ملتانِ ما‘ لودھراں اور ضمنی انتخابات …(1)

مجھے زیادہ عقلمندی اور سمجھداری کا دعویٰ تو ہرگز نہیں تاہم مجھے مالکِ کائنات نے جتنی سمجھ بوجھ دی ہے اس کے حساب سے سوائے اس بات کہ میرے پیارے شاہ محمود قریشی نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 217 ملتان viiسے اپنے فرزند ارجمند زین محمود قریشی کو صرف اور صرف اس لئے پی ٹی آئی کی ٹکٹ دلوائی ہے کہ وہ ان کی ہار کا بدلہ چکا سکے ‘اور کوئی دوسرا عقلی جواز سمجھ نہیں آ رہا۔ زین محمود قریشی اس وقت قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 157ملتان iv سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں۔ اب ان کی بطور امیدوار صوبائی اسمبلی نامزدگی سے ان کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں جن پر سوچ سوچ کر اس عاجز نے تو کم از کم یہی نتیجہ نکالا ہے کہ اگر وہ جیت گئے ‘جس کاامکان اس عاجز کی نظر میں کافی مشکل ہے‘ لیکن ان کی جیت کی صورت میں صرف یہ ہوگا کہ ملتان میں ایک عدد مزید ضمنی الیکشن ہوگا۔
فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ زین قریشی نے پارٹی حکم کے مطابق قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا ہوا ہے جو ظاہر ہے ابھی قبول نہیں ہوا اوراس کے قبول نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موصوف نے سپیکر کے پاس جا کر اپنے استعفے کی تصدیق نہیں کی اور گمان غالب ہے کہ وہ کبھی اس سلسلے میں سپیکر کے پاس نہیں جائیں گے‘ لہٰذا یہ معاملہ اسی طرح لٹکا رہے گا تاوقتیکہ نئے الیکشن آ جائیں۔ خیر یہ تو درمیان میں ضمنی سا معاملہ آ گیا تھا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آخر ایک مستعفی شدہ حاضر سروس ایم این اے کو ہی اس صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن کیلئے کیوں نامزد کیا گیا ہے؟ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں مجھے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ سیاسی نہیں‘ بلکہ بالکل ذاتی ہے وگرنہ اس صوبائی نشست پر پی ٹی آئی کے کسی اور مخلص کارکن کو ٹکٹ دی جا سکتی تھی۔ اگر اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی مقامی اور مرکزی قیادت کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی تو اس عاجز کو اس ٹیم کی سوجھ بوجھ‘ لیاقت‘ سیاسی دوراندیشی اور پارٹی سے اخلاص پر شک ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھا ملتان کی سیاست کا یہ ادنیٰ سا طالب علم بھی اور کچھ نہیں تو کم از کم دو تین مخلص اور دیرینہ ورکرز کے نام ضرور بتا سکتا تھا جو نہ صرف یہ کہ پارٹی کے وفادار ہیں بلکہ بطور امیدوار بہت اچھا پرفارم بھی کر سکتے تھے۔ ان میں سے ایک نام اعجاز حسین جنجوعہ کا ہے جو روزِ اول سے عمران خان اور تحریک انصاف سے منسلک ہے اور 2018ء کے الیکشن میں اس کی صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کے جوڑوں میں تب بھی شاہ محمود قریشی ہی بیٹھے تھے اور اب اس کی جگہ اپنے پہلے سے ممبر قومی اسمبلی بیٹے کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دلوا دیا ہے۔
اس معاملے کا سیاسی جائزہ لینے سے قبل کیا یہ عاجز ایک سوال پوچھ سکتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں وراثت کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتری ہوئی تحریک انصاف کے پاس پورے ملتان میں اور کوئی امیدوار نہیں تھا کہ ایک ہی خاندان سے باپ بیٹا جو پہلے سے ہی ملتان کی چھ قومی نشستوں میں سے دو پر قابض ہیں اب اس ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر پھر وہی رکن قومی اسمبلی بیٹا امیدوار ہے۔ شاہ محمود قریشی اپنے اکلوتے بیٹے کے زور پر ملتان کی سیاست پر اسی طرح پھیلنے کی کوشش کر رہے جس طرح سید یوسف رضا گیلانی اپنے چار بیٹوں میں سے تین کے زور پر ہر الیکشن میں ملتان کی چھ قومی میں سے تین نشستوں پر قبضہ مافیا کی طرح قبضہ کر لیتے ہیں۔ شنید ہے کہ ان کا چوتھا بیٹا جو گھر کا واحد غیر سیاسی مرد بچا ہوا تھا آئندہ الیکشن میں کھڑا ہو کر یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کی پچھتر فیصد نمائندگی کو پورا سو فیصد کر دے گا۔
ملتان کی یہ صوبائی اسمبلی کی نشست بڑے معرکے کی سیٹ ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں اس صوبائی نشست سے خود شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔ ان کے مقابلے پر ایک بالکل نوجوان اور انتخابی سیاست میں قطعاً نو وارد جو اتنا کم عمر تھا کہ الیکشن کیلئے درکار کم از کم عمر کو بھی بمشکل ہی پورا کرتا تھا اور اس کے دو سال عدالتوں میں صرف یہ ثابت کرنے میں گزر گئے کہ وہ الیکشن والے دن الیکشن کیلئے درکار کم از کم آئینی عمر پر پورا اترتا تھا۔ خیر سے اس نوجوان سلمان نعیم نے پرانے اور گھاگ سیاستدان شاہ محمود قریشی کو ساڑھے تین ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ سلمان نعیم نے 35299ووٹ حاصل کئے جبکہ شاہ محمود قریشی کو 31716ووٹ ملے۔ اس شکست نے شاہ محمود قریشی کا وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا دیرینہ خواب مٹی میں ملا دیا۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے سلمان نعیم کو نااہل قراردلوانے کیلئے بڑا زور لگایا مگر ناکام رہے۔ اب انہوں نے اپنی اس تاریخی شکست کا بدلہ لینے کیلئے اپنے بیٹے کو میدان میں اتار دیا ہے۔
اللہ جانے اس بات میں کتنی حقیقت ہے تاہم ایک نہایت ہی معتبر اور ثقہ راوی نے مجھے بتایا کہ خود عمران خان شاہ محمود قریشی کی اس شکست پر تب بہت خوش تھے اور جب شاہ محمود کو شکست دینے والے آزاد رکن اسمبلی سلمان نعیم کو جہانگیر ترین عمران خان کے پاس لے کر گئے تو شاہ محمود قریشی نے اس بات کا بہت ہی برا منایا اور اسے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے آزاد الیکشن لڑنے کے جرم میں پارٹی کا غدار قرار دیا اور یہ ملاقات رکوانے کی بڑی کوشش کی۔ اس موقع پر وہاں موجود ایک دوست نے بتایا کہ جب شاہ محمود قریشی نے بہت زیادہ احتجاج کیا تو عمران خان نے انگریزی میں انہیں کہا کہ ”قریشی! اب عورتوں کی طرح رونا دھونا بند کرو‘‘۔ آزاد امیدوار کے طور پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والا سلمان نعیم جہانگیر ترین کی وساطت سے پی ٹی آئی میں شامل ہوا اور جہانگیر ترین کے ساتھ پی ٹی آئی سے رخصت ہوا۔ فلور کراسنگ کی آئینی پابندی کی زد میں آ کر نااہل ہوا۔ اب سلمان نعیم حلقہ پی پی 217سے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار ہے جبکہ اس کے مدمقابل اس کے شکست خوردہ امیدوار شاہ محمود قریشی کا بیٹا زین محمود قریشی پی ٹی آئی کا امیدوار ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ فی الوقت سلمان نعیم کو مسلم لیگ (ن) کے اندر سے مخالفت کی لہر کا سامنا ہے۔ این اے 156سے ایک عرصہ تک رانا خاندان مسلم لیگ (ن) کا امیدوار تھا اور گزشتہ الیکشن سے یہ حلقہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر مسلسل دوسرے الیکشن میں بھی انہیں اس حلقے سے باہر رکھا گیا تو وہ اس حلقے سے مکمل طور پر فارغ ہو جائیں گے۔ اس حلقے سے (تب اس حلقے کا نمبر این اے 150تھا) مسلسل دو بار 2002ء اور 2008ء کے الیکشن میں منتخب ہونے والے رانا محمود الحسن 2013ء میں بھی اسی حلقے سے شاہ محمود قریشی کے خلاف امیدوار تھے مگر ہار گئے۔ 2015ء میں رانا محمود الحسن صوبائی اسمبلی پی پی 196 سے 2015ء میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم مارچ 2018ء میں وہ اس نشست سے مستعفی ہوئے اور رکن سینیٹ بنا دیے گئے۔ رانا محمود الحسن کے بارے میں درمیان میں یہ خبر بھی اڑی کہ انہوں نے 15نومبر 2018 ء میں پنجاب کی دو سیٹوں پر ہونے والے سینیٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے بجائے تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دیا تھا۔ پنجاب سے سینیٹ کی یہ دو نشستیں مسلم لیگ (ن) کی سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کی دہری شہریت کے بنیاد پر نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے ان خالی ہونے والی دو نشستوں پر ولید اقبال اور سیمی ایزدی امیدوار تھیں۔ (جاری )

اپنا تبصرہ بھیجیں