عصر کے بیٹے

’’جنرل بول نہیں سکتا‘‘ نرس نے مسکرا کر جواب دیا اور ملاقاتی حیرت سے بیڈ کی طرف دیکھنے لگا‘ سامنے بیڈ پر ہڈیوں کا ڈھانچہ رکھا ہوا تھا‘ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں‘ رنگ پیلا زرد تھا‘ پورے جسم کی جلد لٹک رہی تھی‘ بال الجھے ہوئے اور گندے تھے اور سیاہ ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئی تھیں‘ وہ ڈھانچہ کسی بھی طرح جنرل پرویز مشرف دکھائی نہیں دیتا تھا‘ آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔

لہجے کی کھنک اور چہرے کا اعتماد دم توڑ چکا تھا اور کسرتی جسم کو بچھڑے ہوئے صدیاں گزر چکی تھیں‘ وہ اب آئی سی یو کے ایک وی وی آئی پی مریض کے سوا کچھ نہیں تھے‘ ملاقاتی کے تخیل کو جھٹکا لگا‘ اس نے آنکھیں صاف کیں اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی آنکھوں کو سلام کر کے باہر آ گیا لیکن دروازہ بند ہونے سے پہلے اس نے نرس کی دوسری سرگوشی سن لی ’’بے چارہ جنرل اٹھ‘ بیٹھ اور کھا پی بھی نہیں سکتا۔‘‘

میں جنرل پرویز مشرف کے عروج وزوال کا عینی شاہد ہوں‘والد سید مشرف الدین وزارت خارجہ میں کام کرتے تھے اور والدہ بیگم زرین مشرف اسکول ٹیچر تھیں‘ پرویز مشرف اپنے دونوں بھائیوں کے مقابلے میں نالائق تھے لیکن قسمت کی دیوی صرف ان پر عاشق تھی‘ یہ کم زور جسم اور چھوٹے قد کے باوجود فوج میں بھرتی ہو گئے اور نشیب و فراز سے گزر کر لیفٹیننٹ جنرل بن گئے۔

ان کی پروموشن میں مولانا فضل الرحمن اور بے نظیر بھٹو نے اہم کردار ادا کیا تھا‘ جنرل مشرف نے 1993 میں واشنگٹن میں بے نظیر بھٹو کی اسرائیلی ایجنسی موساد کے اہم آفیسر اور اسرائیلی وزیراعظم کے ایلچی سے ملاقات کرائی تھی‘ شوکت عزیز سے ان کی پہلی ملاقات بھی 1993 میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ہوئی تھی‘وہ اس وقت سٹی بینک میں کام کرتے تھے‘دونوں نے ایک دوسرے کا مستقبل بھانپ لیا اور دونوں دوست بن گئے۔

یہ 1995 میں کور کمانڈر منگلا تعینات ہو گئے اور ان کا خیال تھا یہ یہاں سے ریٹائر ہو جائیں گے‘1998میں انھوں نے اپنا سامان بھی پیک کر لیا تھا اور یہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ٹھکانہ بھی تلاش کر رہے تھے لیکن پھر اچانک قسمت کی دیوی ان پر مزید مہربان ہوئی اور میاں نواز شریف نے سینئر جرنیلوں کو مسترد کر کے جنرل پرویز مشرف کو ساتواں آرمی چیف بنا دیا‘ چوہدری نثار علی خان نے اس تقرری میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ ان کا خیال تھا جنرل مشرف کی جڑیں نہیں ہیں‘ یہ ن لیگ کی حکومت کو بھی ڈسٹرب نہیں کریں گے اور انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کے راستے میں رکاوٹ بھی کھڑی نہیں کریں گے لیکن آپ قسمت کا ہیر پھیر دیکھیے‘ جنرل مشرف نے کارگل پر قبضہ بھی کیا۔

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کو بھی ریورس گیئر لگایا‘ ن لیگ کی دو تہائی اکثریت بھی لپیٹ دی‘ باوردی صدر بھی بن گئے اور اپنے دونوں محسنوں بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کو جلاوطن بھی کر دیا‘ جنرل پرویز مشرف کو بعدازاں نائین الیون کا کیچ ملا اور یہ پوری مغربی دنیا کی ڈارلنگ بن گئے‘ صدر جارج ڈبلیو بش انھیں اپنے کندھوں پر اٹھانے لگے‘ یہ دنیا کے تمام بڑے ٹیلی ویژن چینلز پر بھی آئے اور دنیا جہاں کے صدور اور وزراء اعظم نے کھڑے ہو کر ان کے لیے تالی بھی بجائی‘ یہ درجن مرتبہ خانہ کعبہ اور حجرہ رسولؐ میں داخل ہوئے اور انھیں کعبے کی چھت پر عین اس جگہ کھڑے ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی جہاں سے حضرت بلال حبشیؓ نے فتح مکہ کے بعد اذان دی تھی۔

جنرل مشرف نے سیکڑوں طالبان اور القاعدہ کے لیڈرز پکڑ کر امریکا کے حوالے بھی کیے اور کروڑوں ڈالر معاوضہ بھی وصول کیا‘ یہ ملک کے اندر بھی بادشاہ گر تھے‘ میجر جنرل احتشام ضمیر نے ان کے لیے ق لیگ بھی بنائی اور پیپلز پارٹی کے بطن سے پیٹریاٹ بھی نکالی‘ جنرل مشرف اپنے دور میں اس قدر تگڑے تھے کہ اگر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی ان کے ارادوں میں مزاحم ہونے کی غلطی کی توجنرل نے ان کی گاڑی سے جھنڈا بھی اتروا دیا اور انھیں آرمی چیف ہاؤس سے معزول کر کے گھر واپس بھی بھجوا دیا۔

اگر جامعہ حفصہ خالی کرانے کے لیے فوجی آپریشن کرنا پڑا تو جنرل پرویز مشرف وہ بھی کر گزرے اور اگر معزول چیف جسٹس نے کراچی میں قدم رکھا تو جنرل نے ایم کیو ایم کی مدد سے شہر میں آگ بھی لگوا دی اور 50لوگ بھی مروا دیے‘ یہ تکبر‘ یہ غلطیاں اور یہ اتھارٹی بہرحال جنرل پرویز مشرف کے زوال کی وجہ بنی‘ بے نظیر بھٹو امریکا کی مدد سے واپس آئیں‘ پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور جنرل پرویز مشرف جلاوطن ہونے پر مجبور ہو گئے‘ یہ 24 مارچ 2013 کو واپس آئے لیکن طویل خواری اور آرٹیکل چھ کا طوق لے کر 17 مارچ 2016ء کو دبئی واپس چلے گئے‘ جنرل راحیل شریف نے انھیں باہر بھجوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف سیاست سے ہٹ کر ایک شان دار انسان تھے‘ ورزش‘ اسپورٹس‘ تیراکی اور برج کے شیدائی تھے‘ یہ 2018 تک کھیلتے اور دوڑتے بھاگتے تھے‘ آواز میں بہت جان اور گفتگو میں استدلال تھا‘ یہ بڑے سے بڑے جغادری کو بھی چند لمحوں میں چت کر دیتے تھے‘ جسم میں جذبہ اور گرمائش تھی‘ ہاتھ کی گرفت تگڑی اور یادداشت لاجواب تھی‘ روز دوستوں کی محفل لگاتے تھے اور انھیں زندگی کے لاتعداد واقعات سنا کر حیران کر دیتے تھے‘ انگریزی اور اردو دونوں لاجواب بولتے تھے‘ ترکی زبان بھی آتی تھی اور یہ ریٹائرمنٹ کے باوجود بھی دنیا میں ٹھیک ٹھاک مشہور تھے۔

ان کی زندگی بھی اچھی چل رہی تھی‘ یو اے ای کے شاہی خاندان نے لندن میں بھی اپارٹمنٹ لے دیا تھا اور دبئی میں بھی لیکن پھر 2018کے آخر میں اچانک ان کا وزن گرنا شروع ہو گیا‘ جسم کے مختلف حصوں میں دردیں بھی ہونے لگیں اور معدے اور پیشاب کا نظام بھی بگڑ گیا‘ درجنوں ڈاکٹرز نے معائنہ کیا لیکن ان کے مرض کی تشخیص نہ ہو سکی‘ 2019کے آخری ماہ آ گئے لیکن بیماری کا سرا نہ مل سکا یہاں تک کہ امریکا کے ایک ڈاکٹر نے رپورٹوں کی بنیاد پر اعلان کیا جنرل پرویز مشرف کو امولوئی ڈوسیس (Amyloidosis)نام کی بیماری ہے‘ یہ بیماری انتہائی کم ہوتی ہے۔

دنیا میں اس وقت اس کے صرف 25 مریض ہیں اور علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا‘تین چار ادویات کا ٹرائل چل رہا ہے لیکن یہ بھی حتمی نہیں ہیں‘ ڈاکٹر نے انھیں ٹرائل ادویات دینے کے لیے امریکا آنے کی دعوت دے دی لیکن آپ جنرل پرویز مشرف کا زوال اور امریکا کی طوطا چشمی دیکھیے‘ اس امریکا نے انھیں ویزہ دینے سے انکار کر دیا جس کی پوری کابینہ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا کرتی تھی‘ یہ جس کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا کرتے تھے اور یہ جس کے لیے افغانوں سے بھڑ گئے تھے‘ بہرحال قصہ مختصر جنرل پرویز مشرف کا علاج لندن اور دبئی میں شروع ہوگیا۔

یہ ایک انتہائی تکلیف دہ عمل تھا‘ ان کے بون میرو میں انجکشن لگایا جاتا تھا اور یہ درد سے تڑپتے تھے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘ یہ سلسلہ بھی سال بھر تک چلتا رہا مگر یہ دوا بھی کام نہ آئی اور یہ آہستہ آہستہ اسپتال کے بیڈ تک محدود ہو کر رہ گئے‘ کھانا پینا معطل ہو گیا‘ چلنا پھرنا بھی مفقود ہو گیا اور آخر میں بول چال بھی بند ہو گئی‘ انھیں اب نلکیوں کے ذریعے خوراک اور آکسیجن دی جا رہی ہے‘ یہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں‘ حکومت بھی انھیں لانا چاہتی ہے مگر یہ سفر کے قابل نہیں ہیں اور انھیں جو بھی اس حالت میں دیکھتا ہے وہ اپنی آنکھیں خشک کرنے لگتا ہے اور جنرل مشرف کے عروج کا زمانہ اس کی نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔

بے شک خدائی صرف خدا کی قائم رہتی ہے‘ لاریب ہم سب محض انسان ہیں‘ ہڈیوں‘ گوشت اور خون کا بدبودار مغلوبہ اور بے شک ہم اور ہمارا غرور‘ ہم اور ہمارے عہدے اور ہم اور ہمارا عروج و زوال یہ سب قدرت کے اس کارخانے کے فرش کی میل بھی نہیں ہیں۔

ہم بس آوارہ دستک کی طرح آتے ہیں اور ہوا کے جھونکوں کی طرح چلے جاتے ہیں اور ہمارے پیچھے صرف ہماری عبرت کی کہانیاں رہ جاتی ہیں اور وہ بھی کتنی دیر‘ دو چار پانچ دس سال اور اس کے بعد طویل اندھیرا اور نہ ختم ہونے والا سکوت ہوتا ہے‘ یا میرے پروردگار ہمیں معاف کر دے‘ ہم عصر کے بیٹے ہیں‘ ہم اس دنیا سے خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں سمیٹ پاتے‘ صرف تو ہی ابد ہے اور صرف تو ہی آخر ہے بس ہمیں معاف کر دے‘ ہم اپنی اپنی جانوں کے سب سے بڑے ظالم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں