ملتانِ ما‘ لودھراں اور ضمنی انتخابات … (2)

بات ہو رہی تھی ملتان کے ضمنی انتخابات کی‘ جس میں ایک طرف آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیت کر پی ٹی آئی میں شمولیت کر کے منحرف ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی سلمان نعیم ہیں جو اب مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل‘ انہی سے شکست کھانے والے شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی ہیں۔ زین قریشی فی الوقت ملتان کے حلقہ این اے 157 سے ممبر قومی اسمبلی بھی ہیں۔ اگر زین قریشی یہ صوبائی الیکشن جیت جاتے ہیں (جس کا امکان کم ہی ہے؛ تاہم یہ اندازہ آج کے حالات کے مطابق ہے جس میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے) تو ان کے سامنے اب یہ مسئلہ آن پڑے گا کہ وہ تازہ جیتنے والی صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھیں یا پھر قومی اسمبلی کی نشست کو برقرار رکھیں۔ اگر تو وہ صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھتے ہیں تو انہیں اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے واقعتاً مستعفی ہونا پڑے گا۔ اس واقعتاً مستعفی ہونے سے میری مراد ہے کہ انہیں اصلی والا استعفیٰ دینا پڑے گا کیونکہ انہوں نے جو استعفیٰ اب تک جمع کروایا ہوا ہے وہ میرے خیال میں استعفیٰ نہیں‘ بلکہ استعفے کا ڈرامہ ہے جو نہایت ہی سلوموشن میں چل رہا ہے۔
اگر وہ اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیتے ہیں (جس کا امکان میرے خیال میں نہ ہونے کے برابر ہے) تو اس کا مطلب ہے کہ ملتان کی قومی اسمبلی کی یہ نشست این اے 157 خالی ہو جائے گی اور اس پر ضمنی الیکشن ہوگا۔ دوسری صورت میں اگر وہ صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر پھر اسی صوبائی نشست سے مستعفی ہوتے ہیں (اس نشست پر زین قریشی کے جیتنے کا امکان کم ہے؛ تاہم جیتنے کی صورت میں مستعفی ہونے کا امکان یقینی ہے) تو بھی اس نشست پر ایک بار پھر ضمنی انتخاب ہو گا یعنی زین قریشی کی جیت کی صورت میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 157 یا صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 217 میں سے کسی ایک حلقے پر ایک اور ضمنی الیکشن ہر حال میں ہوگا۔ امیدوار تو چار‘ چھ ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کروا دیں گے مگر سرکار کے لاکھوں روپے کا خرچہ مفت میں ہو جائے گا۔ اگر صاف لفظوں میں بیان کروں تو یہ کہ پی ٹی آئی نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 217 کے ضمنی الیکشن میں زین قریشی کی بطور امیدوار نامزدگی کرتے ہوئے کوئی سیاسی فیصلہ نہیں کیا بلکہ شاہ محمود قریشی کی انا کی تسلی کے لیے اس نشست پر ان کے بیٹے کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس طرح شاہ محمود قریشی اپنے بیٹے کے ذریعے سلمان نعیم کو شکست دے کر اپنا پرانا بدلہ برابر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سیدھا سیدھا اپنی انا کو سکون پہنچانا چاہتے ہیں وگرنہ اس نشست پر الیکشن لڑنے کے لیے پی ٹی آئی کے پاس کئی مضبوط امیدوار موجود تھے اور‘ اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے‘ زین قریشی کوئی ایسے مضبوط امیدوار نہیں ہیں۔
میں جو کہ کہہ رہا ہوں کہ اگر زین قریشی بفرض محال جیت گئے تو وہ جیتنے کے باوجود اس نشست سے بہرحال استعفیٰ دے دیں گے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی صور ت میں اپنی این اے 157 کی نشست نہیں چھوڑیں گے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ نشست ان کی آبائی نشست ہے اور اس پر عشروں سے خود شاہ محمود قریشی الیکشن لڑتے رہے ہیں اور اپنی اس آبائی نشست پر الیکشن 2018ء میں شاہ محمود قریشی نے پہلی بار اپنے بیٹے زین قریشی کو الیکشن لڑوایا تھا۔ مقابلے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عبدالغفار ڈوگر امیدوار تھے۔ اس حلقے میں بڑے زوروں کا مقابلہ ہوا۔ زین قریشی نے ستتر ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے‘ علی موسیٰ نے ستر ہزار اور عبدالغفار ڈوگر نے باسٹھ ہزار سے زائد ووٹ لیے۔
اسی حلقے سے الیکشن 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبدالغفار ڈوگر نے شاہ محمود قریشی اور سید علی موسیٰ گیلانی کو اچھے خاصے مارجن سے ہرایا تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ شاہ محمود قریشی ملتان شہر کے حلقے میں جیت گئے ورنہ اسمبلی سے باہر ہو جاتے۔ تب دو عدد مخدوموں یعنی مخدوم شاہ محمود قریشی اور مخدوم علی موسیٰ گیلانی کو شکست دینے پر غفار ڈوگر کو یار لوگوں نے مذاق میں مخدوم شکن کا خطاب دے مارا تھا۔ تب اس حلقے کا نمبر این اے 148 تھا۔ گزشتہ چار‘ چھ سال کے دوران علی موسیٰ گیلانی نے اس حلقے کو خاصا وقت دیا ہے اور لوگوں سے رابطہ بھی رکھا ہے۔ اگر حالات چار چھ ماہ پہلے والے ہوتے تو ملتان کے چھ قومی حلقوں میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ اسی حلقے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایسی صورت میں اگر زین قریشی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوئے تو اس حلقے میں شاہ محمود قریشی فیملی کے لیے فوری طور پر جیتنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ ان کے خاندان میں اپنے اور بیٹے کے علاوہ فی الوقت کوئی تیسرا امیدوار نہیں جو اس حلقے میں قریشی خاندان کی نمائندگی کر سکے۔ شاہ محمود قریشی اور ان کے بھائی مرید حسین قریشی میں جس پیمانے کے اَن بَن چل رہی ہے اردو میں اس کے لیے بڑا نامعقول قسم کا محاورہ ہے جو لکھنا قطعاً مناسب نہیں۔ ایسی صورت میں اس حلقے سے مستعفی ہونے کا مطلب ہے کہ یہ حلقہ قریشی صاحب کے ہاتھ سے گیا۔ اگر زین قریشی نے صوبائی اسمبلی کی نشست جیت لینے کے باوجود اپنی قومی اسمبلی کی نشست برقرار رکھی تو مطلب یہ ہوا کہ حلقہ پی پی 217 پر ایک بار پھر ضمنی الیکشن ہو گا؛ تاہم ابھی شاید اس کی ضرورت نہ پڑے۔
ہاں! ایک بات درمیان میں رہ گئی تھی‘ سلمان نعیم کی اگلی نظر اب شاہ محمود قریشی کے ملتان شہر والے حلقہ این اے 156 پر ہے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے پرانے امیدوار رانا محمود الحسن خود تو سینیٹر ہیں لیکن وہ اس حلقے سے اپنے بھائی رانا شاہد کے لیے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ لینا چاہتے ہیں۔ اللہ مجھے بدگمانی پر معاف کرے لیکن رانا شاہد کو ملتان شہر میں ویسی شہرت حاصل نہیں جیسی دیگر امیدواروں کو ہے۔ ایک بار میری مسلم لیگ (ن) کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے ملتان میں ان کے پارٹی امیدواروں کی اعلیٰ صلاحیتوں اور اس قسم کی حرکتوں کے معاملے پر بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ سنا تو ہم نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی ہے لیکن کیا کریں؟ دراصل میاں نواز شریف صاحب اس سلسلے میں خاصے بامروت اور لحاظ والے آدمی ہیں۔ وہ ان امیدوارں کے مرحوم والد سے کیے ہوئے وعدوں اور ان سے اپنے دیرینہ تعلق نبھاتے ہوئے ان کے بچوں کی کمزوریوں کے باوجود ان پر مہربان ہیں۔ اس پر میں نے انہیں کہا کہ گزشتہ الیکشن میں ملتان سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جتوانے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کا اپنا بڑا ہاتھ تھا۔ جواباً وہ مسکرا کر رہ گئے۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سلمان نعیم کو اس بار اپنے حلقے میں وہی مصیبت درپیش ہے جو الیکشن 2013ء میں ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار شاہ محمود قریشی کو درپیش تھی۔ تب پی ٹی آئی ملتان کے وہ تمام لوگ جو شاہ محمود قریشی کی جانب سے وعدوں کے بعد ان کے ”پھٹے کھینچنے‘‘ کے باعث مختلف حلقوں سے ٹکٹوں کے حصول میں ناکام ہوئے تھے‘ ان سب نے مل کر 2018ء میں حلقہ پی پی 217 سے شاہ محمود قریشی کا پھٹہ کھینچ کر ان کی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش کا دھڑن تختہ کر دیا۔ اس بار مسلم لیگ (ن) میں سکائی لیب کی طرح گرنے والے سلمان نعیم کے ساتھ بعض مسلم لیگی سیاسی رہنما بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ (جاری)

اپنا تبصرہ بھیجیں