شدید برفباری میں کھال کو گلنے سڑنے سے بچانے والی کریم ایجاد

نئی دہلی: شدید سردی اور برف میں کام کرنے والے افراد، مہم جو اور سپاہیوں کو ایک ہی خطرہ لاحق رہتا ہے: فراسٹ بائٹ یا برف گزیدگی؛ جس میں ناقابلِ برداشت سردی سے متاثرہ جسمانی اعضا گل سڑ کر تباہ ہوجاتے ہیں جنہیں کاٹنا پڑ جاتا ہے اور متاثرہ شخص ساری زندگی کےلیے معذور ہو کر رہ جاتا ہے۔ اب ایک خاص کریم انہیں فراسٹ بائٹ کے حملے اور اعضا کی بریدگی سے بچاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ فراسٹ بائٹ میں جلد کے اندر برف جاکر کرسٹلز (قلموں) کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ اس کے بعد ہاتھ پیرسن ہوتے ہیں، پھرحس ختم ہوجاتی ہے اور جلد سیاہ پڑجاتی ہے۔ اس کی شدید کیفیت میں اعضا کو کاٹنا پڑجاتا ہے۔

امریکی کیمیکل سوسائٹی کے تحت ’اپلائیڈ بایومیٹیریلز‘ جرنل میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں بھارت میں انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انٹی گریٹوو بائیلوجی کی ڈاکٹر منیا گنگولی کی تیارکردہ اس کریم کی روداد شائع ہوئی ہے۔ منیا اور ان کے ساتھیوں نے خلیات کو منجمد (فریز) کرنے والے کیمیائی اجزا اور خلیات کے اندر برفیلے کرسٹل بننے سے روکنے والے ڈائی میتھائل سلفوکسائیڈ (ڈی ایم ایس او) کو باہم ملایا ہے۔ اس میں پولی وینائل الکحل (پی وی اے) ملائی گئی ہے جو خلیات کے درمیان برف جمنے روکتی ہے۔ اس طرح انہوں نے ایک مؤثرمرہم بنایا ہے۔

اب باری باری ڈی ایم ایس او اور پی وی اے کی مختلف مقداروں کو زندہ خلیات پرآزمایا گیا۔ تجربہ گاہ میں یہ سب خلیات سرد ماحول میں رکھے گئے تھے اور کریم سے انہیں منجمد ہونے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ معلوم ہوا کہ اگر ڈی ایم ایس او کی دو فیصد مقدار کو 1.6 ملی گرام فی ملی لیٹر پی وی اے سے ملایا جائے تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ یعنی اس ترکیب سے خلیات کو 80 فیصد کامیابی سے برف بننے اور تباہ ہونے سے بچالیا گیا۔

اس مرہم سے جلد کی سطح اور دیگر حصے بھی فریز ہونے سے بچ گئے۔ اب مرہم کو سِن اے ایف پی کا نام دیا گیا۔ اگلے مرحلے میں اسے ایلوویرا (گھیکوار) کی جیلی میں ملا کر ایک چوہے پر ملا گیا۔ پندرہ منٹ بعد چوہے کو انتہائی سرد ماحول میں رکھا گیا۔ حیرت انگیز طور پر چوہا سردی کے وار سے محفوظ رہا اور اس کے خلیات بھی برقرار رہے۔

پھر ایک اور چوہے میں 30 منٹ یا اس سے قبل کریم لگائی گئی اور اسے بھی انتہائی سرد ماحول میں رکھا گیا لیکن مرہم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور چوہے کے اعضا برف سے شدید متاثر ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ 15 منٹ قبل کریم لگانے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

اب اس اینٹی فراسٹ بائٹ کریم کو تجارتی پیمانے پر تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس تحقیق کی فنڈنگ امریکی ڈیفینس اینڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی (ڈارپا) نے کی تھی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں