جامعہ کراچی میں غیر ملکی وفود کیلئے سیکیورٹی بڑا خطرہ قرار، بین الاقوامی کانفرنس منسوخ

کراچی: جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے کیمپس میں غیر ملکی وفود کی آمد کو انتہائی بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے پہلے سے شیڈول بین الاقوامی پروگرام منسوخ کرنا شروع کردیے ہیں۔

جامعہ کراچی کے موجودہ رجسٹرار پروفیسر مقصود انصاری نے اس سلسلے میں ایک خط جاری کیا ہے جس میں جولائی کے آخری ہفتے میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کو یہ کہہ کر ملتوی کرنے کی ایڈوائس جاری کی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں دیگر ملکوں یا شہروں سے وفود کا آنا انتہائی بڑا رسک ہے۔

واضح رہے کہ یہ کانفرنس “سائنس، انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے موجودہ رجحانات” کے موضوع پر منعقد ہونی تھی، جامعہ کراچی کے رجسٹرار خود اس کانفرنس کے چیف آرگنائزر جبکہ موجودہ قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر بحیثیت ڈین سائنسز اس کی پیٹرن تھیں۔
رجسٹرار جامعہ کراچی نے بحثیت چیف آرگنائزر اس خط میں کہا کہ ہم نے کوشش کی تھی کہ اس کانفرنس کو شیڈول کے مطابق منعقد کریں تاہم معاملات ایسے نہیں جارہے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں لہذا اسے منسوخ کرتے ہوئے رجسٹریشن اور اسپانسر شپ کی رقوم واپس کی جارہی ہیں اور جیسے ہی صورتحال بہتر ہوتی ہے ہم اس کے دوبارہ انعقاد کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی نے یہ کانفرنس اپنے انعقاد سے 2 ماہ قبل ہی منسوخ کی کانفرنس ایسے موقع پر منسوخ کی گئی ہے، جب جامعہ کراچی کے پڑوس میں موجود این ای ڈی یونیورسٹی نے اپنے کیمپس میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں وزیر برائے بورڈز اینڈ یونیورسٹیز نے بھی شرکت کی تھی جبکہ جامعہ کراچی میں سیکیورٹی صورتحال چینی اساتذہ پر کیے گئے خود کش حملے کے بعد خراب یا پر خطر قرار دی جارہی ہے۔

چینی اساتذہ یہ کلاسز این ای ڈی میں بھی کیا کرتے تھے اور وہاں بھی رہائش پذیر تھے اس حوالے سے سیکیورٹی صورتحال پر انتظامی موقف جاننے کے لیے رجسٹرار جامعہ کراچی کو فون کیا اور واٹس ایپ پر ان کی رائے جاننے کی کوشش بھی کی تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں