فائیو جی ٹیکنالوجی؛ 6 فضائی کمپنیوں نے امریکا کیلیے پروازیں معطل کردیں

واشنگٹن: امریکا میں 5G موبائل فون سروسز کا آغاز ہوگیا ہے جس پر طیاروں کی پرواز میں رکاوٹ بننے کا خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ایمریٹس سمیت 6 فضائی کمپنیوں نے امریکا کے لیے پروازیں معطل کردیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمریٹس، ایئر انڈیا، آل نیپون ایئرویز، جاپان ایئر لائنز، لفتھانسا اور برٹش ایئرویز نے امریکا کے ساتھ فضائی آپریشن سے انکار کرتے ہوئے ایسے ایئرپورٹس کے لیے تمام پروازیں معطل کردیں جہاں فائیو جی موبائل سروس فراہم کی جا رہی ہے۔

ان فضائی کمپنیوں نے پروازیں معطل کرنے کی وجہ فائیو جی ٹیکنالوجی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید اور نئے موبائل نیٹ ورک سے طیاروں کی پروازوں میں تکنیکی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی فضائی کمپنیوں جیٹ بلیو، امریکن ایئر لائنز، ساؤتھ ویسٹ، یونائیٹڈ ڈیلٹا، یو پی ایس اور فیڈ ایکس نے امریکی حکومت کو لکھے خط میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے ایئر لائنز کے آپریشنز پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

فضائی کمپنیوں کے خدشات کے اظہار کے بعد امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے بھی اعتراف کیا تھا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی سے ریڈار الٹیمیٹرز سمیت طیاروں کے اہم سسٹمز متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس کے باوجود امریکی حکومت نے کئی بڑے گروپس کو فضائی آپریشن کی اجازت دیدی تھی۔ جس پر 6 عالمی ایئرلائنز نے امریکا کے لیے پروازیں معطل کردیں۔

ایمریٹس نے 9 امریکی ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئر انڈیا نے بھی 5 ایئرپورٹس کے لیے پروازیں معطل کردیں۔

اسی طرح اے این اے اور جاپان ایئرلائنز نے بوئنگ 777 طیاروں کے لیے چند ایئرپورٹس پر پروازیں بند کیں البتہ بوئنگ 787 کی پروازیں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

جرمنی کی ایئرلائن کمپنی لفتھانسا نے فرینکفرٹ اور میامی کے درمیان پرواز منسوخ کر دی جب کہ مخصوص بوئنگ طیاروں کے لیے فرینکفرٹ سے لاس اینجلس، شکاگو اور سان فرانسسکو کی پروازوں پر پابندی ہوگی۔

برٹش ایئرویز نے بھی چند پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان ایئرپورٹس کا رخ نہیں کریں گے جہاں فائیو جی سگنل کام کررہے ہیں۔

انٹرنیشنل ایئرلائنز کے اس فیصلے کے بعد امریکا نے ایئرپورٹس پر فائیوجی سروس کی فراہمی ملتوی کردی تاہم فضائی کمپنیوں نے تاحال پروازوں کی معطلی کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں