ڈولتی اور ڈوبتی معیشت

پاکستانی سیاست اور معیشت دونوں کو سمجھنا آسان ہے نہ سلجھانا آسان۔مفتاح اسماعیل صاحب نے وزیر خزانہ بن کر جو بجٹ پیش فرمایا‘وہ مذاق بن کر رہ گیا ہے۔لگتا ہے کہ خواہشات اور جذبات کو ہندسوں کی شکل دے دی گئی تھی‘آئی ایم ایف نے جب اعتراضات اٹھائے‘ تو ترمیمات کی بارش ہو گئی۔ اب تیرہ بڑی صنعتوں پر10فیصد سپر ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ محاصل میں465ارب روپے کا اضافہ کیا جا سکے۔ یقین دلایا گیا ہے کہ یہ صرف ایک سال کے لیے ہے‘لیکن جن پر ٹیکس لگا ہے انہیں یقین نہیں آ رہا‘ سمجھا جا رہا ہے کہ اگر حکومت کو چسکا پڑ گیا تو پھر وہ اسے معمول بنا سکتی ہے کہ پاکستان میں حکومت نامی شے کی کوئی کریڈیبلٹی باقی نہیں رہی۔اس سے کسی بھی وقت کچھ بھی سرزد ہو سکتا ہے۔ جنرل ضیا الحق نے جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر یعنی سی ایم ایل اے کے طور پر اقتدار سنبھالا‘ تو پے در پے ضابطوں کی وجہ سے ان کے منصب کو ”کینسل مائی لاسٹ انائونسمنٹ‘‘ کا مخفف کہا جانے لگا کہ کوئی بھی نیا ضابطہ جاری ہو کر پرانے کی نفی کر دیتا تھا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اس طرح کی حرکت میں برکت یہ کہہ کر ڈالی کہ ”یو ٹرن‘‘ کو کمال قرار دے دیا‘ان کا خیال تھا کہ راستہ بدلنا‘ یا بات بدلنا لیڈر شپ کی کمزوری نہیں طاقت ہے‘ کہ مقصد حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنا چاہیے۔اس پر تنقید کرنے والے تنقید کرتے رہے لیکن خان صاحب کم از کم اس بات کے پکّے رہے کہ لیڈرکو اس کے الفاظ میں باندھا نہیں جا سکتا۔اس بات کو یکسر غلط بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اپنی غلطیوں پر ڈٹ جانے کا نام عقلمندی نہیں ہے۔اگر لیڈر کو یہ احساس ہو جائے کہ اس نے کوئی اقدام غلط کر لیا ہے یا اس کا نتیجہ حسب ِ خواہش نہیں نکلا تو اسے تبدیلی کا حق ہونا چاہیے‘لکیر کا فقیر بن کر آپ بادشاہ تو نہیں بن سکتے‘فقیر کے فقیر ہی رہیں گے۔
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی‘ ہر تبدیلی کو آنکھ بند کر کے وعدہ خلافی اور کہہ مکرنی نہیں کہہ سکتے۔ حکمت اور دھوکہ دہی میں فرق واضح رہے تو لوگ بھی اس کی داد دینے لگتے ہیں‘ دونوں میں بنیادی فرق نیت کا ہوتا ہے۔اگر بات بدلنے والے پر یقین ہو تو پھر دھوکہ دہی بھی حکمت بن جاتی ہے‘اور اگر یقین نہ رہے تو حکمت بھی دھوکہ دہی قرار پاتی ہے‘یہی وجہ ہے کہ کسی بھی لیڈر یعنی سیاست دان کے اندھے پیروکار‘اور ناقد اس کے کسی بھی اقدام یا فیصلے کی مختلف تعبیرات تلاش کر لیتے ہیں۔ عشاق دھوکہ دہی اور کہہ مکرنی کو بھی حکمت اور بصیرت کا نام دے سکتے ہیں‘جبکہ مخالف حکمت اور بصیرت کو بھی دھوکے اور جھوٹ کا نام دینے سے نہیں چوکتے۔
چند ماہ کیا چند ہفتے پہلے تک موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں اپوزیشن میں تھیں اور حکومت کے لتّے لینے کو اپنا فرضِ اولین قرار دیتی تھیں۔ ہر مشکل کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیا جاتا تھا‘اور ہر ناکامی ان کی ناتجربہ کاری کے کھاتے میں ڈال دی جاتی تھی‘ جبکہ خان صاحب اور ان کے رفقا‘ فواد چودھری‘اسد عمر‘فرخ حبیب وغیرہ اپنی کامیابیوں کے ڈھول بجاتے نہیں تھکتے تھے‘وہ مشکلات کی ذمہ داری بین الاقوامی حالات پر ڈال رہے تھے۔ تیل اگر بین الاقوامی منڈی میں مہنگا ہو گا تو پاکستان کو بھی مہنگا ملے گا‘اس کے نتیجے میں بجلی مہنگی ہو گی اور دوسری اشیا بھی۔ اپوزیشن ایک نہیں سنتی تھی‘اب وہ اپوزیشن حکومت میں ہے تو خان صاحب اور ان کے ہم نوا اس کی ایک نہیں سن رہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو نہ عمران خان یکسر غلط کہہ رہے تھے‘اور نہ موجودہ حکومت غلط بیانی کر رہی ہے۔ ہماری معیشت میں اگر سکت ہوتی‘زرمبادلہ کے ذخائر اربوں ڈالر کی صورت محفوظ ہوتے‘ برآمدات درآمدات کے مقابلے میں زیادہ چلی آ رہی ہوتیں‘ہمیں اپنے معاملات چلانے کے لیے قرض کی ضرورت نہ ہوتی‘ تو ہم بین الاقوامی حالات کی یلغار کو پسپا کر دیتے۔ جمع پونجی کو کام میں لاتے اور ہنستے کھیلتے مشکلات کا دریا عبور کر جاتے۔اگر اندرونی کھاتوں میں بھی سرپلس ہوتا‘مجموعی قومی پیداوار میں سے خاطر خواہ محصولات وصول کی جا رہی ہوتیں تو بھی معاملہ مختلف ہوتا۔لیکن جہاں معاملہ یہ ہو اور برسوں سے چلا آ رہا ہو کہ بیرونی کھاتوں میں بھی خسارہ‘اور اندرونی کھاتوں میں بھی خسارہ‘ تو پھر وہاں واویلا جو بھی مچایا جائے کسی کے ہاتھ تو کچھ آنے سے رہا۔نہ صرف ہماری برآمدات کے مقابلے میں درآمدات زیادہ ہیں‘ اور بہت زیادہ ہیں‘ہمارے داخلی وسائل بھی ہمارا خرچ چلانے کے لیے ناکافی ہیں۔ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچتا ہے‘اس سے دفاعی اخراجات پورے کریں تو انتظامی‘ ترقیاتی بجٹ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے‘دوسری ضروریات پر توجہ دینا بھی ممکن نہیں رہتا۔ صوبوں کو ان کے حصے کی ادائیگی کے بعد وفاق ”یتیم خانہ‘‘ بن جاتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو بحران حکومتی سے زیادہ ریاستی ہے۔ قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ اسی لیے تو ہو رہا ہے کہ ہم آج بھی اپنے اخراجات کے مطابق وسائل پیدا نہیں کر پا رہے۔تقریریں کرنے‘ نعرے لگانے‘لانگ مارچ کرنے‘ایک دوسرے کو دھتاّ بنانے سے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے نہ ہو گا۔کسی کے ہاتھ کچھ آیا ہے نہ آئے گا۔آبادی میں بے تحاشا اضافہ الگ ہے‘ کہ ہر سال کھانے والے منہ کمانے والے ہاتھوں کے مقابلے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کھانے والا منہ تو بچے کے پیدا ہوتے ہی حرکت میں آ جاتا ہے‘ جبکہ کمانے والے ہاتھ بیس سے پچیس سال بعد کچھ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کی طرف کسی کی توجہ ہے ہی نہیں‘اہل ِ سیاست اس کا نوٹس لے رہے ہیں نہ اہل ِ صحافت‘ قیام پاکستان کے وقت (موجودہ) پاکستان کی آبادی ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ تھی‘جو اب کئی گنا بڑھ چکی ہے‘ اور تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ایسے افراد لاکھوں کی تعداد میں وجود میں آ رہے ہیں جن کے لیے سکول ہے‘ نہ ہسپتال‘ زمین ہے نہ کاروبار۔ ایک بڑی تعداد جھگیوں میں رہ رہی ہے‘جہاں پانی ہے نہ بجلی‘ باورچی خانہ تو کیا غسل خانہ بھی نہیں ہے۔اس ماحول میں بسنے والے کیا بنیں گے اور کیاکریں گے‘ کسی کو اس پر دھیان دینے کی فرصت ہے نہ ضرورت۔
ہمارے بڑے بڑوں نے سب کچھ دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ عوام الناس کو تو رکھیے ایک طرف کہ انہیں ورغلایا جا سکتا ہے‘سبز باغوں سے بہلایا جا سکتا ہے‘ جھوٹ کے سمندر سے مچھلیاں پکڑنے پر لگایا جا سکتا ہے‘وہ جو سب کچھ سمجھتے ہیں‘ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں‘ وہ بھی اپنے حال میں مگن ہیں۔ ذاتی یا گروہی مفاد کو قومی مفاد سمجھ کر دل بہلا رہے ہیں۔ سرد جنگ کا زمانہ ختم ہوا‘ اپنے جغرافیے کی روٹی ہم بہت کھا چکے‘ اب تو اپنے ہاتھ سے گندم بونا‘ چکی پیسنا‘ آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا ہو گی۔لڑتے بھڑتے سیاست دانوں کا ہاتھ پکڑنا ہو گا‘ گریبانوں تک پہنچنے والے ہاتھوں کو مشقت کا عادی بنانا ہو گا۔اگروہ اپنے آپ کو نہ بدلیں تو پھر کوئی نیوٹرل نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا پڑے گا کہ اب پاکستان کو پسینہ بہانے والوں کی ضرورت ہے۔خون دینے والے خون بہت دے چکے!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں