دل کی بیماریاں خواتین میں دماغ کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، تحقیق

منیسوٹا: تقریباً دو ہزار ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد پر تحقیق کے بعد امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دل کی بیماریوں کے باعث مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا دماغ زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

یہ تحقیق میو کلینک، منیسوٹا میں ڈاکٹر کلیفرڈ جیک کی سربراہی میں کئی سال تک جاری رہی جس میں 50 سے 69 سال کے 1857 رضاکاروں میں وقفے وقفے سے دل کی صحت اور دماغی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا رہا۔

مطالعے کے اختتام پر جہاں ایک بار پھر یہ تصدیق ہوئی کہ دل کی خرابی کا اثر براہِ راست دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مردوں کی نسبت خواتین کے دماغ کو امراضِ قلب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی جسم میں سب سے زیادہ آکسیجن کی ضرورت دماغ کو ہوتی ہے۔ خون میں آکسیجن جذب ہو کر جسم کے ہر حصے تک پہنچتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دل کی کمزوری کے نتیجے میں جہاں خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، وہیں دماغ کو ملنے والی آکسیجن میں بھی کمی واقع ہوتی ہے جس سے دماغ کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے؛ اور یوں دل کے ساتھ ساتھ دماغ بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔

ماضی میں درجنوں تحقیقات اس تعلق کو ثابت کرچکی ہیں لیکن یہ جاننا باقی تھا کہ مردوں اور عورتوں میں دماغ پر دل کی کمزوری کا اثر ایک جیسا ہوتا ہے یا مختلف۔

اس تفصیلی تحقیق سے معلوم ہوا کہ دل کی بیماریوں اور دوسرے متعلقہ مسائل کا شکار ہونے والی خواتین میں اگرچہ فالج اور دل کے دوروں کی شرح مردوں سے کم ہوتی ہے لیکن مردوں کے مقابلے میں ان کا دماغ زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔

نتیجتاً ادھیڑ عمر اور بزرگ خواتین میں کچھ نیا سیکھنے کی صلاحیت (اکتسابی صلاحیت) کم ہوجاتی ہے جبکہ وہ ڈپریشن، ڈیمنشیا، پارکنسن اور اسی طرح کے دوسرے دماغی امراض میں بھی مبتلا ہوجاتی ہیں جو آگے چل کر ان کےلیے مزید پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔

ریسرچ جرنل ’نیورولوجی‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مصنفین نے خواتین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے دل کی صحت کا بطورِ خاص خیال رکھیں جس کےلیے وہ صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ ورزش اور دیگر اقسام کی جسمانی مشقت کرتی رہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں