’’ڈیلٹا کرون‘‘ قبرص سے نمودار ہونے والے نئے وائرس پر ماہرین تقسیم ہوگئے

قبرض: ابھی ہم کیمرون سے فرانس پہنچنے والے شخص میں وائرس کی تازہ ترین قسم پر غور ہی کررہے تھے کہ اس دوران کووڈ 19 کے ایک اور وائرس کی خبر قبرص سے سامنے آئی ہے جسے خواص کی بنا پر ڈیلٹا اور اومیکرون کا ملغوبہ کہا جارہا ہے اور اس کا نام ’ڈیلٹا کرون‘ رکھا گیا ہے۔

قبرص سے تعلق رکھنے والے خرد حیاتیات کے ماہر ڈاکٹر لیونائیڈوس کوسترائکس نے سب سے پہلے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 25 مریض ایسے دیکھے ہیں جو کووڈ 19 کے شکار تو ہیں لیکن ان کے وائرس میں بہ یک وقت ڈیلٹا اور اومیکرون کے خواص موجود ہیں۔ ڈاکٹر لیونائیڈوس نے اپنی جانب سے اس کا نام ’ڈیلٹا کرون‘ لکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیلٹا ویئرئنٹ کے جینوم میں اومیکرون کے خواص موجود ہیں۔

ڈاکٹر لیونائیڈوس نے سب سے پہلے اس کا اعلان دو روز قبل کیا تھا۔ ان کا اصرار تھا کہ یہ وائرس کی نئی قسم ہے جس کے پھیلاؤ، شدت اور ہلاکت خیزی پر ابھی غور کرنا باقی ہے تاہم دنیا کے دیگر ماہرین اس سے متفق نہیں۔

سب سے پہلا ردِعمل امپیریئل کالج لندن کے ممتاز ماہر ڈاکٹر ٹام پیکاک کی جانب سے سامنے آیا۔ انہوں نے قبرص میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ یہ کوئی نیا وائرس نہیں بلکہ تجربہ گاہ کی آلودگی کی وجہ سے ایسا ہوسکتا ہے۔

بعد ازاں اپنے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ، اومیکرون کو نمودار ہوئے مشکل سے چند ہفتے ہوئے ہیں اور وائرس کی نئی قسم اتنی جلدی پیدا نہیں ہوتی اور جب تک وائرس اچھی طرح انسانوں کی بڑی تعداد میں جاکرتبدیل نہیں ہوجاتا۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ قبرص کی تجربہ گاہوں میں معیارات کو برقرار نہیں رکھا جاتا اور اس صورتِ حال میں ایک ہی نمونے میں دو وائرس کی آلودگی شامل ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں ویلکم سینگرانسٹی ٹیوٹ کے سربراہ جیفی بیرٹ نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے پر بہت تحقیق کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ’ یقینی طور پر یہ ڈیلٹا اور اومیکرون کا حیاتیاتی مجموعہ نہیں‘ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دنیا کو مشورہ دیا کہ وہ قبرص کی تحقیق بھول جائیں اور سکون کا سانس لے کر آگے بڑھ جائیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں