10 پاکستانی نوجوانوں کیلیے انسانیت کی خدمت پر ’’ ڈیانا ایوارڈ‘‘

لاہور: 10 پاکستانی نوجوانوں نے تعلیم، صحت، آگاہی اور سماجی خدمت میں ’’ڈیانا ایوارڈ‘‘ حاصل کرکے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کردیا، نوجوانوں کی عمر 25 برس سے کم جبکہ ایوارڈ ہولڈر ایک لڑکی کی عمر 18 برس ہے جو ان سب میں کم عمر ہے۔

ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں پانچ پاکستانی، ایک کا تعلق آزاد و جموں کشمیر جبکہ 4 اوورسیز پاکستانیز ہیں،شہزادی آف ویلزڈیانا کی یاد میں قائم کیا گیا یہ ایوارڈ اسی نام کی خیراتی ادارہ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اسے ان کے دونوں بیٹوں ، ڈیوک آف کیمبرج اور ڈیوک آف سسیکس کی حمایت حاصل ہے۔

اسلام آبادکی 18 سالہ اقراء بسمہ کو دماغی صحت کیلیے کام کرنے اور نفسیاتی دبائو کا شکار افراد کی گفتگو سننے کیلئے ایک پلیٹ فارم بنانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اقراء اب تک 15 سے زائد قومی و عالمی اداروں میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کر چکی ہیں۔

گوجرانوالہ کی 20 سالہ رمنا سعید کو جنسی ہراسانی کے تدارک کے لیے کام کرنے اور خواتین کو اس کے خلاف کھڑا ہونے کیلئے گرانقدر کام کرنے کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا، رمنا نے ’’روزنامہ ایکسپریس ‘‘کو بتایا کہ 2016 میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے کام کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں