اُمید

ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو کہ بعض اوقات آپ جس Sampleپر اپنا تھیسس کھڑا کرتے ہیں وہ سیمپل بدقسمتی سے حقیقی نتائج دینے میں ناکام رہتا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ سیمپل ہی غلط ہوتا ہے اور وہ رائے عامہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے یکطرفہ نتائج دیتا یا دوسرے لفظوں میں غیرحقیقی نمائندگی کرتا ہے اور سارے کا سارا تھیسس ہی غلط ہو جاتا ہے۔ یہ بات میں اس تناظر میں کہہ رہا ہوں کہ بعض اوقات آپ مسلسل ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو اتفاقاً ایک ہی نقطۂ نظر سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ ان کی گفتگو اور نظریات کے پیش نظر ایک رائے قائم کر لیتے ہیں۔ آپ یہ رائے قائم کرتے ہوئے قطعاً کسی قسم کی ڈنڈی نہیں مارتے لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ جس سیمپل کو آپ بنیاد بنا کر کوئی نقطۂ نظر قائم کرتے ہیں‘ وہ سیمپل ہی آپ سے ڈنڈی مار جاتا ہے۔ ایسے میں بھلا آپ کا کیا قصور ہے؟
گزشتہ چند روز سے میں مسلسل سفر میں ہوں۔ پہلے تو بیٹی کے پاس تھا اور میری کل کائنات تین عدد معصوم بچے تھے جن کی اپنی ہی دنیا تھی اور اس دنیا میں کوئی سیاست‘ کوئی دو نمبری اور کوئی بل پیچ نہیں تھے۔ یہ دن سب سے شاندار‘ مزیدار اور سکون سے بھرپور تھے۔ پھر سفر شروع ہوا اور سارا اطمینان‘ سکون اور ساری شانتی رخصت ہو گئی۔ دو دن رچمنڈ‘ تین دن ہیوسٹن اور اس کے بعد اب لاس اینجلس میں ہوں۔ یہاں برادرِ خورد اور یارِ من شفیق ہے اور میں ہوں۔
شفیق صرف میاں نواز شریف کا متوالا ہی نہیں بلکہ عمران خان کا سخت ناقد بھی ہے مگر ان دونوں باتوں کے باوجود وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ (ن) لیگیا ہے۔ اللہ جانے اس سفید حقیقت کو تسلیم کرنے میں کیا امر مانع ہے کہ وہ ایک فریق کے لیے اپنی شدید محبت اور دوسرے کے لیے شدید مخالفت کے باوجود خود پر کسی سیاسی وابستگی کا لیبل لگوانے سے صاف انکاری ہے۔ یہ ساری باتیں میں اس بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ شفیق دوستوں کے ایک وٹس ایپ گروپ میں دونوں حوالوں سے بڑا سرگرم رہتا ہے اور اس گروپ میں‘ جو بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن سے فارغ التحصیل طلبہ نے اپنے آگے پیچھے کے ایک دو تعلیمی سیشنز کے پاس شدہ دوستوں کو شامل کر کے بنا رکھا ہے‘ شفیق اور عبدالرحمن ارشد خوب فساد برپا کیے رکھتے ہیں۔ دوستوں اور یونیورسٹی فیلوز پر مشتمل بزرگوں کے اس گروپ کا ایڈمن چودھری اشرف شاد ہے جویونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ”ایلومینائی‘‘ کا بانی صدر تھا۔ دوستوں اور ہم جماعتوں سے رابطہ رکھنے میں اپنا ثانی نہ رکھنے والا چودھری اشرف شاد اس گروپ میں ہمہ وقت بیچ بچاؤ میں مصروف رہتا ہے۔ اس گروپ میں زیادہ تر جنگ و جدل کا باعث عبدالرحمن ارشد ہے جبکہ شفیق عام طور پر صرف شرارت کی ابتدا کر کے سائیڈ پر ہو جاتا ہے۔ اس گروپ کی اکثریت دو چوروں کے خلاف متحد ہے؛ تاہم ان دو کی وجہ سے گروپ یکطرفہ ہونے سے بچا ہوا ہے۔ میرے ساتھ محض ایک دو گروپ اراکین ہیں جو تینوں فریقوں کی نااہلی‘ نالائقی اور غلط بخشیوں پر کبھی کبھار اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں وگرنہ ہم صرف نوک جھونک سے محظوظ ہونے کے علاوہ کم ہی دخل اندازی کرتے ہیں۔
شفیق گروپ میں اپنی تمام تر سیاسی تیزی و طراری کے برخلاف میرے ساتھ جتنے دن بھی رہتا ہے ‘اول تو سیاسی گفتگو کرتا ہی نہیں اور اگر بغرضِ محال کوئی موضوع زیر بحث آ جائے تو گروپ میں اپنے مزاج کے بالکل برعکس خاصی معقول گفتگو کرتا ہے اور اس دوران اس میں وہ انتہا پسندی ہرگز دکھائی نہیں دیتی جو وٹس ایپ گروپ میں اس کا خاصا ہے۔ شفیق کے خیالات اور نظریات کا تو مجھے بخوبی علم ہے لہٰذا اسے تو میں کسی گنتی میں نہیں لا رہا لیکن اس بار امریکہ میں ملنے والے سارے یار دوستوں کو دسمبر‘ جنوری (2021-22ء)کے دوران عمران خان کے بارے جس مایوسی کا شکار دیکھا تھا اب ان کی حالت اس سے تو کافی بہتر دکھائی دے رہی تھی جیسی محض پانچ‘ چھ ماہ قبل تھی؛ تاہم عمران خان پر ان کے اعتماد کا عالم بہرحال ویسا بھی نہیں جیسا دو‘ اڑھائی سال قبل تھا جب وہ ہر ایک سے آمادہ برسر پیکار تھے۔ اب وہ تھوڑے قرار میں تھے۔ آج سے محض پانچ‘ چھ ماہ قبل وہ جس طرح دبے دبے لفظوں میں یا تھوڑی شرمندگی کے ساتھ عمران خان کی حکومت کی خرابیوں‘ غیرمنتخب مشیروں اور معاونینِ خصوصی کے غلط انتخاب‘ کرپشن کے خاتمے کی مہم کی ناکامی‘ کیے گئے وعدوں سے انحراف اور روزانہ کی بنیاد پر لیے جانے والے یوٹرنز پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی سابقہ حمایت سے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوششیں کرتے تھے‘ اس بار ان کی وہ شرمندگی گو کہ کم ہو چکی تھی اور عمران خان سے ان کی محبت دوبارہ عود کر واپس آ چکی تھی مگر ان کے جوش و جذبے کا حال ویسا ہرگز نہیں تھا جیسا کہ عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل یا اقتدار میں آنے کے فوراً بعد تھا۔
دوسروں لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کے امریکہ میں حامیوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے جوش و خروش اور جذبے میں تھوڑا سا ٹھہراؤ آیا ہے۔ گویا کہ وہ 2018-19ء والے مقام پر بھی نہیں اور جنوری 2022ء والی حالت میں بھی نہیں۔ اب وہ کم از کم عمران خان کی چند غلطیوں کا اعتراف ضرور کرنے لگ گئے ہیں۔ یعنی اس اعتراف میں بھی وہ ملبہ عمران خان پر ڈالنے کے بجائے پاکستانی سیاست کے چلن اور مقتدرہ کو زیادہ ذمہ دار ٹھہراتے ہیں؛ تاہم ایک معاملہ ایسا ہے جس پر وہ بہرحال عمران خان کا دفاع نہیں کر پاتے اور وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر سردار عثمان بزدار کا تقرر ہے۔ یہ عمران خان کی وہ واحد غلطی ہے جس پر ان کے امریکی حامی کوئی دلیل یا صفائی دینے کے بجائے سرجھکا لیتے تھے‘ وگرنہ دو سال قبل وہ عثمان بزدار کی تقرری کو بھی عین جائز اور میرٹ کا بول بالا قرار دیتے تھے۔
امریکہ میں گزشتہ چند دن سے بہت سے دوستوں اور ملنے جلنے والوں سے ملاقات ہوئی اور میرے نہ چاہنے کے باوجود بہت سے لوگوں سے سیاسی گفتگو بھی کرنا پڑی اور پاکستان کے حالات کے بارے میں بھی بحث و مباحثے میں حصہ لینا پڑا۔ اس ساری گفتگو اور بحث کے دوران تقریباً تمام پاکستانی امریکن دوستوں کو اس بات پر یکسو پایا کہ عمران خان کو آئندہ غیرمنتخب دوست نما دشمنوں سے بچنا چاہیے‘ میں نے وضاحت چاہی تو تقریباً سبھی نے جو نام لیے ان میں شہباز گل کا نام مشترک تھا۔
کسی نے مجھ سے پوچھا کہ سنا ہے پاکستان میں مقتدرہ کے خلاف بہت زیادہ ہوا چل پڑی ہے تو کیا یہ جمہوریت اور ملک کے لیے نقصان دہ نہیں؟ میں نے کہا اسے آپ دوسرے پہلو سے دیکھیں تو یہ خرابی آخر کار بہتری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے اس تازہ ہوا کے بعد مقتدرہ اپنی بے جا دخل اندازیِ کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور خود کو ان معاملات سے علیحدہ کر لے جس پر لوگوں کو اعتراض ہے‘ اگر ایسا ہو جائے تو ملک میں جمہوریت اور سیاسی نظام تھوڑا وقت تو لے گا مگر اپنے پاؤں پر ضرور کھڑا ہو جائے گا۔ کیا پتا اللہ اسی خرابی سے بہتری کی صورت پیدا کر دے۔ گو کہ فی الوقت یہ صرف میری اُمید ہے لیکن امید رکھنے میں بھلا کیا نقصان ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں