امریکی سازش کے جھوٹ کا جواب

”وزیراعظم عمران خان نے آج وزیراعظم ہاوس میں37ویں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں وفاقی وزیر دفاع، انرجی ، اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، ہیومن رائٹس، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس ، نیشنل سیکورٹی ایڈوائز اور سینئر آفیسرز نے شرکت کی۔

نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر نے کمیٹی کو بیرونی ملک کے پاکستانی سفیر کے ساتھ متعلقہ ملک میں میٹنگ کے دوران باقاعدہ گفتگو کے بارے میں بریف کیا، جو سفیرنے دفتر خارجہ کو بھیجا تھا۔کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بیرونی ملک(کے افسر کی طرف سے ) اس طرح کی زبان کا استعمال پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے زمرے میں آتی ہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان مناسب ڈپلومیٹنگ چینلز کے ذریعے متعلقہ ملک سے پاکستان میں سفارتخانے اور خود متعلقہ ملک کے اندر احتجاج ریکارڈ کرائے گا۔ کمیٹی نے کابینہ کے30مارچ کے وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کی بھی تائید کی کہ اس ایشو سے متعلق پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا“

یہ اس پریس ریلیز کا اردو ترجمہ ہے جو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے31مارچ کومیڈیا کو جاری کی گئی حالانکہ اس طرح کےا جلاس کے بعد اعلامیہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے دفتر سے جاری کیا جاتا ہے ۔ اس میں اگر کسی جگہ سازش کا پھر حکومت بدلنے یا پھر عدم اعتماد وغیرہ کا ذکر ہو تو عمران خان یا ان کے ترجمان دکھادیں۔

آج عمران خان اور ان کے ساتھی اسد عمر اس کمیٹی کے اجلاس سے متعلق جھوٹے دعوے کررہے ہیں تو وہ اس پریس ریلیز کا حصہ کیوں نہیں ۔ اس پریس ریلیز کو خود وزیراعظم ہاؤس نے تیار کیا اور اسی کی طرف سے جاری ہوئی ۔ اس پریس ریلیز میں سازش میں ریجیم چینج کے الفاظ کیوں نہیں؟۔ حالانکہ اس اجلاس کے حوالے سے بھی عمران خان نے پوری چالاکی سے کام لیا ۔

مثلاً نیشنل سیکورٹی کے ممبران میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے علاوہ وزیر خارجہ ، وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات ممبر ہوتے ہیں لیکن اس روز عمران خان نے اجلاس میں اپنے ہمنوائوں اور من پسندوزیروں کو بھی بلایا جبکہ اصل متعلقہ وزیر یعنی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود نہیں تھے ۔

اس اجلاس میں عمران خان اور ان کےساتھیوں نے پورا زور لگایا کہ سروسز چیفس کو سازش کے مفروضے پر ہمنوا بناسکیں لیکن ظاہر ہے کہ نہ صرف ڈی جی آئی ایس آئی حقائق کا انبار لائے تھے بلکہ ان کے ساتھ واشنگٹن کے سفارتخانے میں موجود ڈیفنس اٹیچی کا ان پٹ بھی موجود تھا اور ان سب کو ریجیم چینج کا مفروضہ غلط لگ رہا تھا ، اس لئے کوئی بھی اس جھوٹے بیانئے کو ماننے کو تیار نہ ہوا ۔

میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس کے منٹس تمام شرکا کو تقسیم کئے جائیں گے تاکہ ان کے دستخط لئے جاسکیں ، یہ معمول کی کارروائی ہوتی ہے لیکن عمران خان نے منٹس شرکا کو نہیں بھجوائے اور اپنے چہیتوں اور مشیروں کے ساتھ بیٹھ کر مذکورہ پریس ریلیز جاری کی لیکن چونکہ میٹنگ میں سازش اور ریجیم چینج کے مفروضے کو سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی نے غلط قرار دیا تھا.

اس لئےپریس ریلیز میں بھی سازش کا ذکر نہ کرسکے۔ اب جبکہ کبھی عمران خان، کبھی شیخ رشید اور کبھی اسد عمر وغیرہ اپنے جھوٹ کے بیانئے (جس کے سفارتی، معاشی اور سب سے بڑھ کر نیشنل سیکورٹی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں) پر سروسز چیفس کو گواہ بنائیں گے تو ان سب کا ترجمان یعنی ڈی جی آئی ایس پی آر وضاحت تو کرے گا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اگر پورا سچ سامنے رکھ دیا تو عمران خان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔

پہلی بات تو یہ کہ مداخلت اور سازش میں فرق ہے ۔ مداخلت وہ ہوتی ہے جو سامنے نظر آجائے اور سازش درپردہ ہوتی ہے ۔ مثلاً بعض اوقات کسی دوسرے ملک کے کسی عہدیدار کے پاکستان کے بارے میں ریمارکس کو بھی مداخلت سمجھا جاتا ہے۔

چند روز قبل افغانستان کے طالبان کی حکومت نے پاکستانی سفیر کو طلب کیا اور پاکستانی طیاروں کی ٹی ٹی پی کے خلاف بمباری کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے کر احتجاج کیا لیکن اس کا یہ مطلب نہ طالبان نے لیا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کہ پاکستان طالبان کی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔

جب پہلی مرتبہ آصف علی زرداری روس جارہے تھے تو امریکہ اتنا ناراض تھا کہ ہیلری کلنٹن نے خود فون کرکے آصف علی زرداری سے کہا کہ اگر وہ روس گئے تو پھر دونوں حکومتوں کا ساتھ چلنا مشکل ہوجائے گا لیکن کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ نے اس کے بعد زرداری حکومت کو گرا دیا؟

ایٹمی دھماکوں سے قبل امریکہ نے نواز شریف کو لالچ بھی دی اور دھماکوں کرنے کی صورت میں بدترین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں لیکن کیا اس کے بعد انہوں نے نواز شریف کو حکومت سے نکالا؟۔دوسری بات یہ کہ امریکہ جیسے ممالک بیانات کو نہیں دیکھتے بلکہ جو ان کے مفادات کے خلاف کرے تب اس کے خلاف سازش کرتے ہیں ۔

اب عمران خان نے جتنی خدمت امریکہ کی کی ہے کسی حکومت نے نہیں کی انہوں نے تو چین کے ساتھ تعلقات خراب کرکے سی پیک کے منصوبوں کی تفصیلات آئی ایم ایف کے ذریعے امریکہ سے شئیر کیں۔

امریکی بے وقوف نہیں کہ وہ ایسی حکومت کو گراتے جس کو لانے کیلئے انہوں نے گولڈ سمتھ وغیرہ کے ذریعے 20 سالہ سرمایہ کاری کی تھی ۔ امریکہ نے حکومت بدلنے کی سازش کرنی ہوتی ہے تو وہ پہلے سے سفیر کو بلا کر اطلاع نہیں دیتا۔نارتھ کوریا کی حکومت بدلنا چاہتا ہے تو اس کے سفیر کو نہیں بتاتا ۔ وہ ایران کی حکومت کو بدلنا چاہ رہا تھا تو سفیر کو بلا کر اطلاع نہیں دے رہا تھا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ عمران خان کی دیکھا دیکھی اب ان کی خوشنودی کے لئے ان کے اسد عمر جیسے ہمنوائوں نے بھی جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے، تازہ ترین جھوٹ اسد عمر نے یہ بولا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں موجودہ ایک باوردی افسر نے بھی سازش کے موقف کی تائید کی ۔ اس باوردی افسر سے میں نے خود بات کی۔

وہ ایک پروفیشنل ،کم گو اور محب وطن انسان ہیں ۔ان کی کریڈیبیلیٹی اسد عمر سے ہزار گنا زیادہ ہے اور اللّٰہ گواہ ہے کہ میری براہ راست معلومات کے مطابق اسد عمر ان اس باوردی افسر سے متعلق آدھا سچ بول کر اور بات کو غلط رنگ دے کر فساد پھیلارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں