کابینہ اجازت دے تو عمران خان کو گرفتار کرلوں گا، وزیرداخلہ

اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اسپیکر رولنگ کیس کے فیصلے کے بعد اب صدر مملکت کو مستعفی ہوجانا چاہیے جب کہ کابینہ اجازت دے تو عمران خان کو گرفتار کرلوں گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ سپریم کورٹ کا اسپیکر رولنگ پر فیصلہ قوموں کی سمت کا تعین کرنے جیسا ہے، یہ فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ ہے، ایسا عمل خیانت کے مترادف ہے یہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں تعین کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے کے اندر جو اختلافی نوٹ بہت اہم ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانون توڑنے کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے، صدر، وزیر اعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے آئینی کام میں خیانت کی، فیصلے کے مطابق ملک کے آئین کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔
رانا ثنا نے اس موقع پر صدر عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو اخلاقی طور پاس داری کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکل گیا، ثابت ہوگیا کہ عمران خان اپنے ذاتی مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، ذاتی مفاد کے لیے عمران خان نے آئین کے ساتھ فراڈ کیا۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ شیخ رشید کو لانگ مارچ میں گرفتار کرنے کا پلان تھا لیکن وہ ملے نہیں، وفاقی کابینہ اجازت دے تو عمران خان کو گرفتار کرنے کے لیے تیار ہوں۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فیصلے پر کہا ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کو جس طرح سازشی بیانے کا رنگ دینے کے لیے جھوٹ گھڑا وہ انتہائی قابل شرم ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ نے اسپیکر رولنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے اسمبلی توڑی جس پر اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں