کراچی: رواں سال میں ابتک ڈکیتی مزاحمت پر پولیس اہلکار اور صحافی سمیت 15 شہری جاں بحق

کراچی: شہر قائد میں رواں برس ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر اب تک 15 افراد جاں بحق جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں ، اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی تعداد بھی 6 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سال 2022 کے دوران اب تک (49 روز میں) شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اعداد و شمار سامنے آئے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری کو سپر ہائی وے پر ڈکیتی مزاحمت کے دوران پولیس اہلکار شہید ہوا، 10 جنوری کو گلشن معمار میں دکان دار امان اللہ، اسی روز سچل کے علاقے میں بلاول نامی شخص جاں بحق ہوا۔

کشمیر روڈ پر نوجوان دلہا شاہ رخ کو 12 جنوری کے روز گھر کے سامنے گولیاں ماری گئیں، اسی روز کلفٹن میں پراپرٹی ڈیلر ویر بھان جبکہ 12 جنوری کو ہی سچل کے علاقے میں محنت کش عبدالقدیر ملزمان کی فائرنگ سے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر جاں بحق ہوا۔

اسی طرح 14 جنوری کو سپر ہائی وے پر پٹرول پمپ پر ملزمان کی فائرنگ سے سیکیورٹی گارڈ سلطان ، 16 جنوری کو اورنگی ٹائون میں سیف الرحمن ، 17 جنوری کو سچل کے علاقے میں سعید ، 19 جنوری کو کورنگی میں بلال جبکہ 25 جنوری کو نارتھ کراچی میں چوکیدار محمد علی ملزمان کی گولیوں کا نشانہ بنا جبکہ 27 جنوری کو زمان ٹاؤن میں افضل ، 6 فروری کو نارتھ کراچی میں حافظ قرآن نوجوان اسامہ، 9 فروری کو اتحاد ٹاؤن میں کاشف اور 18 فروری کو سینئر صحافی اطہر متین ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔

اس کے علاوہ شہر بھر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بھی اپنے عروج پر رہیں، ملزمان نے شہریوں کو ہزاروں گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فون سے محروم کردیا ، یکم جنوری سے اب تک 4 ہزار سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جبکہ کم و بیش اتنی ہی تعداد میں موبائل فون اور لاکھوں روپے نقدی بھی شہریوں سے چھینی جاچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں