حکومت کے خلاف باتیں کرنے والے سارے چھانگا مانگا کی پیداوار ہیں، شیخ رشید

راولپنڈی: وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف باتیں کرنے والے سارے چھانگا مانگا کی پیداوار ہیں۔

راولپنڈی میں ماں بچہ اسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست لوگوں کی فلاح کےلیے ہے نقصان پہنچانے کیلئے نہیں، اسپتال کی تعمیر کی رفتار سے مطمئین نہیں ہوں، وزیراعظم چاہتے ہیں 28 فروری تک اس کا افتتاح ہو لیکن ایسا لگتا نہیں۔

اپوزیشن لیڈر کے بیان کے حوالے سے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہبازشریف عمران خان کے لیے ڈراؤنا نہیں سہانا خواب ہیں، سیاست میں چاروں شریف مائنس ہیں، حکومت کے خلاف باتیں کرنے والے سارے چھانگا مانگا کی پیداوار ہیں، یہ بزدلوں کا گروہ ہے جو پیسہ بنانے کیلئے سیاست کرتے ہیں، لیکن ان کے نصیب میں پیسے بھی نہیں ہیں، سیاست دان دھرتی ماں کے لیے مرتا ہے لیکن یہ باہر بھاگ گئے، دنیا میں ایسا سیاستدان نہیں دیکھا جو حکومت گرانے سے زیادہ لندن بھاگنے پر محنت کرتے ہیں، بیماری کا ڈرامہ کرنے والے حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں، آئیں ملک میں سیاست کریں مقابلہ کریں۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، یہ لوگ جتنی مرضی کوشش کریں کچھ نہیں ہونے والا، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، فنانس بل پاس ہوگیا اور ان کے ممبران کم ہوگئے، یہ کہتے ہیں کہ فنانس بل اس لیے پاس ہوا کہ فون کال آئی، ان سے کہتا ہوں کہ عدم اعتماد لائیں پھر 25 ممبران کم ہوں گے اور یہ پھر کہیں گے کہ سب فون کال سے ہوا، اپوزیشن کہتی ہے کہ 23 مارچ کو عوام کا سمندر ہوگا، ان سے کہتا ہوں کہ ان کے ساتھ آنے والے لوگوں سے زیادہ 23 مارچ کی پریڈ میں لوگ شریک ہوں گے، وزرات داخلہ راستے کھلے رکھے گی قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے تو راستے کھلے رہیں گے، انہیں کووڈ کا خیال رکھنا چاہیے اور قانون کا احترام کرنا چاہئے، ان سے کہتا ہوں کہ دو مارچ کرنے کے بعد ایک اور مارچ بھی کرلیں کچھ نہیں ہوگا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف میں 23 ویں دفعہ گئے ہر دفعہ آئی ایم ایف سخت ہوتا ہے، ان کی سختی اس لیے ہوئی کہ خزانے پر بوجھ زیادہ ہیں، وزیراعظم نے کہا ہے کہ 3مہینے حکومت کیلئے بہت اہم ہیں، اپریل کے بعد حالات ٹھیک ہوجائیں گے، بلدیاتی انتخابات ہوں گے اس کے بعد عام انتخابات بھی ہوں گے،عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔

سانحہ مری کے حوالے سے وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ وہاں صرف جانیں بچانے گیا، اگر میں وہاں جاکر توجہ نہ دیتا تو 23 کی بجائے 40 لوگ مر جاتے، الله نے یہ کام مجھ سے لیا اور میں نے وہاں جاکر وزیراعظم کی منظوری سے فوج رینجرز کو بلا کر ریسکیو میں استعمال کیا، 23 افراد کی اموات بڑا واقعہ ہے، مری میں اب صوبائی معاملہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں