لتا کے دکھ لتا ہی جانے

دوست ارشد چودھری ملنے آئے۔ میں نے حال احوال پوچھا تو کہنے لگے کہ جہاں جائیں جس سے بات کریں مایوسی سی ہے۔کوئی بندہ خوش نہیں ملتا۔کچھ دن پہلے وہ یورپ گئے تھے۔وہاں بھی پاکستانیوں سے ملے تھے۔اب پاکستان واپس آئے تو بھی ملاقاتیں یار دوستوں سے ہورہی تھیں۔ارشد چودھری شاندار انسان ہیں۔ان جیسا سوشل بندہ کم ہی دیکھا ہوگا۔ہر وقت یار دوستوں کیلئے کسی بھی ضرورت پڑنے پر تیار رہتے ہیں۔انکساری اور عجز سے بھرے انسان۔
میں نے ان کی بات سنی اور کچھ دیر چپ رہا۔ پوچھنے لگے :کیا ہوا‘ایسی کیا بات کہہ دی کہ آپ کو چپ لگ گئی؟میں نے کہا: اپنا گائوں یاد آگیا۔وہ چپ رہے کہ ان کی اس بات کا گائوں سے کیا تعلق ۔میں نے کہا: دنیا ان برسوں میں کتنی بدل گئی ہے۔ شاید 80ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہوگی‘ ہمارے گائوں کے سکول کے استاد غلام محمد صاحب ایک نیا سائیکل لے کر آئے۔اس وقت پورے گائوں میں کسی کے پاس نیا سائیکل نہ تھا۔ دو تین پرانے سائیکل ہوں گے۔ سارا گائوں وہ نیا سائیکل دیکھنے گیا‘ جس کی شان و شوکت ہی نرالی تھی۔اس پر خوبصورت کور چڑھے ہوئے تھے۔ غلام محمد صاحب کے گھرکے لان میں وہ سائیکل کھڑا تھا اور سب اسے مرعوب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ استاد صاحب خود اس سائیکل کو دھوتے اور اگر کسی شاگرد کو یہ ڈیوٹی ملتی تو لگتا اسے دنیا کا بڑا اعزاز مل گیا ہو۔ خیر کچھ عرصے بعد گائوں میں کوئی موٹر سائیکل لے آیا۔پھر سکوٹر آیا۔گائوں میں ایک ہی پرانا ٹریکٹر تھا اور جب سردیوں کی صبح اسے سٹارٹ کرنے کا مرحلہ درپیش ہوتا تو پورا گائوں اس عمل میں شریک ہوتا۔رات کو سوئچ آف کرتے وقت اسے چڑھائی پر کھڑا کیا جاتا۔صبح سویرے سورج کی کرنیں نکلنے کے ساتھ اسے چڑھائی سے دھکا دے کر سٹارٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا اور پورا گائوں اکٹھا ہوتا لیکن جنگِ عظیم دوم ماڈل ٹائپ ٹریکٹر سٹارٹ نہ ہوتا۔ اور جب ہوتا تو لگتا پورا گائوں اس کے شور میں دب گیا ہو۔بلکہ یادآیا جب ہمارے گھر ریڈیو آیا تھا تو لگتا تھا کہ پتہ نہیں دنیا کا کون سا خزانہ ہمارے ہاتھ لگ گیا ۔ ریڈیو کی بھی عزت افزائی کی جاتی کہ اس پر ریشمی خلاف چڑھا کر گھر میں اونچی جگہ پر رکھا جاتا۔ پھر ٹیپ ریکارڈ ایک سٹیٹسٹس سمبل بنا۔جس گھر میں ٹیپ ریکارڈ تھا اس کا مطلب وہ گھرانہ خوشحال تھا۔ اکثر لوگ اپنی بغل میں ٹیپ دبائے گرمیوں کی دوپہر کسی چھائوں کے نیچے چارپائی پر لیٹے پٹھانے خان‘ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی یا منصور ملنگی کے دکھی گانے کیسٹوں پر سنتے اور پھر وہیں محفل جمتی۔
پھر ٹی وی آیا تو ریڈیو کی اہمیت کچھ کم ہوئی لیکن پھر بھی ہماری زندگیوں سے اس کی اہمیت ختم نہ ہوئی کیونکہ ٹی وی کا دورانیہ ان دنوں چند گھنٹے کا تھا۔ شام چار یا پانچ بجے سے رات بارہ بجے تک۔ سارا دن ریڈیو کی ضرورت پڑتی۔ پھر وی سی آر‘ ایک نئی ایجاد آئی جس نے گائوں میں ایک نیا سٹیٹس پیدا کیا۔ اب آپ کے گھر ریڈیو‘ کلر ٹی وی‘ ٹیپ ریکارڈ ہیں تو آپ کھاتے پیتے زمیندار ہیں۔ وی سی آر تو کرائے پر ہی لایا جاتا تھا کیونکہ اس وقت بھی فلمیں دیکھنا کوئی اچھا کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ جنرل ضیاکا حکم تھا اور پولیس دیہات پر چھاپے مارتی تھی کہ کوئی فلم دیکھ تو نہیں رہا۔اس وقت گائوں میں چند لوگوں کی نوکریاں ہوں گی۔ کچھ سکول ٹیچرز تو کچھ ڈاک خانے میں کلرک تو کوئی ایک آدھ بینک جاب کررہے تھے۔ ہاں گنتی کے تین سٹوڈنٹ ڈاکٹرز بننے کے لیے میڈیکل کالجز میں پڑھ رہے تھے۔گائوں کی ایک لڑکی میڑک ‘ایف اے کر کے گائوں کے نئے گرلز پرائمری سکول میں استانی لگی ‘ جو میری بڑی بہن تھی۔اس گرلز سکول کی زمین بھی بابا نے دی تھی۔ بیٹی کو سکول ٹیچر بنوانے پر مجھے یاد ہے کہ گائوں میں کچھ رشتہ داروں کے طعنے بھی سننے پڑے تھے۔
ارشد چودھری چپ کر کے سن رہے تھے‘ شاید حیران بھی ہورہے تھے کہ میں یہ کیا رام لیلا لے کر بیٹھ گیا ہوں۔میں نے کہا: اب میں گائوں جائوں تو میں اپنے گائوں کو پہچان نہیں پاتا۔ ہر گھر میں دو تین نوکریاں ہیں۔ درجن سے زیادہ تو ڈاکٹرز ہیں‘ درجن بھر نوجوان پولیس میں ہیں‘ ہر گھر میں بچیاں پڑھی لکھی ہیں اور جاب کرتی ہیں۔ گائوں میں موٹر سائیکل چھوڑیں اب ہر گھر میں نہیں تو ہر دوسرے تیسرے گھر میں اپنی اپنی کاریں ہیں۔ کبھی پورا گائوں کچی مٹی یا کچی اینٹوں سے بنا ہوا تھا ‘ اب ہر گھر کچا چھوڑیں ایک بڑا بنگلہ ہے۔گھروں میں دنیا کی ہر آسائش موجود ہے جو وہ افورڈ کرسکتے ہیں۔جو زندگی ہمارے باپ دادا گزارتے تھے آج کی اور اُس زندگی میں وہی فرق ہے جو پاکستان اور یورپ کے لائف سٹائل میں ہوگا۔میں نے کہا: ارشد بھائی آج میں گائوں جاتا ہوں تو اکثر سے یہی بات سنتا ہوں کہ مایوسی ہے‘ پریشانی ہے۔ مجھے اپنے ماں باپ یاد آتے ہیں کہ کتنے خوش قسمت تھے ایک چھوٹے سے گائوں میں رہتے تھے‘جب ان کی ساری دنیا ریڈیو کے گرد گھومتی تھی۔ انہیں دنیا کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ ہاں بھٹو دور میں بی بی سی بابا ضرور سنتے تھے ورنہ اس سے پہلے کی دنیا تو خاموش دنیا ہی تھی۔گائوں میں شاید ہی دو تین ایسے گھر ہوں گے جن کے لکڑی کے دروازے لگے ہوئے تھے ورنہ پورے گائوں میں شاید ہی کسی گھر میں کوئی دورازہ یا گیٹ ہو۔ اب ہر گھر پکا ہے بلکہ بنگلہ ہے۔ گھر کے پورچ میں کار کھڑی ہے‘ موٹر سائیکل بھی ہے۔ سائیکل صرف بچے چلاتے نظر آتے ہیں۔
میں نے کہا: اب گائوں کی سڑک کنارے رقبے بک گئے ہیں۔ وہاں دکانیں ڈال دی گئی ہیں۔ اب مجھے گھر کا راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی سب غیرمطمئن ہیں۔ کوئی خوش نہیں بلکہ پورا گائوں ایک دوسرے سے ناراض ہے۔ ہر ایک کی جیب بھری ہوئی ہے لہٰذا وہ دوسرے کی کیا پروا کرے۔ لیکن پھر بھی سب مایوس ہیں۔میں نے کہا امیر انسان کو زیادہ دولت چاہیے۔ غریب بے چارے کو تو ایکسپوژر ہی نہیں ہوا کہ گاڑی‘ آئی فون‘ پیزا‘ برگر کھانا بنگلے میں ایئرکنڈیشنر چلا کر سونا کیسا لگتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا مسئلہ ہے جو یہ افورڈ کرسکتے ہیں اور انہیں ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چھن نہ جائے یا ہم اگر مزید افورڈ نہ کرسکے تو کیا ہوگا۔ یہ غیریقینی کی سوچ ان کے اندر مایوسی لاتی ہے۔ قناعت پرستی کب کی غائب ہوچکی۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم اس پر خوش نہیں ہیں بلکہ ہم اس کے لیے ڈیپریس اور افسردہ ہیں جو ہمارے پاس نہیں۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے انجوائے نہیں کرپارہے لہٰذا مایوسی بڑھ گئی ہے۔
میں نے کہا: چودھری صاحب ایک مزے کی بات بتائوں۔ شاید آپ نے ہی مجھے برصغیر پاک و ہند کی سب سے بڑی کلاکار لتا جی کی ویڈیو بھیجی تھی جس میں انٹرویو کرنے والے نے لتا سے پوچھا کہ آپ کو اگر دوبارہ جنم ملے تو آپ کیا بننا پسند کریں گی؟انٹرویو والے کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب لتا جی نے جواب دیا مجھے نہیں پتہ کہ اگلا جنم ہے یا ملتا ہے مجھے لیکن اگر اگلا جنم ہوا تو میں دوبارہ لتا منگیشکر بننا پسند نہیں کروں گی۔یہ سن کر انٹرویو کرنے والا سناٹے میں آگیا کہ لتا جیسی بڑی کلاکار جس نے برصغیر کی میوزک اور فلم انڈسٹری پر راج کیا تھا اور جس کی دنیا بھر میں عزت کی جاتی ہے‘ جس کے پاس دنیا جہاں کی دولت ہے وہ بھی اپنی موجودہ زندگی سے خوش نہیں۔ دوبارہ جنم نہ ہی ملے تو اچھا ہے۔اینکر نے وجہ جاننے کی کوشش کی تو لتا جی مسکرا کر صرف اتنا بولیں: لتا کے دکھ لتا ہی جانتی ہے۔
میں نے کہا: چودھری صاحب اگر لتا بھی اس زندگی سے خوش اور مطمئن نہ تھی تو پھر جن لوگوں کا آپ بتا رہے ہیں کہ وہ مایوس ہیں یا اداس ہیں وہ کیا معنی رکھتا ہے۔جب سے لتا جی کی دکھ بھری سریلی آواز میں یہ فقرہ سنا ہے ایک عجیب سی اداسی طاری ہے…لتا کے دکھ لتا ہی جانے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں