ڈیمنشیا روکنے والے اسپرے کی انسانی آزمائش جلد متوقع

اوساکا: ڈیمنشیا اور الزائیمر کے عارضے اس وقت عالمی بحران بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں ناک کی پھوار (نوزل اسپرے) کئی مراحل سے گزرتے ہوئے بہت جلد انسانوں پرآزمائی جائے گی۔

اوساکا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک اینٹی بایوٹک اور اینٹی آکسیڈنٹ پر مشتمل مائع بنایا ہے۔ پہلے تجربہ گاہ میں اس کی افادیت سامنے آئی، پھر چوہوں پر آزمائش ہوئی۔ اب بہت جلد اس کی آزمائش کی جائے گی۔ لیکن اس کا تحقیقی سفر بہت طویل ہے۔

2016ء میں رائفم پائسن نامی مشہور اینٹی بایوٹک دوا کے متعلق معلوم ہوا کہ یہ دماغی و عصبی زوال کی وجہ بننے والے زہریلے پروٹین کو روک سکتی ہے۔ تجربات کی رو سے ڈیمنشیا کے شروع میں اس کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے اور نیوروڈی جنریشن کو روک سکتا ہے لیکن کھانے کے صورت میں جگر متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔

پھر دوبرس بعد اینٹی بایوٹکس کو براہِ راست دماغ پر ڈال کر دیکھا گیا تو جگر متاثر نہیں ہوا۔ اس سے ماہرین کا حوصلہ بڑھا اور اس میں ایک قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ریزوریٹرل شامل کیا گیا جو گہری چاکلیٹ میں پایا جاتا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ رائفم پائسن اور ریزوریٹرل دونوں کو ایک ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہےاور ڈیمنشیا کو سست کیا جاسکتا ہے۔

چوہوں پر آزمائش سے معلوم ہوا کہ ان کے دماغ میں ڈیمنشیا کو بڑھانے والے زہریلے پروٹین کو روکا جاسکتا ہے۔ یہی پروٹین جمع ہوکر الزائیمر کو بھی بڑھاتا ہے۔ اس لیے ماہرین نے دو ادویہ کو ملا کر اسپرے کی شکل دی ہے۔ ناک میں ٹپکانے سے یہ براہِ راست دماغ تک پہنچتا ہے اور مضر پروٹین کو روکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس کی 0.081 ملی گرام فی کلوگرام فی روزانہ کی مقدار بہت ہوگی جس کے کے سائیڈ افیکٹس نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ اب بہت جلد امریکا اور جاپان میں اسپرے کو انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں