دو سیاسی خاندانوں کا ٹکراؤ !

میرے دو سیاسی خاندانوں سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں بلکہ یوں کہتے ہیں کہ گجرات کے چودھری برادران سے بہت اچھے،اور شریف خاندان سے بالکل گھریلو مراسم۔ ہم ماڈل ٹائون میں تھے تو شریف برادران ایچ بلاک میں رہتے تھے میاں محمد شریف مرحوم ومغفور والد ماجد مولانا بہائوالحق قاسمی سے بہت عقیدت رکھتے تھے ۔میاں شریف مرحوم اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ جامع مسجد اے بلاک میں نماز ادا کیا کرتے تھے وہاں کبھی کبھی ان سے ملاقات ہو جا تی ۔اس کے بعد نواز شریف سیاست میں آگئے اور اس وقت کی سیاسی روایت کے مطابق جنرل غلام جیلانی سے ہوتے ہوئے جنرل ضیاالحق کی ’’بیعت‘‘ کر لی بالکل اسی طرح جس طرح مرحوم وہ مغفور ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب خان کو ’’ڈیڈی‘‘ کا درجہ یدیا تھا ۔نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے اور انکے اس سیاسی ملاپ کے بعد میں نہ پہلے ان سے زیادہ قریب تھا اور بعد میں تو بالکل نہ ہوا۔میں نے انہیں اپنے دل میںبھرپور جگہ 1990کے بعد دی جب وہ اس چنگل سے باہر آئے اور پھر میں نے ان کیلئے بیسوں نہیں سینکڑوں کالم لکھے بلکہ ان دنوں میاں صاحب نےکبھی کبھار مجھے اسٹیج پر اپنے ساتھ بٹھانے کی دعوت بھی دی، میں دیکھنے میں جو بھی لگوں مگر درحقیقت بالکل غیر سیاسی آدمی ہوں مگران کی اس محبت بھری دعوت کو ٹالنا میرے لئے ممکن نہ تھا ۔میاں صاحب میرے گھر پر بھی دو تین مرتبہ اپنی مرحومہ بیگم کے ساتھ تشریف لائے اور وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ایک دن اچانک میرے دفتر ’’معاصر‘‘ خود ڈرائیو کرکے کسی کو اطلاع دیئے بغیر تشریف لے آئے، ایک مرتبہ مجھے فون آیا کہ قاسمی صاحب آپ کہاں ہیں میں نے بتایا الحمرا آرٹس کونسل میں ہوں ذرا عجزو انکسار ملاحظہ فرمائیں ’میں اس وقت مال روڈ سے گزر رہا ہوں اگر آپ فارغ ہوں تو کچھ دیر کیلئے حاضر ہو جائوں‘ اب اس ادا پہ کون نہ مر جائے اے خدا چنانچہ تشریف لائے اور الحمرا کا عملہ وزیر اعظم کو اچانک اپنے درمیان پاکر بے پناہ خوش ہوا ۔جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی اور پھر اس کی وجہ سے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتی تو میرا دل بجھ کر رہ گیا میں انہیں جیل میں بھی ملنے گیا ،واضح رہے چور چور، کرپٹ کرپٹ کے نعروں میں اگر ایک فیصد بھی حقیقت ہوتی تو میں نواز شریف کو کب کا چھوڑ چکا ہوتا۔ مگر میں کل بھی ان کے ساتھ تھا آج بھی ان کے ساتھ ہوں اور اگر کل بھی وہ اپنے اصولوں پر اسی طرح قائم رہے تو میں کل بھی ان کے ساتھ ہوں گا ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف سے بھی میرے بہت دوستانہ تعلقات رہے ہیں، ان دنوں بھی تعلقات ہیں ۔

اب آتے ہیں پنجاب کے دوسرے سیاسی خاندان کی طرف یہ گجرات کے چودھری برادران ہیں کبھی ان دونوں خاندانوں میں بہت قرب تھا مگر ان کے تعلقات کو ’’کسی ‘‘ کی نظر لگ گئی اب یہ تعلقات دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں کاش ایسا نہ ہوتا چنانچہ میں آج بھی وہی کہوں گا جو کل کہتا تھا۔ میں اس خاندان کی کچھ اچھائیاں بالکل نہیں بھول سکتا۔ جب شریف خاندان سے ان کے مسائل چل رہے تھے اور چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب چودھری پرویز الٰہی کی گاڑی اور ان کے سارے پروٹوکول کو اپنے گھر کے دروازے پر پایا، میں نے پوری گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کے معانقہ میں بہت محبت تھی، ہم کافی دیر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے، دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو میں نے ملازم کو کھانا لگانے کا کہا۔ چودھری صاحب نے عزت بخشی اور ہم نے گھر میں جو دا ل روٹی تھی اس سے لذت کام و دہن کا کام لیا۔ میں اس روز چودھری صاحب کی خاندانی روایت سے ایک بار پھر بہت متاثر ہوا کہ اختلافات اپنی جگہ مگر یہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ تاہم اگلے روز برادرم شعیب بن عزیز نے اخبارات کو خبر جاری کردی کہ عطاء الحق قاسمی نے پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے اعزاز میں اپنے گھر پر ظہرانہ دیا۔ مگر میری بدتمیزی ملاحظہ کریں کہ میں نے اگلے روز یہ خبر اخبارکو جاری کی کہ یہ کوئی خصوصی ظہرانہ نہیں تھا، کھانے کا وقت تھا ، چودھری صاحب نے مجھے اعزاز بخشا کہ میرے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے، میں کیا کرتا شریف خاندان سے میرے دیرینہ محبت بھرے تعلقات ہیں۔ اس موقع پر اس خبر کی اشاعت دو کشتیوں میں پائوں رکھنے کے مترادف تھی جو میری جبلت ہی میں شامل نہیں۔

چودھری برادران کے اس طرح کے بہت سے شکریے مجھ پر واجب ہیں، چودھری ظہور الٰہی کے بعد اس خاندان کے انتہائی قابل احترام بزرگ چودھری شجاعت حسین میرے والد ماجدؒ کی وفات پر میرے گھر تعزیت کیلئے تشریف لائے، میں گھر نہیں تھا، دوسری مرتبہ تشریف لائے، میں اس بار بھی موجود نہیں تھا، فاتحہ خوانی کرکے چلے گئے اور کبھی اظہار بھی نہ کیا۔ ایک بات اور ہر طرح کے حالات میں ہم ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شریک ہوتے رہے ہیں اور کبھی ہم میں سے کسی نے ایک دوسرے کو غیر نہیں سمجھا۔ میں جب پی ٹی وی کا چیئرمین تھا چودھری پرویز الٰہی نے ایک جینوئن آرٹسٹ کیلئے سفارش کی جس کی تعمیل میں، میں نے وقت نہیں لگایا، یہ قصہ بہت طویل ہے مگر کالم، کالم ہی ہونا چاہیے، جوابِ مضمون نہیں۔ بس آخر میں یہ کہ اس ’’جنگ‘‘ کا اختتام کسی اچھے پوائنٹ پر ہونا چاہیے، چودھری کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کی مبارک۔ رئوف کلاسرا کے ان الفاظ پر بے حد معذرت کے ساتھ کہ چودھری پرویز الٰہی آخر دوبارہ وزیر اعلیٰ بن گئے چاہے خاندان ٹوٹے، خون سفید ہوا، گھر میں ڈانگ سوٹے چلے اورکزنز نے گلے کاٹے، اگلے جملے بہت سخت ہیں، اپنی روایتی آنکھ کی شرم کی وجہ سے چھوڑے جا رہا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں