کووِڈ 19 کی چینی دوا کے پاکستان میں کامیاب تجربات

کراچی: بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے تحت کووِڈ 19 کے علاج میں روایتی چینی دوا ’جنہُوا کِنجن گرینولس‘ (Jinhua Qinggan Granules) کی طبّی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے سینٹر فار بایوایکوی ویلینس اسٹڈیز اینڈ کلینیکل ریسرچ (سی بی ایس سی آر) کے تحت کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج میں روایتی چینی دوا ’جنہُوا کِنجن گرینولس‘ کی کامیاب طبّی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کے نتائج کا اعلان پیر 17 جنوری 2022 کی صبح بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں ایک تقریب کے دوران کیا جائے گا۔

صوبائی وزیرصحت و بہبودِ آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ان نتائج کا اعلان کریں گی۔

پاکستان میں ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن کے ٹرائلز کا آغاز انڈس اسپتال کے تعاون سے پچھلے سال کیا گیا تھا۔

یہ بات آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کوآرڈی نیٹر جنرل کومسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے آج ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں کلینیکل ریسرچ کے ماہرین کے ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ جنہُوا کِنجن گرینولس دوا جوشیچنگ فارماسیوٹیکل کمپنی نے بنائی ہے جو چین میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج کےلیے استعمال ہوئی تھی جبکہ اس دوا کی فائٹو کیمسٹری ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری، جامعہ کراچی میں کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کا باضابطہ اعلان پیر 17 جنوری 2022 کے روز آئی سی سی بی ایس، کومسٹیک اور وزارت صحت و بہبود آبادی سندھ کے علاوہ متعدد چینی کمپنیوں کے اشتراک سے کیا جائے گا۔

اس تقریب میں ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن (ایف آر ایس)، شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، پاکستان میں چینی سفیر نانگ رونگ، چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق، سینٹر فار بایو ایکوی ویلینس کے انچارج اور اس تحقیق کے مرکزی محقق پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ، بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کی قائم مقام ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین، چینی اسکالر ڈاکٹر یو ویمنگ اور دیگر چینی ماہرین بھی خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ یہ طبّی آزمائشیں بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ رجسٹر کروائی گئیں جن میں 402 ایسے رضاکار شریک کیے گئے جو کووِڈ 19 میں مبتلا تھے۔

نزلہ، زکام اور کھانسی کے مریضوں کو ’جنہُوا کِنجن گرینولس‘ دن میں تین مرتبہ، ہر کھانے کے بعد، ابلے ہوئے پانی میں حل کرکے پلائی جاتی ہے۔ اس دوا کی ہر خوراک صرف 5 گرام پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ یہ علاج زیادہ سے زیادہ 10 دن تک جاری رکھا جاتا ہے۔

کراچی میں طبّی آزمائشوں کے دوران 150 رضاکاروں کو اصل ’جنہُوا کِنجن گرینولس‘ دوا دی گئی، 150 کو فرضی دوا (پلاسیبو) دی گئی، جبکہ 102 رضاکاروں کو دوا دیئے بغیر مشاہدے میں رکھا گیا۔

پیر کے روز پریس کانفرنس میں ان ہی آزمائشوں کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں