کراچی میں نوعمر لڑکی کی پراسرار طور پر گلے میں پھندا لگی لاش برآمد

کراچی: اورنگی ٹاؤن میں گھر سے نوعمر لڑکی کی پراسرار طور پر گلے میں پھندا لگی ہوئی لاش برآمد ہوئی ہے۔

پولیس نے سیکٹر ساڑھے گیارہ نشان حیدر چوک کے قریب ایک گھر سے لاش برآمد کرنے کے بعد ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کردی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او پاکستان بازار اخلاق احمد نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 13 سالہ انوشہ دختر اختر کے نام سے ہوئی ہے جس کے گلے میں دوپٹے کا پھندا لگا تھا۔

مزیدپڑھیں: کراچی میں لڑکی کے قتل کا ملزم گرفتار، حسد میں قتل کرنے کا اعتراف

انہوں نے بتایا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا متوفیہ اور اس کا چھوٹا بھائی گھر پرتھا اور پڑوس متوفیہ کی نانی بھی رہائش پذیر ہیں اور انھوں نے بچی کی لاش دیکھ کراس کے گلے سے پھندا کھولا تھا۔

ایس ایچ او کے مطابق متوفیہ کا والد کارپینٹر ہے جو کہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا جبکہ متوفیہ کی والدہ کا 3 ماہ قبل بیماری کی وجہ سے انتقال ہوا تھا جس کے بعد بچے گھر میں اکیلے ہی رہتے تھے ۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے واقعہ کو قتل سے جوڑا ہے۔ ایس ایس پی ویسٹ سہائے عزیز نے واقعہ کے تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی جعفر بلوچ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاندان انتہائی کسمپری کی زندگی گزار رہا ہے اور ان کے گھر میں برتن تک نہیں ہیں جبکہ متوفیہ کے چھوٹے بھائیوں کا بیان بھی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 6 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کا عدالت میں اقبال جرم

علاوہ ازیں متوفیہ کے چھوٹے بھائیوں سے صحافیوں کو بتایا کہ ایک لڑکا گھر پر آیا تھا اور بہن کو زمین پر لٹا کر گلا دبا رہا تھا جو چڑھائی کی جانب سے آیا تھا۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا بچوں کے بیان میں جو انکشاف کیا گیا ہے اس پر پولیس نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں لیکن کوئی اہم کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

ڈی ایس پی جعفر بلوچ نے بتایا کہ لاش کے ابتدائی معائنے میں لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جبکہ وقوعہ سے بھی ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ کہا جا سکے کہ متوفیہ نے خودکشی کی ہے جبکہ گردن کی ہڈی ایک جانب سے ٹوٹی ہوئی پائی گئی اور شبہ ہے کہ انوشہ کو گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں