ڈینگی وائرس والے مچھر بار بارکاٹنے کے بھی ماہر ہوتے ہیں

نارتھ کیرولائنا: ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ عام مچھروں کے مقابلے میں زیادہ کاٹتے ہیں اور حملہ آور ہوتے ہیں تاکہ وائرس کو تیزی سے جسم میں اتارا جاسکے ۔

ان مچھروں میں سرِ فہرست ایڈس ایجپٹیائی ہے جو پاکستان میں بھی عام ہے اب ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عام مچھروں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ کاٹتے ہیں۔ تاہم اس کی ایک اور قسم ایڈس ایلبوپکٹس بھی کسی سے کم نہیں۔

ڈیوک نیوروسائنس اینڈ بیہورل پروگرام میں تحقیق سے وابستہ پروفیسر ایڈم کلیرج چینگ نے کہا ہے کہ نے ایک تجربہ گاہ میں ان مچھروں کو رکھا اور ان کے کاٹنے کے عمل کو نوٹ کیا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ مچھروں میں خون پینے کا عمل ایک تو ان میں پروٹین فراہم کرتا تاکہ وہ انڈے دے سکے اور نسل بڑھائیں۔ لیکن خون چوسنے کا یہ عمل خوفناک بیماری بھی منتقل کردیتا ہے۔ واضح رہے کہ سائنسدانوں نے تجربہ گاہی مشاہدے سے قبل فیلڈ میں بھی ڈینگی کے مچھروں کو جائزہ لیا ہے۔

تجربہ گاہ میں بلند وضاحتی ویڈیو سے مچھروں کی ویڈیو بنائی گئی جن میں عام مچھر اور ڈینگی پھیلانے والے مچھر شامل تھے۔ اس کے بعد ویڈیو کا کمپیوٹر سافٹ ویئر سے بھی جائزہ لیا گیا ۔ اس سے ان کے رحجان اور پیٹرن کا پتا بھی لگایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ڈینگی کے مچھر ایک جانب تو عام مچھروں سے تین گنا زائد کاٹتے ہیں اور اپنے وائرس سے متاثر کرنے کی بھی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس طرح وہ بار بار کاٹ کروائرس پھیلانے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق سے مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں اور اگلے مرحلے میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے اور کیا ڈینگی وائرس کا اس میں کوئی کردار ہے یا نہیں ۔ اس لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں