کے خلاف سرگرم اجزا بھی موجود ہوسکتےہیں۔ جن میں پولی فینولز نامی اینٹی آکسیڈنٹس اور مائیکروآراین اے کی بہتات ہوتی ہے۔ نظری طور پر یہ بدن میں مخصوص اعضا تک دوا لے جانے کا کام کرسکتے ہیں۔

اسی بنا پر ٹوکیو یونیورسٹی آف سائنس (ٹی یو ایس) نے مکئی کو بطور خام مال استعمال کرتے ہوئے ضدِ سرطان بایونینوپارٹیکلز بنائے ہیں۔ ٹی یو ایس کے پروفیسر ماکیا نشی کاوا کہتے ہیں کہ پودوں کے نینوذرات کے طبعی کیمیائی خواص کنٹرول کرکے ہم جسم میں ان کی ادویاتی تاثیر پر قابو پاسکتےہیں۔ اسی لیے عام پائی جانے والی مکئی کا انتخاب کیا گیا۔ یہ دنیا بھر میں ہرجگہ کاشت ہوتی ہے اور جینیاتی تبدیلی سے گزاری جاسکتی ہے۔

پہلے میٹھی مکئی کے دانوں کو پانی میں ملایا گیا ۔ پھر اس کا رس سینٹری فیوج مشین میں گھماکر خاص سرنج فلٹر سے گزارا گیا جس سے 0.45 مائیکرومیٹر کے ذرات بنے۔ اب انہیں سینٹری فیوج مشین میں مزید چکر دیئے گئے۔ اس سے باریک ترین ذرات بنے جو 80 نینومیٹر جسامت رکھتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر باریک نینوذرے پر 17 ملی وولٹ کا منفی چارج بھی تھا۔

پھر ایک اور تجربے میں دیکھا گیا کہ یہ خلیات میں جاسکتے ہیں یا نہیں تو سائنسداں یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وہ کئی طرح کے خلیات میں سرایت کرگئے۔ چوہوں کے تجربات نے بتایا کہ یہ آنت کے خلیات کولون 26 سرطانی خلیات میں سرایت کرسکتے ہیں۔ اسی طرح آر اے ڈبلیو 264.7 اور نارمل این آئی ایچ تھری ٹی تھری خلیات میں بھی گھس بیٹھے۔ یہ سارے خلیات عموماً تجربہ گاہوں میں دوا کی تاثیر کے لیے بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور دوا کا راستہ اور عمل بھی انہی سے گزرتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر کولون 26 میں مکئی کے ذرات جاگھسے اور وہاں رسولی کی افزائش کو روکا۔ علاوہ ازیں انہی ذرات نے بہت کامیابی سے سرطانی خلیات میں ٹی این ایف ایلفا خارج کیا جو سرطان کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے سائنسداں بہت مسرور ہیں کیونکہ مکئی کے نینوذرات کی تیاری بہت سستا اور آسان عمل ہے۔

اب اگر یہ تحقیق آگے بڑھتی ہے تو مکئی کے قدرتی نینوذرات سب سے پہلے آنتوں کے سرطان کے علاج میں کام آسکیں گے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں