معیشت بیٹھ گئی تو حکومت کہاں کھڑی رہ سکے گی؟

میرے اس دوست کا تعلق اس دانشور گروپ سے نہیں ہے جو گزشتہ تین‘ چار عشروں سے مسلسل یہ پیشین گوئی کر رہے ہیں کہ بس پاکستان ایک دو سال میں (نعوذ باللہ) ختم ہو رہا ہے‘ دیوالیہ ہو رہا ہے یا اس کا جغرافیہ عنقریب تبدیل ہو رہا ہے۔ میرا یہ دوست اس معاملے میں کافی رجائی ہے اور ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ بات کرتا ہے اور ہم جیسے کاغذی دانشوروں کے برعکس ملکی اقتصادی صورتحال سے خاصی حد تک نہ صرف آگاہ ہے بلکہ ایک کاروباری شخص کے طور پر ملکی معیشت کے اتار چڑھاؤ سے براہِ راست منسلک ہے۔ اپنے کاروبار سے ہٹ کر بھی ملکی معاشی اشاریوں سے کماحقہٗ آگاہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی معاشی اونچ نیچ سے واقفیت رکھتا ہے اور براہِ راست ایسے کاروبار سے وابستہ ہے جو سو فیصد درآمد پر منحصر ہے اور اس کا سارا دارو مدار ڈالر پر ہے۔ ڈالر کے اتار چڑھاؤ پر اسے پہلے کبھی پریشان یا فکر مند نہیں دیکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو ہر قسم کا دوست عطا کیا ہے۔ انتہائی خوشحال سے لے کر سفید پوشی کے آخری درجے تک کے دوست۔ دوستوں کی اس قوسِ قزح میں ہر رنگ شامل ہے‘ ان سے کھلا ڈلا مکالمہ چلتا رہتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں ہونے والی مہنگائی‘ تیل‘ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے طرزِ زندگی پر پڑنے والے اثر سے لے کر تنخواہ دار طبقے کے حشر نشر تک۔ یہ سب کچھ میں نے سنا نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے۔ اس دوران بے شک تاجر طبقے پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے کہ انہوں نے اس مہنگائی میں اپنی ہر شے پر منافع کی شرح فیصد بڑھا کر اپنا الو سیدھا کر لیا۔ رکشے والے نے کرایہ بڑھا دیا۔ فرنیچر والے نے اپنی چیز کی قیمت بڑھا دی لیکن تنخواہ دار طبقہ اس سارے گڑ بڑ گھوٹالے میں مارا گیا۔
اس دوران ایک دو کاروباری اور صنعتکار دوستوں سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا تو انہیں بھی کسی حد تک مطمئن پایا۔ اس پر بحث لاحاصل ہے کہ کورونا میں پاکستانی معیشت پر دیگر ممالک کی نسبت کم برے اثرات کے پیچھے حکومتی اقدامات تھے یا قدرت کی طرف سے غیبی مدد ملی‘ مگر یہ بات طے ہے کہ بہت سے سیکٹرز میں پاکستان پر کورونا لاک ڈاؤن کے بہت ہی اچھے اثرات مرتب ہوئے اور عالمی ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی کی کمی کے باعث پیدا ہونے والے خلا میں ہمارے ایکسپورٹرز نے ممکنہ حد تک اپنا حصہ وصول کیا اور اس وبا کے اثراتِ بد کو کافی حد تک اپنے حق میں استعمال کیا لیکن گزشتہ چند ماہ سے صورت حال الٹ گئی ہے اور اب امپورٹر تو رہے ایک طرف‘ ایکسپورٹر بھی سروں پر ہاتھ رکھ کر رو رہے ہیں کہ پیداواری لاگت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب عالمی منڈی میں اپنی چیز بیچنا جو پہلے ہی مشکل تھا‘ مشکل تر ہو گیا ہے۔ امپورٹر کی تو خیر آپ بات ہی نہ کریں‘ گزشتہ چار ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت 180روپے سے دو سو چالیس سے اوپر پہنچ گئی تھی اور اب جا کر اسے کہیں بریک لگی ہے۔ کسی حکومتی معاشی نابغے کے پاس نہ اس کا کوئی حل ہے اور نہ ہی کوئی جواب کہ صورتحال کب ٹھیک ہوگی اور ڈالر کی پرواز کہاں جا کر ختم ہوگی۔ وہ بھی آئی ایم ایف کی قسط کو اپنا مشکل کشا بنا کر اس کے منتظر ہیں۔
مارکیٹ میں ڈالر تقریباً ناپید ہے۔ بینک ایل سی نہیں کھول رہے۔ انٹر بینک میں ڈالر کا جو ریٹ ہے بینک اس صورتحال میں ضرورت مند صارف کو جی بھر کر چونا لگا رہے ہیں اور تین سے پانچ روپے فی ڈالر زیادہ وصول کر رہے ہیں اور صارف مجبوراً یہ کڑوا گھونٹ پی رہا ہے کہ اس کے پاس اور کوئی دوسری صورت ہی نہیں ہے۔ امپورٹ‘ آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے کہ ملک میں باہر ادائیگی کرنے کے لیے ڈالر ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ جو لوگ ابھی تک یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ملک میں سری لنکا جیسی صورتحال کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تو یا وہ عقل سے فارغ اور معاشی صورتحال سے مکمل لاعلم ہیں یا پھر وہ جی بھر کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے اور کسی کے پاس اس سے نپٹنے کا کوئی پلان ہی نہیں۔ حکومت آئی ایم ایف والے متوقع ایک‘ ڈیڑھ بلین ڈالر کے انتظار میں ہے جو دو مہینے میں برابر ہو جائیں گے۔ ادھر اپوزیشن یعنی عمران خان کو جلد از جلد الیکشن کی پڑی ہوئی ہے۔ ملک کی معیشت‘ بلکہ خود مختاری داؤ پر لگی ہوئی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ خدانخواستہ اس دوران حکمران‘ جو فی الحال ملکی اثاثے بیچ کر ملک چلانے اور اپنے اللوں تللوں کا خرچہ نکالنے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں‘ کہیں ایٹمی اثاثوں کا سودا نہ کر ڈالیں۔ یہ ہماری واحد چیز ہے جو سر ہلانے سے پہلے ہی نقد بک سکتی ہے۔
جس دوست سے میری بات ہو رہی تھی وہ چیزوں کا روشن پہلو دیکھنے کا عادی ہے۔ متوکل آدمی ہے اور ہمہ وقت اپنے مالک کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ کہنے لگا: خالد صاحب! آپ کو اندازہ ہی نہیں صورت حال کتنی خراب ہے۔ ہاتھ میں پیسہ لے کر بازار جائیں ڈالر تو نہیں مل رہا۔ جس ریٹ پر اپنی پراڈکٹ کا سودا کیا تھا وہ ساری کیلکولیشن دھڑام سے سر پر آن گری ہے۔ ابھی پراڈکٹ پاکستان نہیں پہنچی اور ریٹ دو سو چالیس روپے سے تجاوز کر گیا ہے جب ادائیگی ہو گی تب اللہ جانے کیا ریٹ ہو گا۔ آپ بتائیں قیمت خرید میں پچیس فیصد اضافہ کہاں سے پورا ہوگا؟ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ اب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پاس بھی کرنے یا کہنے کے کچھ نہیں ہے۔ کل اخبار میں تھا کہ تیل کی اربوں روپے کی عدم ادائیگیوں کے باعث تیل کی امپورٹ میں تعطل آنے کا امکان ہے۔ چند روز قبل اخبار میں ایک حکومتی معاشی عہدیدار کا بیان تھا کہ ہمارے پاس فی الحال اس صورت حال سے نپٹنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ اب آپ بتائیں ایسی صورتحال میں صنعت‘ امپورٹ اور ایکسپورٹ کیسے چل سکتی ہے؟ مستقبل قریب میں تیل کی ادائیگی کے لیے ڈالر نہیں ہوں گے تو کیا بنے گا؟ موخر ادائیگی پر تیل کی خریداری والی مقدار ملکی ضرورت سے کہیں کم ہے۔
عالمی مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے ہر طرف تباہی پھیر کر رکھ دی ہے۔ ڈی اے پی کی امکانی قیمت چودہ ہزار روپے فی بوری ہو گی۔ امونیم سلفیٹ کی بوری ایک ہزار روپے میں ملتی تھی اب صورتحال یہ ہے کہ ساڑھے چار ہزار روپے میں ملے گی۔ گزشتہ سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ ٹن امونیم سلفیٹ درآمد ہوئی تھی‘ اس سال ابھی تک کسی نے ایک کلو گرام بھی درآمد نہیں کی۔ کھاد امپورٹ کرنے والے اربوں پتی انویسٹر میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ بارشوں نے سڑکوں کا بیڑہ غرق تو کیا ہی ہے کپاس کی فصل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے چنائی نہیں ہو پا رہی۔ اوسطاً کم از کم دس من فی ایکڑ کے لگ بھگ کپاس خراب ہو چکی ہے اور اب بھی نقصان جاری ہے۔ کپاس کی فصل کی کمی کا براہِ راست اثر ٹیکسٹائل سیکٹر پر پڑے گا جو ملکی ایکسپورٹ اور زر مبادلہ کا سب سے بڑا انڈسٹریل سیکٹر ہے۔ اگلی فصلوں کی کاشت کے لیے کھادیں نہیں ملیں گی۔ یہ زرعی ملک جو پہلے ہی اربوں ڈالر کی اشیائے خورو نوش امپورٹ کر رہا ہے عالمی مارکیٹ سے خریداری کے لیے ڈالروں کی عدم دستیابی کے نتیجے میں قحط کا شکار ہو سکتا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن درآمد کرنے کے لیے پلے پیسے نہیں۔ ٹرانسپورٹ‘ بجلی‘ صنعت اور زراعت کی بربادی نوشتۂ دیوار دکھائی دے رہی ہے اگر کسی کو دکھائی نہیں دے رہی تو وہ ہماری حکومت اور اپوزیشن ہے۔ یہ کہہ کر دوست نے فون بند کر دیا۔ میں نے اسے کبھی اتنا پریشان اور مایوس نہیں دیکھا تھا جتنا وہ آج تھا۔ اس نے خود تو فون بند کر دیا مگر مجھے پریشانی میں مبتلا کر گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں