احساس

اگردل دنیا داری کے کاموں بشمول کالم لکھنے پرراضی ہوتا تو لکھنے کو بہت کچھ تھا مگر جہاں میں تھا‘ وہاں دل نے ایسا کوئی کام کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ایک دوست نے کہا ہے کہ سیاست یا اسی قسم کے موضوع پر لکھنے کے بجائے دل کا حال ہی لکھ دو۔ اسے کہا کہ بھلا دل کا حال لکھنا قلم کے بس کی بات کہاں ہے؟ اب آیا ہوں تو حال یہ ہے کہ پاؤں سوجے ہوئے ہیں‘ ناک اور کان بند ہیں‘ تیسرے درجے کا فلو ہے‘ بخار ہے اور تھکن ہے‘ لیکن دل شاد ہے۔
دس روز قبل ملک کو جن حالوں میں چھوڑ کر گیا تھا واپسی پر ویسا ہی ہے۔ مجال ہے کہ رتی برابر بہتری آئی ہو۔ ہاں! یہ ضرور ہوا ہے کہ ملک سے روانگی کے وقت سعودی ریال پچاس روپے پندرہ پیسے پر خریدا تھا واپسی پر باون روپے نوے پیسے پر واپس کیے ہیں۔ محض گیارہ دن میں خریدو فروخت کے باہمی فرق کے علاوہ تین روپے پچھتر پیسے فی ریال ہمارا روپیہ مزید بے وقعت ہوا ہے۔ گزشتہ والے نااہلوں کے زمانے میں ستائیس بجلی گھر بند تھے؛ تاہم لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی۔ نئی حکومت نے آ کر اپنی تیز رفتار کارکردگی سے ان ستائیس بند بجلی گھروں میں سے بیس بجلی گھرچالو کر دیے ہیں اور لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر ہے۔ چارسال قبل جس طرح معاشی ارسطو اسد عمر حساب لگا کر بتاتا تھا کہ مسلم لیگ (ن) والے پٹرول پر ٹیکسوں کی مد میں جتنا عوام کو لوٹ رہے ہیں اس طرح پوری دنیا میں کسی قوم کو نہیں لوٹا جا رہااور جب پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی تو پٹرول سستا ہو جائے گا اور بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی کم ہو جائے گی؛ تاہم جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو اس کی معاشی ٹیم کو پتا چلا کہ مسلم لیگ تو عالمی منڈی میں پٹرول کے ریٹ کے حساب سے سستا بیچ رہی تھی۔
اسی طرح جب پی ٹی آئی کی حکومت میں تیل کی قیمتیں بڑھیں تو مفتاح اسماعیل سمیت مسلم لیگ(ن) کے سارے ماہرینِ اقتصادیات یک زبان ہو کر شور مچا رہے تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت غریبوں کا استحصال کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کو لوٹ رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کہیں نیچے آ چکی ہیں۔ اب جب خود آئے ہیں تو ایک بار پھر انہیں علم ہوا ہے کہ تیل کی قیمتیں تو آسمان پر پہنچ چکی ہیں اور عمران خان سستا پٹرول بیچ کر ان کیلئے معاشی طور پر بارودی سرنگیں بچھا گیا ہے اور اس قیمت پر مزید پٹرول بیچنا ملکی معیشت کو برباد کرنے کے مترادف ہے اور پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھائی گئیں تو خدا نخواستہ ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا اور ملک دیوالیہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں عام آدمی نہیں بلکہ وہ لوگ کر رہے تھے جو معیشت اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ یہ لوگ تھڑے پر بیٹھ کر لمبی لمبی چھوڑنے والے نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور عالمی معاشی اشاریوں سے بڑی اچھی طرح آگاہ تھے لیکن محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے‘ اپنے مخالفین کو خوار کرنے کی خاطر عوام کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔
ملک میں ایک عجب بے یقینی کی کیفیت ہے اور کوئی فریق بھی ملکی معاشی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کسی طور پر اپنی ہٹ دھرمی اور ضد سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ حکومت سے لے کر حکومت مخالف سیاستدانوں تک‘ سب کے سب اقتدار بچانے یا حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں اور اس جنگ نے ملکی اقتصادی صورتحال کو خطرناک حد تک برباد کر دیا ہے۔ ڈالر دو سو روپے کی حد کراس کرچکا ہے۔ درآمدات پر اس کا اتنا برا اثر پڑے گا کہ لوگوں کے کڑاکے نکل جائیں گے۔ سامانِ تعیش کی درآمد پر پابندی سے کچھ خاص اثر نہیں پڑنے والا کہ بھائی لوگ اس کا کوئی نہ کوئی توڑ نکال لیں گے‘ تاہم ضروری اور مجبوری والی درآمدات کی ملکی کرنسی میں قیمتوں پر جو برے اثرات مرتب ہوں گے اس کا فی الحال کسی کو بھی اندازہ نہیں‘ لیکن آنے والے دنوں میں ساری صورتحال سامنے آ جائے گی۔ سولہ‘ سترہ فیصد مارک اپ‘ دو سو روپے سے زائد کا ڈالر اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے اس ملک میں مہنگائی کا جو سیلاب ابھی متوقع ہے اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو ٹھنڈے پسینے آنے لگ جاتے ہیں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ مستقبل کا نقشہ کچھ زیادہ خوشگوار دکھائی نہیں دے رہا۔ نہ سیاسی طور پر اور نہ ہی معاشی طور پر۔ ہٹ دھرمی‘ اَنا‘ ضد اور اپنی خواہشات کی اسیری نے اس ملک میں گفتگو‘ مذاکرات اور درمیانی راستہ نکالنے کے امکانات مزید معدوم کر دیے ہیں اور ہم آہستہ آہستہ بند گلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سیاست میں تلخی اب اس حد تک در آئی ہے کہ اس کے اثرات معاشرے سے لے کر گھروں کے اندر تک نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ برداشت‘ تحمل اور درگزر نامی چیزیںعنقا ہوتی جا رہی ہیں اور جس امت کو اعتدال کے راستے پر دنیا کی قیادت کرنی تھی وہ قیادت تو خیر سے کیا کرتی ‘وہ تو اچھی پیروکار بھی ثابت نہیں ہوئی۔
دنیا آگے کی طرف جا رہی ہے اور ہم مسلسل پیچھے کی سمت اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیا زمانہ تھا جب رکشوں پر کرائے کے میٹر لگے ہوتے تھے۔ کارپوریشن والے ہر روز صبح سویرے سڑکیں صاف کرنے کے بعد ان پر چھڑکاؤ کرواتے تھے۔ گلیوں میں سٹریٹ لائٹ باقاعدہ جلتی تھی۔ لوگ ون وے کے قانون کا احترام کرتے تھے۔ پولیس والا چوک میں موجود ہو تو کوئی گاڑی والا اس کے ہاتھ کے اشارے کی خلاف ورزی کر کے چوک پار کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے‘ نشتر ہسپتال میں مریضوں سے ملاقات کیلئے مقررہ وقت کے علاوہ تیمار دار منہ اٹھا کر ہسپتال میں نہیں گھومتے تھے اور چھ سات سال تک کی عمر کے بچے کو اندر لے جانے کیلئے باقاعدہ تگ و دو کرنا پڑتی تھی۔ لوگ مکان بنانے سے پہلے نقشہ پاس کرواتے تھے اور برسات کے دنوں میں ملیریا کے محکمے والے گھروں میں آ کر سپرے کرتے تھے اور نالیوں‘ جوہڑوں پر گندہ تیل نما کوئی محلول چھڑکتے تھے۔ کیا زمانہ تھا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ گلیوں محلوں اور سڑکوں پر شاپنگ بیگ اڑ رہے ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ملک ایک ہے لیکن پلاسٹک بیگز پر پابندی چند شہروں تک محدود ہے۔ جو لوگ اس پابندی پر عمل کر رہے ہیں انہوں نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ اب وہ شیٹ نما پلاٹک بیگز کے بجائے کپڑا نما پلاسٹک بیگز استعمال کر رہے ہیں اور ایک دوست کے بقول پہلے والے پلاسٹک میٹریل کی جگہ جو نیا میٹریل استعمال ہو رہا ہے وہ بھی اتنی ہی خرابیوں کا حامل ہے جتنا کہ پرانا میٹریل تھا۔ نئے کپڑا نما پلاسٹک بیگز بھی ”بائیوڈی گریڈایبل‘‘ یعنی از خود مٹی میں مل کر تحلیل ہو جانے والے نہیں ہیں اور ماحول کیلئے اتنے ہی خراب اور نقصان دہ ہیں جتنے کہ پہلے والے پلاسٹک بیگز تھے۔ کسی ایک ادارے کا ذکر کیسا؟ سب کے سب تنزلی کی طرف رواں دواں ہیں اور اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی کو بھی اس صورتحال پر نہ افسوس ہے اور نہ ہی ملال۔ بلکہ افسوس اور ملال کیا‘ کسی کو اس تنزلی کا احساس ہی نہیں۔ افسوس‘ ملال‘ دکھ اور رنجیدگی تبھی ہوتی ہے جب احساس باقی ہو۔ ادھر تو احساس ہی رخصت ہو چکا ہے۔