ٹرمپ سے خان تک

امریکہ میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ سب پاکستان کے بارے پریشان تھے۔ مجھے یاد ہے میں فروری 2020ء میں امریکہ آیا تھا تو اس وقت بھی پاکستانی امریکن بہت ناراض تھے۔ اب بھی ناراض ہیں۔ مارچ 2020 ء میں ان کی ناراضی کی وجہ بھی عمران خان تھے اور اب بھی وہی ہیں۔ 2020ء میں اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے تو لوگ یہاں خفا تھے کہ جو وعدے انہوں نے کیے تھے وہ پورے نہیں کر پائے۔ اگرچہ کچھ کا خیال تھا کہ خان صاحب کی مجبوری تھی کہ پارلیمنٹ کے اندر موجود جماعتوں کے تعاون سے حکومت بناتے اور وہاں یقینا فرشتے تو نہیں بیٹھے تھے‘ اب انہی سے کام چلانا تھا‘ لیکن کچھ میرے جیسے آئیڈئیلسٹ بھی تھے جن کا خیال تھا کہ اگر خان صاحب نے ان ”چوروں‘ ڈاکوؤں‘‘ کے خلاف بیس‘ بائیس برس محنت کے بعد بھی انہیں ساتھ ملانا تھا تو پھر اس وقت کیوں نہ کر لیا جب پرویز مشرف نے 2002ء کے الیکشن سے پہلے خان صاحب سے کہا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ بات چیت کر کے سیٹوں پر الائنس کر لیں۔ عمران خان یہ سن کر ہتھے سے اکھڑ گئے کہ ان کو اب تک مشرف مسلسل گولی دیتے رہے تھے کہ انہیں نئی اسمبلی میں وزیراعظم بنایا جائے گا۔ اسی امید پر خان صاحب نے مشرف کو سپورٹ کیا تھا۔ بدلے میں مشرف شوکت خانم ہسپتال میں مہمان خصوصی بن کر گئے اور چند کروڑ روپے چندہ بھی دیا بلکہ مشرف صاحب کی والدہ نے بھی بیٹے کے ہاتھ چندہ بھجوایا تھا۔ پرویزمشرف بڑے سیانے تھے کہ انہوں نے ہر پارٹی کے بڑے لیڈر کو دانا ڈالا ہوا تھا کہ اسے وزیراعظم بنایا جائے گا۔ کچھ کو الیکشن سے پہلے بھی وزیراعظم کا حلف دلوانے کی پیش کش ہوتی رہی تو کچھ کو بعد میں۔ میں حیران ہوتا‘ جب ہر دوسرا بڑا لیڈر مجھے بتاتا کہ اگر وہ انہیں جوائن کر لیتے تو مشرف انہیں بڑے سے بڑا عہدہ دینے کو تیار تھے۔ چند ایک نے تو وزیراعظم تک کی آفرز کا بتایا۔ ایک دفعہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی نے ہاشوانی صاحب کے گھر ایک محفل میں پورا واقعہ سنایا کہ کیسے مشرف حکومت انہیں وزیراعظم بنانے کا سوچ رہی تھی۔ میں نے کہا: جان کی امان پاؤں تو عرض کروں‘ میں آپ سے پہلے درجن بھر سیاستدانوں سے سن چکا ہوں۔ دراصل یہ مشرف کے سپائی ماسٹر جنرل محمود کا آئیڈیا تھا کہ سب کو بیوقوف بنائے رکھو اور یہ سب اکٹھے نہ ہو سکیں‘ ہر کوئی خود کو وزیراعظم سمجھ کر پھرتا رہے اور مشرف کے خلاف کوئی بات نہ کرے۔
عمران خان بھی اس طویل فہرست میں شامل تھے جنہیں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ وزیراعظم ہوں گے۔ وزیراعظم بننے کے دیگر امیدواروں میں فاروق لغاری‘ ہمایوں اختر خان‘ خورشید قصوری اور میاں محمد اظہر بھی شامل تھے‘ لیکن میاں اظہر بری طرح الیکشن ہار گئے یا ہروا دیا گیا تاکہ چوہدریوں کا راستہ صاف کیا جائے۔ یوں آخر میں ظفراللہ جمالی وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان کو لگا کہ مشرف نے انہیں استعمال کیا ہے‘ تین سال اپنے نعرے مروانے کے بعد اب ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ عمران خان کو لگا کہ ان کے ساتھ فراڈ کرانے والوں میں گجرات کے چوہدری بھی شامل تھے۔ یوں دھوکا کھا کر دو سال بعد اچانک عمران خان کو یاد آیا کہ مشرف نے وار اینڈ ٹیرر پر امریکہ کا ساتھ دے کر پاکستان کا نقصان کیا اور چوہدری برادرز پورا پنجاب لوٹ کر کھا گئے۔ ورنہ بارہ اکتوبر کے بعد ان تین سال میں خان صاحب کو مشرف سے کوئی مسئلہ تھا نہ چوہدریوں کی لوٹ مار سے۔ بیس سال بعد عمران خان کو انہی چوہدریوں کے ووٹ کی ضرورت پڑی تو انہوں نے دیر نہ کی اور انہیں گلے لگا لیا بلکہ اب تو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ بھی دے دی ہے۔
اس بات پر دو سال قبل اکثر پاکستانی ہرٹ تھے کہ عمران خان بھی روایتی نکلے۔ امریکہ میں رہتے ہوئے پاکستانی امریکن اب اتنا جان چکے ہیں کہ کوئی سیاستدان الیکشن جیت کر وعدوں سے مکر جائے تو اسے دھوکا سمجھا جاتا ہے اور یہاں دھوکے کو برداشت نہیں کیا جاتا‘ اس لیے بڑی تعداد میں پاکستانی امریکن عمران خان سے ان دنوں کچھ دور ہورہے تھے۔ لیکن دو سال بعد میں نے محسوس کیا کہ اکثریت عمران خان کی حامی ہے اور بڑی پرجوش حامی۔ وہ خان صاحب کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کو ہٹا کر ملک کے ساتھ دشمنی کی گئی اور وہ اس پر بڑے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب کو ہٹا کر پہلے والوں ہی کو لانا تھا تو پھر ملک کا کیا مستقبل ہوگا؟ عمران خان نے ان لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ ان کو ہٹا کر ملک دوبارہ لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کئی مانتے ہیں کہ بطور وزیراعظم خان صاحب کی کارکردگی اتنی متاثر کن نہیں تھی لیکن جس انداز میں انہیں ہٹایا گیا اور سندھ ہاؤس میں خرید و فروخت کا تاثر‘ اس نے عمران خان کی بڑی مدد کی۔ وہ تمام لوگ جو عمران خان سے دور ہوگئے تھے وہ دوبارہ ان کے گرد کھڑے ہو گئے کہ کچھ بھی ہو عمران خان ان سب سے بہتر ہیں جنہیں لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر لانا ہی تھا تو کوئی بہتر آپشن لاتے‘ یہ کیا کہ جنہیں خود چار برس پہلے ہٹوایا‘ کرپشن الزامات پر جیل میں ڈلوایا‘ نااہل کرایا انہیں ساڑھے تین سال میں دوبارہ پلیٹ میں رکھ کر حکومت دے دی۔
اس کا کریڈٹ دیں عمران خان کو کہ انہوں نے یہ بات ہر پاکستانی کے دل و دماغ میں بٹھا دی ہے کہ پاکستان ان کے بغیر نہیں چل سکتا۔ وہ پاکستان کے لیے ناگزیر ہیں۔ امریکہ میں بھی یہی سوچ پائی جاتی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ جیسے امریکہ میں اکثر گورے سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بغیر امریکہ دوبارہ عظیم ملک نہیں بن سکتا‘ ایسے ہی پاکستانی امریکن سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے بغیر پاکستان عظیم ملک نہیں بن سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ٹرمپ کو اس وجہ سے پسند نہیں کرتے کہ ان کے اس نعرے کی وجہ سے مسلمان ملکوں اور ان کے شہریوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے نسلی امتیاز اور ان پر حملے بڑھ گئے اور ٹرمپ نے صدر بنتے ہی پہلا حکم یہ دیا کہ چھ مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی‘ وہی پاکستانی امریکن عمران خان کے اس نعرے سے بڑے متاثر ہیں کہ وہ پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے۔
ہمارے اکثر پاکستانی ٹرمپ کے نعرے کے حق میں نہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف گورے امریکن ہی ابھریں گے‘ امریکہ میں رہنے والے باقی لوگوں کو اس نعرے میں شمار نہیں کیا جاتا۔ چند جگہوں پر میری کچھ دوستوں سے بحث بھی ہوئی کہ انہیں پتہ ہے کہ جب کسی ملک کا سیاستدان اپنے ملک اور عوام کو عظیم بنانے کا نعرہ مارتا ہے تو اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟ ٹرمپ کے نعرے کو انہوں نے خود بھگت لیا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھی ہے بلکہ اُن کے حملوں میں تیزی آئی۔ ایک پاکستانی امریکن نے یہاں تک مجھے کہا کہ جب ٹرمپ وائٹ ہاوس سے نکلا یا نکالا گیا تو اگلی صبح وہ مطمئن ہو کر اٹھا کہ آج کوئی ایسا ٹوئٹ نہیں آئے گا جس سے پوری دنیا یا امریکہ میں تھرتھرلی مچ جائے گی۔ جو بائیڈن کے آنے سے انہیں کچھ سکون ملا ہے۔ جب سے امریکہ میں ٹرمپ کے بارے سرگوشیاں ہونے لگی ہیں کہ وہ اگلا الیکشن لڑیں گے اور جیت بھی جائیں گے تو زیادہ تر پاکستانی امریکن پریشان ہیں۔ ڈیموکریٹس بھی پریشان ہیں کہ بائیڈن دوسری دفعہ الیکشن نہیں جیت پائیں گے‘ لہٰذا ابھی سے کوئی نیا امیدوار تلاش کیا جائے جو ٹرمپ کو ہرا سکے۔ مزے کی بات ہے کہ اکثر پاکستانی امریکن صدر ٹرمپ کے امریکہ کو دوبارہ عظیم ملک یا عظیم قوم بنانے کے نعرے سے خوفزدہ ہیں لیکن جب یہی نعرہ پاکستان میں عمران خان مارتے ہیں تو یہ لوگ جھوم اٹھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں