دمے کے مریضوں میں امراضِ قلب کے خطرات زیادہ ہوسکتے ہیں

میساچوسٹس: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دمے کے مرض میں مسلسل مبتلا افراد، جو علامات کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ ادویہ کا استعمال کرتے ہیں، میں ان لوگوں کی نسبت امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں جو اس بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے۔

جرنل آف دی امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں بدھ کے روز شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے بتایا مطالعے میں شریک وہ افراد جو مسلسل دمے کے مرض میں مبتلا تھے ان کے خون میں دوا کے استعمال کے باوجود سوزش کی سطح زیادہ تھی۔

سوزش کی سطح میں زیادتی کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ دل کے نظام پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے جو دماغ کو جانی والی خون کی شریانوں میں چکنائی کے جمع ہونے کا سبب بنتی ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ شرکاء جو مسلسل دمے کے مرض میں مبتلا تھے ان میں 67 فی صد ایسے تھے جن کی شریانوں میں چکنائی جمع تھی جبکہ کبھی کبھار اس کیفیت میں مبتلا ہونے والے یا وہ افراد جن کو دمہ بالکل نہیں تھا ان میں 50 فی صد افراد کی شریانوں میں چکنائی تھی۔

تحقیق کے رہنما مصنف ڈاکٹر میتھیو سی ٹیٹرسال نے ایک نیوز ریلیز میں کہا کہ کئی معالجین اور مریض یہ نہیں سمجھتےکہ دمے کے سبب سوجنے والی سانس کی نالیاں شریانوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ لہٰذا مستقل دمے کے مریضوں کے لیے امراضِ قلب کے عوامل پر توجہ دینا کافی مددگار ہوسکتا ہے۔

محققین نے تحقیق میں تقریباً 5000 افراد کی صحت کے متعلق ڈیٹا کا مطالعہ کیا جن کی اوسط عمر 61 برس تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں