موسمیاتی بحران سے بچنے کے لیے گوشت کا استعمال کم کرنے کی درخواست

برلن: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر ہفتے فی شخص کھائے جانے والے دو برگر میں استعمال کیے جانے والے بیف کے برابر گوشت کی کھپت میں کمی سے موسمیاتی بحران کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی نئی اسٹیٹ آف کلائمیٹ ایکشن 2022 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیرس معاہدے میں طے کیے گئے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے انسانیت کو کتنا کام درکار ہے۔

انسانوں کی جانب سے ’کونسے کام کیے جانے چاہیئں‘ کی فہرست میں رپورٹ نے گوشت خور افراد سے گلوبل وارمنگ کم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے۔

ان تمام خطوں میں جہاں گوشت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے 2030 تک گوشت کی روزانہ کھپت کو 79 کلو کیلوریز تک اور 2050 تک 60 کلو کیلوریز تک محدود کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ مقدار ہر ہفتے دو بیف برگر کھانے ک برابر ہے۔

لیکن یہ صرف ایک عمل ہے جو پیرس معاہدے میں طے کیے جانے والے مقصد یعنی عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود کرنے میں مدد کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق دیگر کاموں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو چھ گُنا تیز کرنا، جنگلات کے کاٹے جانے کی سالانہ شرح میں کمی لانے میں 2.5 گُنا تیزی لانا اور کوئلے کا بطور بجلی کی پیداوار کے ذریعے کے استعمال میں تیزی سے کمی شامل ہیں۔

200 صفحات پر مشتمل اس نئی رپورٹ کے مطابق صحت مند غذا پر منتقلی کی شرح موجودہ شرح سے پانچ گُنا زیادہ تیز کرنے ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں