کچھ پرانی یادیں!

(گزشتہ سے پیوستہ)

ہمارے امریکی دورے کو دلچسپ بنانے میں یونانی قبرص کے کپریانی کا بھی بہت ہاتھ تھا۔ یہ بہت دلچسپ شخص تھا۔ مجھے ’’قیس می‘‘ کہتا تھا، اس کی انگریزی بہت کمزور تھی، ایک دن مجھے کہنے لگا ’’قیس می‘‘ میں جب صبح اٹھتا ہوں تو تازہ دم ہونے کی وجہ سے میری انگریزی قدرے بہتر ہوتی ہے۔ دوپہر تک اس انگریزی میں لاغری پیدا ہو جاتی ہے اور شام کو یہ بالکل دم توڑ دیتی ہے‘‘ اور وہ صحیح کہتا تھا چنانچہ شام کے بعد میں اس کے ترجمان کے فرائض انجام دیتا تھا۔

فلپائن کا مانا روس ہر وقت کسی نہ کسی ’’بھسوڑی‘‘ میں ہوتا تھا چنانچہ جب تعلیمی سیشن میں شرکت کے لئے روانگی کی خاطر سب لوگ وین میں بیٹھ چکے ہوتے، وہ سب سے آخر میں گھبرایا گھبرایا سا نمودار ہوتا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی کوئی چیز اور برابر سے گزرتے ہوئے کسی شخص کو گراتا ہوا وین میں داخل ہوتا۔ اس کی ایک ادا جو سب کو بہت پسند تھی وہ یہ تھی کہ سیشن شروع ہوتے ہی وہ کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتا اور سو جاتا، بلکہ تھوڑی دیر بعد ہلکے ہلکے خراٹے بھی لینے لگتا۔ ایک بڑی میز جس کے گرد صرف پندرہ بیس لوگ بیٹھے ہوں ان میں سے ایک ’’برسرعام‘‘ سویا ہوا شخص جتنا نمایاں لگ سکتا تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن سونے سے زیادہ ماناروس کا اصل کمال یہ تھا کہ قریباً پینتالیس منٹ تک گہری نیند کے بعد وہ نیم غنودگی کے عالم میں اپنا ہاتھ کھڑا کرتا اور کوئی سوال داغ دیتا ۔

سوال کرنے والوں میں کولمبیا کے وکٹر کا بھی کوئی جواب نہیں تھا یہ حلقہ ارباب ذوق کا کوئی پیشہ ور ’’بحثیا‘‘ لگتا تھا اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی خاصا پڑھا لکھا آدمی تھا اس کی شکل تحسین فراقی سے بہت ملتی تھی مگر جو لوگ تین چار لیکچرسن کر تھک کر چور ہوئے ہوتے اس وقت یہ ’’دست سوال‘‘ دراز کرتا اورتابڑ توڑ سوال کرکے سیشن کو ایک گھنٹہ مزید طویل کر دیتا ایک روز کپریانی کہنے لگا ’’وجہ کوئی خاص نہیں بلکہ صرف مشورہ ہے کہ جب وکٹر سوال کرنے لگے تم اس کے پائوں پر اپنے جوتے کی ایڑی کس کر مارو تاکہ اس کے سوالوں سے نجات مل جائے ! ‘‘

کویت کا احمد قلندر بہت خوبصورت عادات کا مالک تھا، مگر بہت ’’شائی ‘‘ تھا چنانچہ زیادہ لوگوں کے سامنے کھل کر بات نہیں کر سکتا تھا فینیکس کے میئر مسٹرڈرنگ واٹر کی طرف سے دیئے گئے عصرانے میں ہم سب غیر ملکی مندوبین کو مائیک پر آکر اظہار خیال کرنا تھا چنانچہ ہم قطار میں راسٹرم کےپاس کھڑے تھے اور باری باری مائیک پر جاکر اظہار خیال کرتے تھے احمد قلندر میرے برابر میں کھڑا تھا اور جوں جوں اس کی باری قریب آ رہی تھی اس کے ذہنی تنائو میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا حتیٰ کہ جب اس کا نام پکارا گیا تو وہ سیدھا منہ کے بل فرش پر گر گیا ۔

سوڈان کا ڈاکٹر عراقی ہر وقت اداس اداس رہتا تھا بس اس کے چہرے پر رونق اس وقت آتی تھی جب اس کے سامنے سفید فام کیرولین کا ذکر ہوتا تھا اس وقت وہ ٹھنڈی آہ بھرتا اور کہتا تھا ’’ کوئی ہے جو میرے جذبات اس تک پہنچائے‘‘ ۔

اردن کا محمد حلال شاہ انتہائی دلچسپ آدمی تھا بہت بذلہ سنج، اس کے گیارہ بچے تھے جب کوئی اس سے پوچھتا کہ تم اردن میںکیا کام کرتےہو تو وہ اپنی ننھی منی سفید داڑھی کو کھجلاتے ہوئے کہتا ’’ میں نے تمہیں بتایا نا کہ میرے گیارہ بچے ہیں ‘‘۔

پیرو کا الفانسو تصویریں کھینچنے کا شوقین تھا بسا اوقات وہ خالی دیوار کی تصویریں بنانے لگتا تھا قبرص کا حسین ہر وقت ڈالروں کا حساب کرتا رہتا کہ کتنے ڈالر خرچ ہو گئے ہیں اور کتنے ابھی مزید ملنے کی توقع ہے ۔

ڈنمارک کا پال صحیح معنوں میں ایک نستعلیق آدمی تھی اس کا مزاح انتہائی شستہ ہوتا تھا ڈنمارک کی بی بی بیٹن اس سے زیادہ نستعلیق تھی عمر چالیس کے قریب ،خوبصورت، دراز قد، تیکھے نین نقش، مگر انتہائی ریزرو رہتی تھی وہ جانتی تھی کہ مردوں سے عزت کس طرح کرائی جاتی ہے چنانچہ ان چار ہفتوں میں کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ اس کے بارے میں کوئی جعلی ’’کلیم‘‘ ہی داخل کر سکے ۔

بس یہ وہ لوگ تھے اور یہ وہ فضا تھی جس میں چار ہفتے مختلف النوع مسائل کے باوجود بہت اچھی طرح گزرے اور ہاں کویت کا احمد قلندر اور ڈنمارک کا پال ہوٹل کے ’’سالم ‘‘ کمرے میں رہتے تھے ڈنمارک کی بیٹن بھی کسی کے ساتھ کمرہ شیئر نہیں کرتی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں