کم عمری میں ’سن یاس‘ سے ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ ہوجاتا ہے، تحقیق

واشنگٹن ڈی سی / بیجنگ: چینی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جن خواتین میں معمول کی عمر سے پہلے سن یاس (مینوپاز) شروع ہوجاتا ہے، ان میں دیگر خواتین کی نسبت ڈیمنشیا کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ خواتین میں سن یاس (مینوپاز) شروع ہونے کی اوسط عالمی عمر 50 سال کے لگ بھگ ہے، تاہم بہت سی خواتین میں اس سے پہلے اور بعد میں سن یاس کی ابتداء ہوتی ہے۔

سن یاس کی قبل از وقت ابتداء کو خواتین کی صحت کے نقطہ نگاہ سے بہتر خیال نہیں کیا جاتا۔
جینان، چین کی شینڈونگ یونیورسٹی کی وینٹنگ ہاؤ اور ان کے ساتھیوں نے ’یو کے بایوبینک‘ نامی اوپن سورس ڈیٹا بیس میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ خواتین کی صحت سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا جو 2006 سے 2010 کے دوران جمع کی گئی تھیں۔

ان معلومات کا محتاط تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جن خواتین میں 40 سال سے کم عمر سن یاس کا آغاز ہوگیا تھا، ان کےلیے بڑھاپے میں ڈیمنشیا کا خطرہ بھی دوسری خواتین سے 35 فیصد زیادہ تھا کہ جن میں اوسط عمر پر سن یاس شروع ہوا تھا۔

اسی طرح 45 سال سے قبل سن یاس شروع ہونے والی خواتین کےلیے 65 سال کی عمر میں ڈیمنشیا کا خطرہ، نارمل خواتین کے مقابلے میں 1.3 گنا (130 فیصد) زیادہ تھا۔

البتہ 52 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سن یاس کی ابتداء ہونے پر خواتین میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً وہی تھا کہ جتنا 50 سے 51 سال میں سن یاس کی ابتداء کا مشاہدہ کرنے والی خواتین کےلیے تھا۔

سن یاس شروع ہوجانے کے بعد خواتین میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فالج میں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہونے کو بنیاد بناتے ہوئے، ماہرین کا خیال تھا کہ ان عورتوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ بھی زیادہ ہوگا۔ تاہم نئی تحقیق سے سن یاس، فالج اور ڈیمنشیا میں باہمی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

نوٹ: یہ تحقیق گزشتہ دنوں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے تحت منعقد ہونے والی ایک عالمی طبّی کانفرنس میں پیش کی جاچکی ہے تاہم اب تک اسے باقاعدہ طور پر کسی ریسرچ جرنل میں شائع نہیں کروایا گیا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں