سندھ کی متعدد جامعات مستقل وائس چانسلرز سے محروم

کراچی: سندھ میں سرکاری جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے ” تلاش کمیٹی” کا نوٹیفیکیشن نہ ہونے کے سبب صوبے کی کم از کم 9 سرکاری جامعات مستقل سربراہوں سے محروم ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ کی متعدد جامعات کئی برسوں سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہیں، اس کے باوجود چانسلرز کی تقرری کرنے والی تلاش کمیٹی مسلسل معاملات کو تاخیر کا شکار کررہی ہے۔

سندھ اسمبلی صوبے کی سرکاری جامعات میں مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے لیے تلاش کمیٹی کو قانونی حیثیت دیتے ہوئے اس کا باقاعدہ ایکٹ اس سال کے شروع میں منظور کرچکی ہے اور اب اس ایکٹ کو محض ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے لاگو ہونا ہے۔

تاہم حکومت سندھ اور بالخصوص وزیر اعلی ہائوس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ سندھ ایچ ای سی کے سابق چیئرمین اور ضیاء الدین یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر عاصم حسین سرچ کمیٹی کے ایکٹ کے نفاذ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اسمبلی ایکٹ کے مطابق تلاش کمیٹی کا سربراہ سندھ ایچ ای سی کا چیئرمین ہوتا ہے جبکہ یہ ایکٹ بھی اس وقت سندھ اسمبلی سے منظور ہوا تھا جب ڈاکٹر عاصم حسین سندھ ایچ ای سی کے سربراہ تھے اور اگر وہ تیسری مدت کے لیے بھی سندھ ایچ ای سی کے سربراہ بنا دیے جاتے تو وہی بربنائے عہدہ تلاش کمیٹی کے چیئرمین بھی ہوجاتے تاہم ایسا نہیں ہوسکا اور وزیر اعلی سندھ نے صوبے کے اعلی سیاسی حکام کی ہدایت پر ڈاکٹر عاصم حسین کو تیسری مدت دی نہ ان کے سفارش کردہ امیدوار ایچ ای سی کے سربراہ بن سکے اور ڈاکٹر طارق رفیع کو سندھ ایچ ای سی کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔

“ایکسپریس” نے جب اس سلسلے میں سابق چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر عاصم حسین سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ “میں کیوں سرچ کمیٹی کا نوٹیفیکیشن رکوائوں گا سرچ کمیٹی کا نوٹیفیکیشن کرنا ایس اینڈ جی ڈی اے کا کام اور اس سلسلے میں کوشش کرنا موجودہ چیئرمین ایچ ای سی کا کام ہے۔

اس سلسلے میں سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز مرید راہیمو نے نمائندہ ایکسپریس کے سوال پر بتایا کہ انھوں نے چارج لینے کے بعد بہت بڑے بڑے کام کیے ہیں تاہم وہ ایک کام بھی نہ بتاسکے، جب کام بتانے پر استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بجٹ بنانے میں مصروف رہے اس لیے مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی پر کام نہیں ہوسکا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس وقت سندھ میں آئی بی اے سکھر میں 19 اکتوبر 2020 سے مستقل وائس چانسلر نہیں ہے شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی میں 30 اکتوبر 2017 سے قائم مقام سربراہ ہیں دائود انجینیئرنگ یونیورسٹی کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی مدت پوری ہونے پر پرانی تلاش کمیٹی تین نام وزیر اعلی کو بھجواچکی ہے یہاں بھی 18 جون 2021 سے وائس چانسلر کے پاس تاحکم ثانی کا چارج ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو وومن یونیورسٹی میں بھی 2021 سے قائم مقام کے پاس چارج ہے اسی طرح لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں اکتوبر 2021 جبکہ مہران انجینیئرنگ یونیورسٹی میں 18 جنوری سے قائم مقام وی سی کام کررہے ہیں بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈویلپمنٹ میں 8 فروری 2022 سے مستقل وائس چانسلر نہیں ہے، اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ ، آرکیٹیکٹ ڈیزائن اینڈ ہیریٹج میں اب ڈاکٹر ثمرین حسین کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کا نوٹیفیکیشن بھی بیک ڈیٹ میں سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے جاری کیا مزید براں کراچی میں قائم لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جبری رخصت پر بھجوائے کئی ماہ ہوگئے ہیں جبکہ ان کے معاملے کی انکوائری اب حال میں ایف آئی اے کے سپرد کی گئی ہے اس یونیورسٹی کا چارج بھی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے نان پی ایچ ڈی وائس چانسلر ڈاکٹر سراج میمن کے پاس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں